خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں سرکاری اسکولوں کی بدترین زبوں حالی نے صوبائی حکومت کی تعلیمی ترجیحات کا پول کھول دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے اپنے آبائی ضلع میں متعدد اسکول آج بھی بنیادی ترین سہولیات سے محروم ہیں، جہاں فرنیچر، ڈیسک اور کرسیاں نہ ہونے کے باعث معصوم بچیاں سخت موسم میں ناہموار فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
کلاس رومز میں بجلی، مناسب روشنی اور صفائی کا فقدان تدریسی عمل کو شدید متاثر کر رہا ہے جبکہ عمارتوں کی مخدوش حالت نے والدین اور اساتذہ کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے صوبائی قیادت کی ترجیحات پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران تعلیم جیسے اہم شعبے کو سنبھالنے کے بجائے لانگ مارچ، دھرنوں اور سیاسی محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔ والدین اور سول سوسائٹی نے حکومت اور محکمہ تعلیم سے فوری نوٹس لینے اور اسکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کے حالیہ آپریشن میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر سامنے آ گئی ہے، جس نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف جاری منظم سرحد پار دہشت گردی کے ناقابلِ تردید ثبوت ایک بار پھر عیاں کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق 5 اکتوبر کو فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائی میں ہلاک دو اہم خارجی کمانڈرز کا تعلق افغانستان سے نکلا ہے، جن کی شناخت پکتیا کے رہائشی صفت اللہ عرف سیف اللہ جمشید اور عمر فدائی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ان خارجیوں کے افغانستان میں روابط اس وقت کھل کر سامنے آئے جب پکتیا کے ضلع ج��نی خیل میں صفت اللہ کے لیے باقاعدہ تعزیتی اجتماع رکھا گیا، جہاں فتنۃ الخوارج کے پرچم اور پوسٹرز کھلے عام آویزاں کیے گئے۔
اس سے قبل شمالی وزیرستان میں مارے گئے خارجیوں میں قندھار کا رہائشی حافظ محب اللہ اور گل بہادر گروپ کا کمانڈر عبداللہ جان بھی شامل تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث 257 سے زائد افغان شہریوں کی شناخت پہلے ہی ہو چکی ہے، جبکہ افغانستان میں ان ہلاکتوں کی کھلے عام پذیرائی نے شدت پسندوں کو افغان سرپرستی اور محفوظ پناہ گاہیں ملنے کے سنگین سوالات کو ایک بار پھر تصدیق کر دیا ہے۔
برطانیہ کے شہر برسٹل کی عدالت نے 17 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی اور ہیومن ٹریفکنگ کے جرم میں افغان نژاد ملزمان کو سخت سزائیں سنا دی ہیں۔ محراب صافی کو 15 سال، سلمان حبیب خیل کو 9 سال اور اول احمد زئی کو 9 سال قید کی سزا دی گئی۔
ملزمان واقعے کے بعد مال بردار لاری میں چھپ کر فرانس فرار ہو گئے تھے، جہاں سے فرانسیسی حکام نے انہیں گرفتار کر کے برطانیہ کے حوالے کیا۔ یورپ میں غیر قانونی پناہ گزینوں کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
پنجشیر کی وادی آرزو میں طالبان رجیم کو بڑا عسکری دھچکا لگا ہے، جہاں مزاحمتی تنظیم 'افغان گرین ٹرینڈ' نے کارروائی کرتے ہوئے طالبان کے زیرِ استعمال ��ھارتی ساختہ 'چیتا ہیلی کاپٹر' کو مار گرایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملے میں طالبان ایئر فورس کے چیف آف اسٹاف ملا قبلہ اللہ مقیم اور دو پائلٹس (عبدالعظیم اور محمد نعیم) شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر روسی ساختہ Mi-17 ہیلی کاپٹر کے ذریعے کابل منتقل کیا گیا۔ اس اہم کارروائی نے دو بڑے حقائق بے نقاب کر دیے ہیں: اول یہ کہ طالبان رجیم اب باقاعدہ طور پر بھارتی عسکری ساز و سامان اور ہیلی کاپٹرز کا استعمال کر رہی ہے، اور دوم یہ کہ دن دہاڑے اہم ترین فضائی کمانڈر کو نشانہ بنا کر پنجشیر میں بڑھتی ہوئی مزاحمت نے طالبان کے مکمل کنٹرول کے کھوکھلے دعووں اور فضائی دفاعی صلاحیتوں کا پول کھول دیا ہے۔
لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں ملازمت دلا��ے کے بہانے خاتون اور اس کی معذور بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم صدام حسین کو بابر چوک کے قریب سے گرفتار کر لیا ہے۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن اسد علی کے مطابق ملزم نے ملازمت کا جھانسہ دے کر خاتون سے تعلقات قائم کیے اور بعد ازاں خاتون کی غیر موجودگی میں اس کی معذور بیٹی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ ملزم نے گزشتہ روز خاتون کو دھمکیاں دیتے ہوئے ��س کا بھی جنسی استحصال کیا۔ پولیس نے اطلاع ملتے ہی مقدمہ درج کر کے ملزم کو جینڈر سیل کے حوالے کر دیا ہے، جبکہ ایس پی کا کہنا ہے کہ خواتین اور معذور افراد پر ظلم کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور ملزم کو سخت ترین سزا دلوائی جائے گی۔
پشاور کی ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ریگی کے علاقے میں ناکارہ اور پرانے دھماکہ خیز مواد کو محفوظ طریقے سے کنٹرولڈ انداز میں تلف (Disposal) کیا جا رہا ہے۔
حکام نے الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو مطلع کیا ہے کہ آپریشن کے دوران دھماکوں کی آوازیں سنائی دے سکتی ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے خوف و ہراس کا شکار نہ ہوں اور افواہوں پر کان نہ دھریں، کیونکہ صورتحال مکمل طور پر سیکیورٹی اداروں کے قابو اور نگرانی میں ہے۔
بھارتی سینما کے معروف اور لیجنڈری اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط اپنے شاندار فلمی کیریئر میں انہوں نے درجنوں یادگار کردار ادا کیے اور اپنی منفرد اداکاری سے کروڑوں مداحوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔
’کرانتی ویر‘، ’پرندہ‘، ’اب تک چھپن‘، ’ویلکم‘ سمیت متعدد کامیاب فلموں میں ان کی اداکاری آج بھی شائقین کے لیے یادگار ہے۔
نانا پاٹیکر کے انتقال کی خبر پر بھارتی فلمی دنیا اور مداحوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ایک عہد کا اختتام، ایک لیجنڈ ہمیشہ کے لیے یادوں میں زندہ۔
#NanaPatekar #Bollywood #IndianCinema #RIPNanaPatekar
غزہ پر قابض صیہونی فورسز کی وحشیانہ بمباری اور ناکہ بندی کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں، مگر اہلِ فلسطین کی غیر متزلزل جدوجہد اور قربانیوں کا سلسلہ آج بھی تاریخ کا نیا باب رقم کر رہا ہے۔مسلسل بمباری، تباہی اور بے سروسامانی کے باوجود فلسطینی عوام اپنے مؤقف اور حقِ خودارادیت پر ڈٹے ہوئے ہیں اور امتِ مسلمہ سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور جیسی شجاعت، غیرت اور تاریخی مدد کے منتظر ہیں۔
وہاں کی عوام نے یہ ثابت کردیا ہے کہ خوف میں جینے والے کبھی آزاد نہیں ہو سکتے، اور فلسطینی شہدا کا لہو تاریخ میں مزاحمت، آزادی اور استقامت کی علامت بن کر زندہ رہے گا۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن ریاست کو بلیک میل یا یرغمال بنا کر شرائط منوانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی؛ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر سنجیدہ مذاکرات کی میز پر آئے۔
رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی پر وفاق پر دوبارہ چڑھائی کی کوشش اور خیبر ��ختونخوا کے سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے جاری انتشار کی سیاست کو عوام نے مسترد کر دیا ہے اور 4 اکتوبر سے کوششوں کے باوجود تحریک انصاف چند ہزار افراد ہی لا سکی ہے۔ صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک طرف فورسز، پولیس اور شہریوں کے لاشے گر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت اسلام آباد پر لشکر کشی میں مصروف ہے۔ رانا ثنا اللہ نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ افغان عبوری حکومت پر واضح کر دیا گیا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، جبکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ نے خیبر پختونخوا کے پورے انتظامی اور حکومتی ڈھانچے کو یرغمال بنا لیا ہے، جہاں صوبائی حکومت عوامی مسائل اور گورننس کو پسِ پشت ڈال کر مکمل طور پر احتجاجی سیاست میں الجھ چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ، صوبائی وزرا اور مشیروں کی لانگ مارچ میں مصروفیات اور دفاتر سے مسلسل غیر حاضری کے باعث صوبائی کابینہ کا اجلاس معطل ہے، جبکہ درجنوں اہم پالیسی سمریاں اور فائلیں التوا کی نذر ہو چکی ہیں۔ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (P&D) اور پی ڈبلیو پی کے اجلاس نہ ہونے سے صوبے کے متعدد اہم ترقیاتی منصوبے اور فنڈز منجمد ہو کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی اور عوامی حلقوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری حکومتی مشینری کو اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے جھونک کر عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے نزدیک عوامی فلاح پر ذاتی و سیاسی ایجنڈا حاوی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے احتجاجی لانگ مارچ کے لیے صوبے کے سرکاری اور عوامی وسائل کے کھلے استعمال پر شدید عوامی و سیاسی ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبائی حکومت نے ایمرجنسی سروس 'ریسکیو 1122' کی درجنوں ایمبولینسز، کرینیں، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور بھاری مشینری مارچ کے قافلوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف روانہ کر دی ہے۔
شہریوں اور سیاسی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جس صوبے میں دہشت گردی اور روزمرہ ایمرجنسیز کے دوران عوام بنیادی طبی و امدادی سہولیات کو ترس رہے ہیں، وہاں قیمتی لائف سیونگ ایمبولینسز اور سرکاری مشینری کو محض سیاسی ایجنڈے اور کنٹینرز ہٹانے کے لیے استعمال کرنا عوام کے ٹیکسوں اور جانوں کے ساتھ کھلوار ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں اور ہنگامی سروسز کو سیاسی مقاصد کے لیے جھونکنا نہ صرف بدانتظامی کا بدترین نمونہ ہے بلکہ آئینی و اخلاقی حدود کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
خیبر پختونخوا سے شروع ہونے والے تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں پارٹی کی مرکزی و صوبائی قیادت اور منتخب نمائندوں کی پراسرار عدم شرکت نے تنظیم کے اندر گہرے بحران اور اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت متعدد صفِ اول کے رہنما تاحال مارچ کے منظر نامے سے غائب ہیں، جبکہ پنجاب کے 115 اراکینِ صوبائی اسمبلی کی پراسرار خاموشی نے احتجاج کو عملاً صرف کے پی تک محدود کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق رہنماؤں اور کارکنوں کی سرد مہری کے بعد وزیراعلیٰ کی سوشل میڈیا ٹیم کو لانگ مارچ میں شریک ارکان کی سخت نگرانی کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔ ٹیم باقاعدہ جانچ کر رہی ہے کہ کون سا رہنما کتنے کارکن لے کر آیا، کتنی دیر رکا اور کون صرف ویڈیو بنا کر واپس لوٹ گیا۔ صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے وقت گزاری کرنے والے رہنماؤں پر کھلے تحفظات اور ویمنز ونگ میں عہدے لینے والی خواتین کی غیر حاضری پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق سوال اب اسلام آباد پہنچنے کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی اپنی ہی منتشر قیادت کو ایک کنٹینر پر اکٹھا کر پائے گی؟
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین انسدادِ دہشت گردی اور سیاسی معاملات پر اتفاق ہو چکا تھا، مگر آخری لمحات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے پیش کردہ نئی شرائط کے باعث بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت، ملاقاتوں اور مقدمات پر توقع سے زیادہ لچک دکھانے کو تیار تھی، لیکن کے پی قیادت نے پیش رفت سبوتاژ کر دی۔ طلال چوہدری نے خبردار کیا کہ حالیہ لانگ مارچ کے بعد ملک میں دوبارہ مارچ نہیں ہوگا اور انتشار پھیلانے والوں کے خلاف ریاست کی رٹ ہر صورت نافذ کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ دفاعی تعلقات کو متنازع بنا کر "اسرائیل کی طرف سے لڑنے" کا جھوٹا بیانیہ پھیلانے کی کوشش بے نقاب ہو گئی ہے۔
دفاعی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ حوثی خطرات کے خلاف سعودی عرب کا ساتھ دینا اس کی سلامتی اور دہائیوں پرانے باہمی معاہدوں کا حصہ ہے، جس کا اسرائیل یا غزہ جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔ سعودی عرب 2015 سے اپنی سرحدوں اور اہم سمندری گزرگاہوں کا دفاع کر رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ برادر اسلامی ملک کی خودمختاری کا ساتھ دیا ہے جبکہ فلسطینی کاز اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کا تاریخی مؤقف آج بھی دوٹوک اور غیر متزلزل ہے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کو ملکی معیشت کے لیے زہرِ قاتل قرار دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ احتجاجی سیاست کا پہلا نشانہ معیشت بنتی ہے، جس سے برآمدات، درآمدات اور مینوفیکچرنگ کا عمل رک جاتا ہے، اور جب مزدور یا انجینئر فیکٹریوں اور دفاتر میں نہیں پہنچ پاتا تو براہِ راست نقصان ملک و قوم کا ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے پی ٹی آئی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور دھرنوں و لانگ مارچ کو ختم کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر انتشار اور احتجاج ختم کیا جائے تو حکومت ان کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کے لیے تیار ہے تاکہ ملک دیانت، محنت اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے کارکن نے احتجاجی کیمپ کے اندر سے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے صوبائی قیادت اور پارٹی اراکینِ اسمبلی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کارکن کا کہنا تھا کہ بنوں، کرک اور ڈی آئی خان کے نامزد زونز سے احتجاج کی کال دی گئی تھی، مگر کیمپ میں محض چند لوگ موجود ہیں جبکہ قائدین مکمل طور پر غائب ہیں۔
کارکن نے پارٹی قیادت ��ر مالی بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے انکشاف کیا کہ عوام سے جمع کیے گئے تقریباً ایک ارب 30 کروڑ روپے کے فنڈز کا کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں خرچ ہوئے، جبکہ پنڈال میں بیٹھے چند کارکنوں کے لیے نہ کھانے پینے کا بندوبست ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات۔ اس کا کہنا تھا کہ ایم پی ایز اور وزراء محض فوٹو سیشن اور میڈیا میں بیانات تک محدود ہیں، جس کی وجہ سے یہ نام نہاد احتجاج مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ مظاہرین اٹک سے آگے بڑھ کر دکھائیں، انتشار پسندوں کو اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ 20 لاکھ افراد لانے کے دعوے جھوٹے نکلے اور سڑکوں پر عوامی حمایت کا فقدان ہے۔ صوبہ دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے جبکہ صوبائی حکومت وفاق پر چڑھائی میں مصروف ہے۔ گورنر کے پی نے خبردار کیا کہ اگر امن و امان داؤ پر لگا تو آئینی تقاضوں کے تحت صوبے میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ریاض میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مابین قائم 'مکہ الائنس فار ڈیفنس' کی اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سعودی عرب کو لاحق سیکیورٹی خطرات اور دفاعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے ایک اہم پیش رفت کے تحت پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو تین سالہ مدت کے لیے الائنس کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کر دیا ہے۔ اجلاس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت سعودی شہروں، معاشی و شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی اور مملکت کی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کو دہرایا گیا۔
تینوں برادر ممالک نے اجتماعی دفاع کے وعدوں پر فوری عمل درآمد شروع کرنے اور طے شدہ عسکری فورسز و جنگی صلاحیتوں کو تیزی سے سعودی عرب میں تعینات کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ایک رکن ملک کی سیکیورٹی تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا لازمی حصہ ہے، اور یہ مشترکہ دفاعی اقدامات خطے میں دشمنوں کے خلاف مؤثر دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے پری ٹرائل چیمبر II نے افغانستان میں انسانی حقوق اور خواتین کے منظم استحصا�� کے تناظر میں افغان طالبان کے سپریم لیڈر سمیت 4 اعلیٰ ترین رہنماؤں کے جاری کردہ وارنٹِ گرفتاری کو باضابطہ طور پر پبلک کر دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق سپریم لیڈر ہبت اللہ اخونزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ 8 جولائی 2025 کو، جبکہ وزیرِ تعلیم حبیب اللہ آغا اور وزیرِ اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم کے وارنٹ 9 ستمبر 2025 کو خفیہ طور پر جاری کیے گئے تھے، جنہیں اب عوام کے سامنے لایا گیا ہے۔ عدالت نے ان رہنماؤں کو خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، نقل و حرکت، اظہارِ رائے اور خاندانی زندگی جیسے بنیادی حقوق سے محروم کرنے، صنفی و سیاسی بنیادوں پر انسانیت کے خلاف مظالم ڈھانے، قید، تشدد اور جبری گمشدگیوں کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق وزرائے تعلیم کے وارنٹس کے افشا ہونے سے طالبان کی سفارتی قبولیت، عالمی ساکھ اور قانونی حیثیت پر ناقابلِ تلافی ضرب لگی ہے۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ اور سیاسی کشیدگی کے خلاف صوبائی دارالحکومت کی تاجر برادری کھل کر میدان میں آ گئی ہے۔ اسمبلی چوک پشاور میں تاجروں نے لانگ مارچ اور راستوں کی بندش کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر ٹائر نذرِ آتش کر دیے اور خیبر روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
مظاہرین نے صوبائی حکومت کی معاشی بے حسی اور سیاسی احتجاج کے خ��اف شدید نعرے بازی کی۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کے پی کا اربوں روپے کا تجارتی لین دین پنجاب کے ساتھ وابستہ ہے، لیکن سڑکیں و راستے بند ہونے سے صوبے کا کاروبار مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے۔ تاجروں نے گلہ شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جانب پنجاب کی وزیر اعلیٰ تو باقاعدگی سے تاجروں سے رابطے میں رہتی ہیں، مگر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے پاس تاجروں کے مسائل سننے کی کوئی فرصت نہیں۔ تاجر برادری نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے معاشی مسائل اور راستوں کی بندش کا فوری حل نہ نکالا گیا تو عوام کو ساتھ ملا کر احتجاج کا دائرہ کار پورے صوبے تک پھیلا دیا جائے گا۔