ڈان اخبار میں خبر چھپی ہے کہ تیل کے بیوپاری پیٹرول کی قیمت کم ہونے پر ناراض ہیں، اور انہوں نے حکومت کو احتجاجی مراسلہ بھیجا کہ ہمیں اعتماد میں لئے بغیر تیل کیوں سستا کیا، کہ اس سے تیل کمپنیوں کو 1 ارب کا نقصان ہوا ہے، صرف یہی نہیں ساتھ یہ دھمکی بھی لگا رہے ہیں کہ اگر اسی طرح پیٹرول مصنوعات کی قیمتیں کم ہوتی رہیں تو کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ کار نہیں آئے گا۔ یعنی تیل کا سیٹھ کہہ رہا ہے کہ اب ایک پیسہ بھی قیمت میں کمی نہ کیجیئے گا۔ سینئر صحافی نصرت جاوید کی گفتگو
#PublicNews #PublicProgram #KhabbarNashar @_AdnanHaider@javeednusrat
وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا ماننا ہے سینئر صحافیوں نے ایشو بنایا ہے ورنہ یہ ٹیلی کام بل والی اتنی بڑی بات تھی نہیں۔ان کے کہنے کا مطلب ہے سینئر صحافیوں کے پاس خبر نہ تھی تو بنالی. انہیں یہ صحافیانہ شرارت لگتی ہے۔
یہ وہ کلاسک سیاسی سوچ ہے کہ اس کلپ میں وزیرقانون اپنی غلطی مان بھی رہے ہیں اور نہیں بھی مان رہے۔ بل کے سنگین اثرات کا پاکستانی عوام کی جائیدادوں ذکر بھی ہے لیکن اسے کوئی بڑا ایشو بھی نہیں مانتے۔ ہر اعتراض مان بھی رہے ہیں لیکن انکاری بھی ہیں۔
ان کا مطلب ہے ٹیلی کام بل سینٹ نے روک دیا لیکن یہ کوئی اتنی بڑی خبر یا بات نہیں ہے۔سینر صحافیوں کی شرارت ہے۔
بل پر وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیا اور گیارہ رکنی کمیٹی بنا دی کہ غلطیاں دور کریں لیکن وزیرقانون کے نزدیک یہ کوئی اتنی بڑی خبر ہے نہیں۔
وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ صاحبہ نے تسلیم کیا اس بل میں غلطیاں ہیں جنہیں دور کریں گے ، اس بل کی زبان ٹھیک ہونے والی ہے لیکن وزیرقانون فرماتے ہیں یہ اتنی بڑی خبر ہے نہیں۔
پی پی پی کا کہنا ہے ہم اس بل کو موجودہ شکل میں سینٹ میں سپورٹ نہیں کریں گے لیکن بقول وزیرقانون یہ کوئی بڑی خبر یا بات نہیں ہے جسے سینئر صحافی رپورٹ کرتے۔
وزیرقانون کہنا چاہ رہے ہیں ہم نے بل میں ان غلطیوں کو دور کرنے کے لیے اب تک وزیراعظم کی ہدایت پر دو میٹگینز کر لی ہیں اور کل تیسری میٹنگ کریں گے لیکن یہ کوئی اتنی بڑی خبر نہیں ہے۔ بس سینئر صحافیوں کی شرارت لگتی ہے۔
پچیس کروڑ لوگوں کی جائیدادوں کے حقوق کا مسلہ تھا لیکن یہ کوئی اتنی بڑی خبر یا بات نہیں تھی کہ یہ خبر بنتی یا سینئر صحافی اس پر پروگرام کرتے۔۔ یہ صحافیانہ شرارت ہے۔۔
پورا ملک اس بل پر خوفزدہ ہے لیکن وزیرقانون مانتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔۔ صحافیوں کے پاس خبر نہ تھی تو اسے بنا لیا۔۔ 😎
@PalwashaKhan18@sherryrehman@naveedqamarmna@A_Qadir_Patel@AzamNazeerTarar@AyazSadiq122@najamsethi@SyedaAyeshaNaz1@BilalAKayani@DrTariqFazal@HinaRKhar@ShaziaAttaMarri@sharmilafaruqi@SyedAghaPPP@Nabilgabol@SyedAliZafar1@CMShehbaz@MIshaqDar50
The currency of power. How Pakistan became the world's indispensable nation- and what teaches is about prestige i the multipolar world.
Courtesy: Lim Tean
@RAShehzaddk https://t.co/qVrKVHwInB
راتب خوروں سے پوچھیں اگر بل مکمل درست تھا تو کمیٹی کیوں بنی ہے اگر وزارت قانون سے کابینہ تک منظوری دے چکی قومی اسمبلی منظور کر چکی تو اب کیوں کمیٹی بنا رہے ہیں ؟
اخلاقی طور پر ان تمام صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو فرنٹ فٹ پر آ کر اعلان کرنا چاہیئے کہ وہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اسی متنازع PTA بل کی دفعات کے تناظر میں اپنی جائیداد کرایہ پر دینے کیلئے تیار ہیں تاکہ بل کے حق میں انکی نیک نیتی حقیقی طور پر ثابت ہو سکے۔
آئو نہ ذرا سامنے
😂😂😂😂😂😂😂
متنازع ٹیلی کام بل پر وزیر اعظم کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی میں وہی افراد شامل ہیں جنہوں نے بل بنایا ہے، جن سے سوال پوچھنا چاہیے ان پر مشتمل کمیٹی بنا دی گئی، متںازع بل colonial mindset نے بنایا ہے جس میں جائیداد کے مالک کے حقوق کو مجروح کیا گیا ہے، سینئر تجزیہ کار رؤف کلاسرا
ٹیلی کام بل کی میری نظر میں سب سے خطرناک شق یہ کہ اگر موبائل کمپنی کسی جائیداد کے مالک کو خط لکھتی ہے اور وہ دو دفعہ جواب نہی دیتا تو اسے رضامندی سمجھا جائے گا اور وہ معاہدہ کہلائے گا اس کے بعد وہ شق پڑھیں جس بارے خود بتا رہے پانچ کروڑ کا جرمانہ تو معاہدے والوں پر ہے
جس ملک میں آدھی سے زیادہ آبادی پڑھ لکھ نہی سکتی وہاں کوئی ای میل یا لیٹر اگنور ہونے سے اسے رضامندی یا معاہدہ کیسے تصور کر لیا جائے ؟
یہ آپ سب کی جائیدادوں پر ایک تلوار لٹکانے جیسا کام ہے راتب خوروں کو چھوڑیں خود بل پڑھیں
ایک بندہ غلط ہو سکتا دو غلط ہو سکتے مگر یہاں تو وہ لوگ جو تیس چالیس سال سے پارلیمنٹ کور کر رہے وہ صحافی کہہ رہے کہ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے جیسا معاملہ ہے اور وہ حیران رہ گئے ہیں کہ حکومت کی ہر سطح پر اس بل پر کسی نے کوئی اعتراض نہی کیا ہے
آئیں واپس آمریت/بادشاہت کی طرف چلیں👇👇👇👇
متنازع PTA ترمیمی بل کے ذریعے ایک اور واردات/ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جس پر ابھی تک قوم کا دھیان نہیں پڑھا۔
اس متنازع ترمیمی بل کے ذریعے مرکزی قانون کی دفعہ 43 میں ترمیم کر کے وفاقی حکومت کا کردار بھی ختم کر دیا گیا ہے اور صرف اسے وزیر اعظم تک محدود کر دیا گیا ہے یعنی ایک شخص مینیج کرنا، ہینڈل کرنا آسان ہوتا ہے۔ زیر نظر تصویر کو غور سے دیکھیں، وفاقی حکومت کے لفظ کو وزیر اعظم کے لفظ سے تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مافیا نے سوچا کہ اگر وفاقی حکومت کا لفظ قانون میں برقرار رہا ہے تو اس کا مطلب وفاقی کابینہ ہوگا اور اگر ہماری کوئی واردات یا ڈاکہ مارنے کا منصوبہ وفاقی کابینہ میں گیا تو ممکن ہے کہ کم از کم کوئی ایک دو غیرت مند کابینہ اراکین کھپ ڈال دیں لہذا یہ رولا ہی ختم کریں اور وفاقی کابینہ کا کردار ختم کرکے صرف فرد واحد یعنی وزیر اعظم کی منظوری لکھ دیں۔
اس مجوزہ ترمیم کے بعد تو یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ اکیلی شیزا فاطمہ یا پی پی MNAs ملوث نہیں بلکہ شہباز شریف کو بھی اس جنگل کے قانون جیسا بل پاس کروانے پر مکمل آن بورڈ لیا گیا ہے۔
نوٹ:- سپریم کے فیصلے PLD 2016 SC 808 مصطفی ایمپیکس کیس میں وزیر اعظم کے انفرادی کردار کی تشریح کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم کا انفرادی حیثیت میں کوئی کام وفاقی حکومت کا کام ہی سمجھا جائیگا اور اس کیلئے کابینہ سے منظوری لازمی قانونی تقاضا ہے، وزیر اعظم کا انفرادی کردار زیرو کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی تشریح کی روشنی میں اگر PTA ترمیمی بل میں وفاقی حکومت کی جگہ وزیر لفظ تبدیل کر بھی دیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا
چاچو نے حسب روایت ایک کمیٹی بنا دی ہے جس میں تقریباً وہ تمام لوگ شامل ہیں جنہوں نے پہلے مرحلے میں یہ متنازعہ ٹیلی کام بل پاس کیا تھا۔ اس میں شیریں رحمان کا نام بھی ہے۔ شیریں پی پی کی سینیٹ کی اس کمیٹی کی ہیڈ ہیں جو قوانین دیکھتی ہے اور اسی سے بل نکلا تھا۔ لوگ شیریں پر بھی الزام لگاتے ہیں کہ ان کے شوہر ندیم حسین کا اس میں مفاد تھا۔ ان کی کمپنی Planet N Group ایک ٹیکنالوجی انویسٹمنٹ فرم ہے جو فِن ٹیک، ای کامرس، ایڈ ٹیک وغیرہ میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ اس نے Telenor کے اشتراک سے EasyPaisa لانچ کیا جو پاکستان کا سب سے بڑا موبائل پیمنٹس اور برانچ لیس بین킹 پلیٹ فارم بن گیا۔ قصہ مختصر ان کا بھی کانفلیکف آف انٹرسٹ بنتا ہے
جہاں شور پڑا وہ پلوشہ والی قائمہ کمیٹی الگ ہے۔ شیریں پی پی کی سینیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن بھی ہیں۔
اس قوم کی عجیب ستم ظریفی ہے وزیر خزانہ پر الزام لگتا ہے کہ وہ IMF سے مذاکرات کیلئے جاتے ہیں تو اپنی نوکری پکی اور قوم کا ستیاناس کر آتے ہیں، سیکرٹری IT جو کہ خود متعدد ٹیلی کام کمپنیوں میں کام کر چکے ہیں ان پر اور خود میڈم منسٹر پر الزام لگتا ہے کہ کمپنیوں سے مبینہ رشوت پکڑ کر قوم کو ٹیکہ لگا لیتے ہیں، حکومت پر الزام لگتا ہے IPPs سے مبینہ پیسے لے کر سولر سسٹم کا ستیاناس کرتے ہیں، ہوچھنا تھا کوئی وطن پرست بھی ہے یا سارے مفاد پرست ٹکر گئے ہیں؟
شزا فاطمہ اور حکومتی ٹیم جھوٹ بول رہی ہیں۔۔
بل کی 27 اے ون میں لکھا ہوا ہے کہ کمپنیوں کو اختیار ہوگا کہ وہ پبلک اور پرائیویٹ جگہ زیر استعمال لا سکیں۔ پرائیویٹ جگہ کی تعریف دفعہ 2 کی ضمنی دفعہ qb میں کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ پرائیویٹ جگہ کا مطلب عام شہریوں کی ہر قسم کی جائیداد ہوگی۔
اب 27 اے کی ضمنی دفعہ 2 میں لکھا ہوا ہے کہ جائیداد کا کوئی مالک یا اتھارٹی 27 اے ون میں کمپنی کو حاصل اختیار میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔
اب 27 اے کی ضمنی دفعہ 3 میں طریقہ لکھا ہوا کہ کمپنی کسی شہری کو ای میل یا تحریری خط لکھے گی کہ ہمیں یہ جگہ درکار ہے، خاموشی پر ایک یاد دہانی ای میل یا خط لکھے گی، اگر شہری خاموش رہا تو اسے معاہدہ منظور سمجھا جائیگا۔اب 27 بی میں واضح لکھا ہوا ہے کہ جو کوئی بھی معاہدہ میں رکاوٹ ڈالے گا یا 27اے کے تحت کمپنی کو حاصل ہوگئے ہوئے حقوق میں تاخیر پیدا کرے گا، اس پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائیگا۔۔۔
یہ سب کچھ لکھا ہونے کے بعد حکومت کیسے کہہ سکتی ہے کہ نہیں لکھا ہوا۔۔۔
چوری پکڑنے جانے پر اب حکومت جھوٹ بول رہی ہے۔