https://t.co/7GyLquGMEq
ابتک یہ بات واضع ہو چکی ہے کہ ھفتے اور اتوار کی درمیانی رات پاکستان کے اصل وزیراعظم کو اڈیالہ سے PIMS لے جایاگیا، اور ایک سرجیکل پروسیجر کیا گیا، مگر جیل اور حکومت خاموش ہیں اور عدالت مردہ ہو چکی ہے! یہ ہے وہ پاکستان جسے زندہ کرنے کے لئے عمران خان نے اپنی زندگی قربان کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے!
ٹرمپ کی شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی تعریفوں پر حیرانی تھی۔ پھر
سورۃ البقرہ کی یہ آیت 120 سامنے آ گئی
"یہود و نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو"
قرآن نے سمجھایا یہ انکے طریقوں پر چلے ہیں تو ٹرمپ شرمپ راضی تو ہونگے
#اللہ_کو_کیا_جواب_دو_گے
جو مسلمان ممالک ٹرمپ کے بورڈ کا حصہ ہیں یہ اہل فلسطین کو بچانے نہیں گئے، دھوکے بازی نہیں چلے، موجودہ رجیم کی طاقت کا سر چشمہ عوام نہیں بلکہ امریکہ ہے۔ سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس جعفری
وہ موم کی طرح ختم ہورہا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے وہ رفتہ رفتہ سرک رہا ہے۔ ہم اسکی روانگی کی محسوس کررہے ہیں۔ ہمیں اسکے جانے کے آثار دکھائی دیتے ہیں ، ہمارے کانوں میں سرگوشیاں سی سنائی دیتی ہیں۔ ہماری سبھی حسیات اشارے دے رہی ہیں کہ دیکھو دیکھو وہ آہستہ آہستہ بجھ رہا ہے۔
نہیں نہیں ، یہ آسمان پر چمکتے ہوئے سورج کی بات نہیں ہورہی۔ یہ لوگوں کے دلوں میں پیوست کی بات نہیں ہورہی۔ جو فولاد ہے وہ موم کی طرح کیوں پگھلے گا؟ جس کا کلہ اللہ نے سینوں میں ٹھوک رکھا ہے وہ کیوں سرکے گا؟ یہ جو آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے یہ تو ظلم کی کالی رات ہے۔ وہ جو بجھ رہا ہے وہ تو چھینے گئے تیل سے جلنے والا ٹھیکرا ہے۔
ابھی کیا ہی دن گزرے ہوں گے کس رعونت سے کہتے تھے ہو رہے ہیں آپریشن ، ہوں گے آپریشن اور آج اپنے انہی دعووں سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ چار سال جس بہتری کے دعوے کیے وہ معاشی تباہی ابتری بن کر منہ پر چپکی ہوئی ہے۔ جس کی سرپرستی پر اچھلتے پھرتے تھے اس نے پہلے جھولی میں بٹھایا تھوڑا سا لبھایا اور اب بورڈ آف پیس کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ وہ ذلت سمیٹنے جارہے ہیں جس کا بوجھ ساری زندگی نہیں اترے گا۔
نفرت اور بداعتمادی کے پیمانے نہیں ہوتے۔ یہ فوجی فاونڈیشن کے شئیرز کی فروخت کی طرح نہیں بتائی جاسکتی۔ اسکی عاصم منیر کی ذہنیت سے زیادہ گرے ہوئے گروتھ ریٹ کی طرح نمبرز نہیں بتائے جاسکتے۔ نفرت کی بُو ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ یہ محسوس ہوتی ہے اور پھر ایک دن یہ نتیجہ خیر بھی ثابت ہوتی ہے۔
جھوٹے وعدوں کا انبار اب مضحکہ خیز دعوؤں میں بدل چکا۔ سرمایہ کاری کیا آنی تھی جو لوٹ کھسوٹ تھی وہ بھی ہاتھوں سے نکل رہی ہے۔ کسان کا سانس بند ہے۔ہمسایہ ممالک سے تجارت بند ہے، سی پیک بند ہے۔ کوئی ایک ، کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں جو تنزلی کا شکار نہیں۔ انصاف نہیں ، آزادی نہیں ، برابری نہیں ، امید نہیں۔
دنیا کا کوئی فارمولا ، کوئی کیلکولیٹر ، کوئی فلسفہ ، تاریخ کا کوئی سا سبق اٹھا کر دیکھ لیں۔ جہاں تنزلی ہی تنزلی ہو وہاں ایک دن پورا سسٹم دھڑام سے گرتا ہے۔ فرعون بنے بیٹھے ذہنی مریض بھی گرتے ہیں۔ بھلے آخر میں گرتے ہیں لیکن گرتے ہیں۔ یہاں سے اب واپسی ہماری ہی ہے اس نظام کی نہیں۔ یہ جارہا ہے۔
اپنے وزیراعظم باپ کی سفارش سے میڈیکل کالج میں داخلہ لیکر ہیڈ پروفیسر کا ٹرانسفر کروانے والی نالائق مریم نواز جس کا واحد کارنامہ اپنے باپ کی بوٹ پالشی پر ڈائریکٹ وزیراعلیٰ لگنا ہے، برین ڈرین کی غلط تشریح کر رہی ہے۔ ظاہر ہے جس ملک میں پڑھے لکھے قابل نوجوان بیروزگار ہوں، ناقص پالیسیز سے معیشت تباہ ہو چکی ہو، حکمرانوں کی ترجیحات ذاتی عیاشیاں ہوں تو پھر قوم کو ایسی ہی تقاریر سننے کو ملیں گی۔
اہم خبر ، عمران خان کو پمز لانے کی صحافی اسد اللہ خان کی خبر کی تصدیق ڈان اخبار کے رپورٹر اکرام جنیدی نے آج ڈان پر شائع ہونے والی اپنی سٹوری میں کچھ یوں کی کہ ان کے مطابق پمز کے ایک سینئر ڈاکٹر نے عمران خان کو ہفتہ کی رات پمز میں لانے کی تصدیق کی پھر وہی رات اتوار میں داخل ہوئی تو ان کو سخت سیکورٹی میں واپس بھیجا گیا ڈاکٹر نے پروسیجر کا نہیں بتایا لیکن یہ بتایا کہ آپریشن تھیٹر کی جانب سے کسی کا داخلہ بند تھا جس مقصد کے لئے عمران خان کو لایا گیا تھا وہ مکمل کرکے ان کو واپس بھیج دیا گیا
🚨 بریکنگ:
سعودی عرب میں مسجد نبوی کے امام شیخ خالد المحنہ دعا کرتے ہیں:
"اے اللہ ہمارے فلسطین کے بھائیوں کو صیہونی جارحوں پر فتح عطا فرما، اور اپنے دشمنوں اور ایمان کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما۔"
جناب اقرارالحسن صاحب کا کہنا ہے کہ یُوتھ عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ اُنکے ساتھ ہے تو میں پی ٹی آئی کی طرف ایک گُمنام امیدوار اور جناب اقرارالحسن ایک نامی گرامی شخصیت تو آپ کسے ووٹ دینا پسند کریں گے Comment میں لازمی اپنی رائے کا اظہار کریں 🙏🙏
@iqrarulhassan
امریکہ ایرانی مظاہرین کیلئے سب کچھ کرنے کو تیار ہے کیونکہ رضا پہلوی اور مظاہرین اس کے ایجنڈا پر ہیں
امریکہ پاکستان۔میں مظاہرین کی بات نہیں کرتا کیونکہ عمران خان اور اس کے کروڑوں ساتھی امریکی مفاد میں نہیں
اسی سے پتہ چلتا ہے امریکی ٹاؤٹ کون ہیں
یہ پڑی ہیں ہماری تعلیمی ترجیحات
یکم اپریل 2025 سے شروع تعلیمی سال میں 18 جنوری 2026 تک 293 دنوں میں سے ابھی تک ہفتہ اتوار ، گرمی، سردی، گزٹیڈ اور جنگ کی چھٹیاں ملا کر 177 چھٹیاں ہو چکی ہیں جب کہ کلاسز صرف 116 دن ہوئیں
یعنی کلاسز 39.59 %
چھٹیاں 60.41 %