زمیں پر آسماں کب تک رہے گا،
یہ حیرت کا مکاں کب تک رہے گا۔
نظر کب آشنائے رنگ ہوگی،
تماشائے خزاں کب تک رہے گا۔
رہے گی گرمیٔ انفاس کب تک،
رگوں میں خوں رواں کب تک رہے گا۔
حقیقت کب اثر انداز ہوگی،
خسارے میں جہاں کب تک رہے گا۔
بدل جائیں گے یہ دن رات اجملؔ،
کوئی نا مہرباں کب تک رہے گا۔
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر
ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں
ہم اگر منزلیں نہ بن پائے
منزلوں تک کا راستا ہو جائیں
عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا
خاک ہو جائیں کیمیا ہو جائیں
احمد فراز