والا 70 فیصد سامان اب مقامی پیداوار پر مشتمل ہے۔
ازبکستان کے ساتھ 1.2 ارب ڈالر کی ریکارڈ برآمدات کے دور میں ملکی مینوفیکچرنگ اور فیکٹریوں کا یہ فروغ افغان معیشت پر عالمی پابندیوں کے اثرات کو یکسر ناکام بنا رہا ہے۔
ہرات کے انڈسٹریل سٹی میں قائم 'شیریں شاد' فیکٹری نے روزانہ 150 ٹن ٹماٹروں کو پروسیس کر کے 25 ٹن ٹماٹر پیسٹ تیار کرنے کا ریکارڈ قائم کر دیا۔
چیمبر آف انڈسٹریز کے مطابق ہرات میں ٹماٹر پیسٹ اور جیم کے 13 بڑے کارخانے فعال ہو چکے ہیں۔
جب کہ ہرات کے بڑے اسٹورز میں فروخت ہونے والا 70
پاکستانی فوج نے ہماری حدود کی خلاف ورزی کی اور ہمیں اپنا دفاع کرنے کا حق تھا، لیکن ہم جارحیت کے خواہاں نہیں، سفارتی تعلقات اور گفت و شنید کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں اور یہ پیغام ہم بار بار دے چکے ہیں اور اس پر پُرعزم ہیں۔
مکمل رپورٹ کا لنک:
https://t.co/DnOyQvXHKx
کابل کی اقتصادی سفارت کاری نے معاشی تنہائی کا مستقل خاتمہ کر دیا
مبصرین کے مطابق تورخم پر پاکستان کے 2.5 ارب ڈالر کے معاشی خسارے اور ایران سے پیشین بارڈر پر تعطل کے برعکس کابل کی وسطی ایشیائی تجارتی لہر خطے میں طاقت کا توازن بدل رہی ہے
ازبک سرکاری کمیٹی برائے شماریات کے مطابق رواں سال کے پہلے 7 ماہ میں افغانستان اور ازبکستان کا تجارتی حجم 1.2 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو گیا
تاشقند رپورٹ کے مطابق افغانستان اس وقت ازبکستان کا 5واں بڑا عالمی تجارتی پارٹنر بن چکا، جس میں چین اور روس سرفہرست ہیں
کابل کی اقتصادی
اپنے پاکستانی پناہ دہندگان وزیرستانیوں کو دربدر کر رہے ہیں۔'
پاکستانی فوج کا یہ دوغلا پن ثابت کرتا ہے کہ اس کا اصل مقصد مہاجرین سے ہم دردی نہیں، بلکہ امارتِ اسلامی کو ہر حال میں بدنام کرنا کا کوئی نہ کوئی منافقانہ بہانہ بنائے رکھنا ہے۔
مکمل جواب کا لنک:
https://t.co/Wz67Sm7Sn5
پا��ستانی فوج کے منافقت کی حد تک تضاد کی انتہا یہ ہے کہ جن لوگوں کو کل تک اپنے ہی ملک سے ہجرت پر مجبور کیا گیا، سرحد پار بھی انہیں 'دہشت گرد' کہہ کر بمباریاں کی گئیں اور امارت سے انہیں سرحد سے دور کرنے کا تقاضا کیا گیا۔
انہی لوگوں کو جب امارت نے سرحد سے ہٹا کر اندرونی علاقوں میں
منتقل کرنا شروع کیا تو پاکستان کے میڈیا اور فوجی پروپیگنڈا اکاؤنٹس نے فوراً پانسہ پلٹ لیا!
• جنہیں کچھ دن پہلے تک عسکریت پسند کہہ کر بمباری کا جائز ہدف کہا جا رہا تھا، راتوں رات اِنہیں امارت کے 'مظلوم محسن' بنا کر یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا کہ:
'طالبان افغان جہاد کے دوران
دکان داروں کے اموال و معاشی حقوق کے قانونی تحفظ کے لیے دباؤ بڑھایا۔
مبصرین کے مطابق تورخم بارڈر پر معاشی بحران کے درمیان مہاجرین کے اثاثوں کا یہ مسئلہ خطے میں دونوں پڑوسیوں کے مابین سفارتی توازن اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کا بڑا سفارتی ایکشن؛
پنجاب کے ضلع چکوال میں افغان مہاجرین کے تجارتی سامان اور اموال کی نیلامی کا معاملہ پاکستان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھا دیا۔
کابل سے روانہ ہون�� والے افغان سفارتی وفد نے چکوال کا دورہ کر کے مقامی انتظامیہ سے ملاقات کی اور افغان
اور جنگوں میں کابل کی مدد کو بھول جانا سفارتی منافقت ہے۔ پاکستان کو اب اپنی بقا کے لیے مستحکم افغانستان کی ضرورت ہے۔
مبصرین کے مطابق تورخم پر 2.5 ارب ڈالر کے معاشی خسارے کے بعد مولانا کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ ملکی سیاسی و مذہبی قیادت اب بارڈر ناکہ بندیوں کی سخت مخالف ہو چکی ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد کے اسٹریٹجک بیانیے پر کڑا وار:
پاکستان بھارت کے خلاف 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں افغانستان کی تاریخی اور تزویراتی حمایت کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ میں دہائیوں پرانے مخالف ووٹ کو یاد رکھنا
جب کہ 7.7 ارب روپے کا کسٹمز ریونیو بھی ڈوب گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایران اور ازبکستان کی کابل کے ساتھ بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک تجارت کے دور میں اسلام آباد کی بارڈر بندش کی یہ پالیسی ملکی تاجروں اور کارگو ڈرائیوروں کو مفلوج کر رہی ہے۔
خیبر چیمبر آف کامرس کے صدر یوسف آفریدی کا سنسنی خیز انکشاف:
افغانستان کے ساتھ تورخم بارڈر کی مسلسل بندش سے پاکستان کو اب تک 2.5 ارب ڈالر کا بدترین معاشی خسارہ ہو چکا ہے۔
اس بڑے نقصان میں ملکی برآمدات میں 1.644 ارب ڈالر اور درآمدات میں 817 ملین ڈالر کی تاریخی کمی واقع ہوئی ہے،
امن متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
مبصرین کے مطابق چترال اور پشین کی حالیہ سرحدی کشیدگی کے درمیان کابل کا یہ سخت سفارتی و عسکری مؤقف خطے میں دونوں ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے شدید تزویراتی تناؤ کا عکاس ہے۔
افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع کا بڑا دعوی:
صوبہ بدخشان اور ڈیورنڈ لائن کے قریبی اضلاع کو غیر مستحکم کرنے کی پاکستان کی کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق بدخشان اور تاجکستان سے متصل بین الاقوامی سرحد پر سکیورٹی کی صورت حال مکمل نارمل ہے، کابل کسی کو ملکی
پاکستان کے زیر انتطام بلوچستان سے بلوچ آزادی پسندوں نے پاکستان سے آئے ہوئے ایک فوجی قافلے کے قتل بارے رونگٹے کھڑے کر دینے والی ویڈیو نشر کی اور کہا کہ یہ ٹریلر ہے، اصل پکچر بعد میں نشر کریں گے
اس منظر کے بعد پاکستانی عوام نے فوج سے اپنے پیاروں کو نکالنے بارے سوچنا شروع کر دیا ہے
عاصم منیر عسکری رجیم کی ترجیحات پر سنگین عوامی سوالات اٹھاتی ہے۔
واقعے کے بعد پاک ایران ہائی وے پر سیکیورٹی ہائی الرٹ، کسٹمز نیٹ ورک کی بحالی اور حملہ آوروں کے خاتمے کے لیے فرنٹیر کانسٹیبلری کا گرینڈ سیکیورٹی آپریشن جا��ی ہے۔
بلوچستان کے سرحدی معاشی کوریڈور سے بڑی الرٹ:
مسلح بلوچ عسکریت پسندوں کا وفاقی کسٹمز اسٹیشن پر بڑا حملہ، سیکیورٹی چوکیاں تباہ کر کے اپنا پرچم لہرانے کا دعوی۔
پشین حملے اور چترال میں چوکیوں کی تباہی کے بعد کسٹمز اسٹیشن پر یہ بالادستی صوبے میں پھیلے شدید سکیورٹی بریک ڈاؤن پر عاصم
وحشیانہ تشدد کا حق کس نے دیا ہے؟'
مبصرین کے مطابق حالیہ ملکی سکیورٹی بحران کے مابین ایسے اخلاقی جرائم پولیس فورس کی ساکھ کو شدید متاثر کرتے ہیں۔
محکمے میں کڑے تادیبی احتساب اور قانون کی رٹ وقت کی ضرورت ہے۔
پنجاب پولیس کارندے کی جانب سے بزرگ شہری کے سینے پر زور دار تھپڑ مارنے اور بدسلوکی کی ویڈیو وائرل ہونے پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ۔
شہریوں کا شدید ردِعمل:
عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں اور مراعات لینے والے کارندوں کو معصوم اور معمر شہریوں کی تذلیل اور ان پر