ناموسِ رسالت ﷺ اور عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ ہمارے ایمان کی سرخ لکیر ہے۔
قوانین 295-A اور 295-C کا تحفظ ہماری غیرتِ ایمانی کا تقاضا ہے۔
ہم اپنے آقا ﷺ کی حرمت پر نہ پہلے کبھی سمجھوتہ کیا تھا، نہ آئندہ کریں گے۔ ثابت قدمی ہمارا ماضی بھی تھی اور ہمارا حال بھی ہے۔💯
@6_RShoaib
ناموسِ رسالت ﷺ اور ختمِ نبوت ﷺ ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہیں۔
قوانین 295-A اور 295-C کی حرمت اور تحفظ ہمارے لیے نہایت اہم ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ عاشقانِ رسول ﷺ نے ہمیشہ ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے ثابت قدمی دکھائی ہے۔ ہم اپنے آقا ﷺ کی حرمت کے تحفظ کے عزم پر قائم رہیں گے۔
کراچی کو لسانی فساد میں جھلسانے کے بعد مصطفیٰ کمال کو وفاقی وزیرِ صحت بناکر پورے ملک پر مسلط کیا گیا اور نتیجہ سانحہ PIMs میں معصوم بچوں کا زندہ جل جانا‼️
اس دل دہلا دینے والے سانحےکے ذمہ دار صرف یہ وزیر نہیں، بلکہ وہ قوتیں ہیں جو ایسے مسترد شدہ کرداروں کوملک پر مسلط کرتی ہیں🛑
حساس کیس پر بار بار ججز کی تبدیلی اور چھٹیوں کا عذر پیش کر کے سماعت اکتوبر تک لٹکانا انصاف کو دھچکا ہے۔ جج چھٹی پر جائے مگر فیصلہ تو سنا کر جائے کہ ریاست رضوی برادران کی جبری گمشدگی اور تشویش کا جواب کیوں نہیں دے رہی یا پھر جج صاحب بھی حکومت اور اداروں کی مرضی سے حکم سناتے ہیں
لاہور ہائی کورٹ میں ٹی ایل پی قائدین کی جبری گمشدگی سے متعلق کیس میں سماعت چھٹیوں اور عدم دستیابی کے عذر کی بنیاد پر 15 اکتوبر 2026 تک ملتوی۔ وکلاء کی طرف سے زندگی کو لاحق خطرات اور 318 دن سے گمشدگی کا مؤقف پیش کیے جانے کے باوجود عدالت نے اگلی تاریخ تقریباً 49 دن بعد مقرر کی ہے،
@6_RShoaib یہ اسی ملک کا خاصہ ہے اقتدار پر براجمان لوگ یہاں آئین اور قانون کے ساتھ نظام کو بہتر بنانے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن جب318 دن سے جبری گمشدگی اور زندگی کو لاحق خطرات جیسی حقیقت سے آگاہ کیا جائےتو اور اس پر مزید 49 دن بعد کی تاریخ ملتی ہےاور کہاجاتا ہے جج صاحب نےچھٹیوں پر جانا ہے🖐🏿
لاہور ہائی کورٹ میں ٹی ایل پی قائدین کی جبری گمشدگی سے متعلق کیس میں سماعت چھٹیوں اور عدم دستیابی کے عذر کی بنیاد پر 15 اکتوبر 2026 تک ملتوی۔ وکلاء کی طرف سے زندگی کو لاحق خطرات اور 318 دن سے گمشدگی کا مؤقف پیش کیے جانے کے باوجود عدالت نے اگلی تاریخ تقریباً 49 دن بعد مقرر کی ہے،
لاہور ہائی کورٹ میں جبری گمشدگی کے کیس کی سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
وکلا نے بتایا کہ دونوں قائدین 318 دن سے لاپتا ہیں اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
عدالت سے فوری کارروائی کی اپیل کے باوجود سماعت آگے بڑھا دی گئی۔
15 اکتوبر تک گمشدگی کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہوگا۔