@realDonaldTrump Donald Trump unlawfully attacked a foreign country, putting American lives at risk and bypassing Congress and the Constitution. His reckless actions are not leadership — they’re a dangerous abuse of power. You are a war criminal
بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو باہر جانے کی ہدایت کر دی۔ بلاول نے پی ٹی آئی کارکنوں کے حوالے سے گفتگو میں نرم لہجہ اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اتنی اکڑ اور رعونت مناسب نہیں.
Shocking scenes from Bara. Targeting pro-democracy protesters with gunfire is a grave violation of people’s rights. The rulers are fueling division and unrest to hold on to power
ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کارروائی کے دوران پولیس اہلکار مظاہرین کے گھیرے میں آگئے، جہاں اہلکاروں کو لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنایا.
باڑہ میں احتجاج کا مسلسل تیسرا دن، عوام بدستور سڑکوں پر موجود ہیں۔ رکنِ اسمبلی عبدالغنی آفریدی کے بارے میں واضح پیغام کہ وہ روپوش نہیں، بلکہ احتجاجی میدان میں عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بشام میں پی ٹی آئی کے ممبر شوکت یوسفزئی کے گھر پر پولیس کی کارروائی، بھائی لیاقت یوسفزئی کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اہلکار گھر کا سامان توڑ پھوڑ کا نشانہ بنا رہے ہیں اور الماریوں تک کی تلاشی لے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کو چاہیے کہ عوامی مینڈیٹ کے احترام، آئین کی بالادستی اور منتخب نمائندوں کے حقیقی اختیارات کے لیے پارلیمان سے احتجاجاً استعفوں پر غور کرے۔ اگر اسمبلیوں میں رہ کر عوام کے حقوق کا تحفظ ممکن نہیں تو ایک پُرامن اور آئینی عوامی تحریک کے ذریعے جدوجہد جاری رکھی جائے۔ عہدوں اور مراعات سے بڑھ کر اصول، انصاف اور حقیقی جمہوریت اہم ہیں۔ اب فیصلہ قیادت نے کرنا ہے کہ وہ موجودہ نظام کا حصہ رہے گی یا عوامی حقوق کے لیے نئی جدوجہد کا آغاز کرے گی۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق، گورنر راج نافذ ہونے سے پہلے سہیل آفریدی سے گفتگو ہوئی تھی۔ انہیں خبردار کیا گیا کہ صوبے میں گورنر راج لگایا جا سکتا ہے، جس پر سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ اگر ایسا کرنا ہے تو کر لیں، ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس شق کو تسلیم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ایم این اے اقبال آفریدی کا کہنا ہے کہ کل تک پارٹی قیادت آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کر لے گی، لہٰذا سب کو اس فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں، ہماری پہلی ترجیح عمران خان کی رہائی ہے، اور اس کے بعد حقیقی آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔
اسد طور کے مطابق، ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ ایک رات پہلے ہی ہو چکا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو پہلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا کہ صبح ایمرجنسی لگنے کے بعد انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ اس صورتحال میں دونوں نے خود گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا، جبکہ باقی ساتھیوں کو وہاں سے جانے کا کہا۔ روانگی سے قبل دونوں نے دیگر رہنماؤں سے الوداعی ملاقات بھی کی۔ اسد طور کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کو دھوکے سے بلا کر گرفتار کرنے کا دعویٰ درست نہیں۔
10 اگست کو منتخب وزیر اعلی سہیل آفریدی نے واضح کہا تھا کہ گرفتاری کی صورت میں ان کی ریکارڈ شدہ ویڈیوز سامنے آ جائیں گی۔ اب جن لوگوں کے پاس یہ ویڈیوز موجود ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے یہ ویڈیوز عوام کے سامنے پیش کریں۔
یوتھ ونگ اور آئی ایس ایف کے مرکزی صدور، جنرل سیکرٹریز، مرکزی کابینہ، خیبرپختونخوا کے صوبائی صدور، جنرل سیکرٹریز، صوبائی و ریجنل کابینہ، ضلعی کابینہ اور پی ٹی آئی کے تمام تنظیمی عہدیدار کہاں ہیں؟ 92 ایم پی ایز، صوبائی حکومت کے 31 وزراء، مشیران اور معاونینِ خصوصی کہاں ہیں؟
سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے ایم پی ایز اور این این ایز ہاسٹل میں خصوصی سرکاری کمروں میں رہنے والے غیر منتخب افراد، سہیل آفریدی کے ساتھ نظر آنے والے سوشل میڈیا کے چند تیز مار خان، عہدوں سے نوازے جانے والے وڈیرے اور مالدار لوگ، مخصوص نشستوں پر مراعات لینے والی خواتین آخر آج یہ سب کہاں غائب ہیں؟
جب حکومت ہوتی ہے تو یہی لوگ خود کو وفادار اور نظریاتی کہتے ہیں، مگر آج جب عمران خان اور سہیل آفریدی کو ضرورت ہے تو عوام کو قیادت چاہیے اور یہ سب بزدل چھپ کر بیٹھے ہیں۔ کارکن سڑکوں پر ہیں، قربانیاں دے رہے ہیں، تو پھر قیادت کہاں ہے؟
گورنر راج ختم ہوتے ہی تمام عہدے داروں کا اچانک منظر سے غائب ہو جانا محض اتفاق ہے یا کسی سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا حصہ؟ جو لوگ بڑے بڑے دعوے کرتے تھے، وہ مشکل وقت میں کہاں چلے گئے؟ کیا مقصد اپنی کرسی، سیاست اور مفادات کا تحفظ تھا، یا صوبے کی ذمہ داریوں اور عمران خان کی رہائی کی تحریک سے جان چھڑانا؟ عوام کو اب نعروں کی نہیں، ان سوالات کے واضح جواب کی ضرورت ہے!