شہادت بی بی فاطمہ زھراہ ع
اسی پستی کے عقل و وہم میں نہ آنے اور بعض کے اس واقعے کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے بعض تاریخ لکھنے والوں نے سرے سے ہی اس حقیقت اور واقعیت کا انکار کر دیا ہے:
"" خود بدلتے نہیں، قرآن کو بدل دیتے ہیں ""
عالم اسلام کو کمزور کرنے کیلئے سعودی اسرائیل گٹھ جوڑ
عجیب اتفاق ہے کہ دنیا بھرمیں دہشت گردی، بدامنی، قتل وغارت، انسانی حقوق کی پامالی اور نفرتوں کو پروان چڑھانے والے یہ ممالک اب کھل کرشیروشکر ہوچکے ہیں اور اب انہوں نے اپنی خفیہ دوستی کا برملا اظہارکرنا بھی شروع کردیا ہے، (1/20)
کے زمانے ہی سے دین اسلام کی ترقی کا راستہ روکنے کیلئے منافقین اور مدینہ کے یہودیوں نے سازشوں کے جال بُنے اور اسلام کی آمد کےساتھ ہی یہودی اپنے شخصی اور گروہی مفادات کے تحفظ کیلئے منصوبہ بندیاں انجام دیتے چلے آئے ہیں۔
انسانی معاشرے میں عدل و انصاف پر مبنی اسلام کے سیاسی، (18/27)
مراحل کا جائزہ لیا جائے ، زیر نظر مقالے میں ہماری کوشش رہے گی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مدد سے مستند تاریخی حوالہ جات کےساتھ ان تمام سوالات کےجوابات پانے کیلئے ان کی تاریخ کا ایک تحلیلی جائزہ اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (17/27)
ہیں،آخر کیوں؟
یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو عصر حاضر کے اس حسّاس دور میں اس گروہ کے اقدامات کو دیکھتے ہوئے ہر عقلمند اور اسلام و مسلمانوں سے ہمدردی رکھنے وا��ے فرد کے ذہن میں اُٹھ رہے ہیں اور ان ہی سوالات کا جوابات پانے کیلئے ضروری ہے کہ آل سعود کی تاریخ اور ان کے تشکیلی (16/27)
دنیا کے مسلمانوں سمیت حتّی کافر حکومتیں بھی اس ظلم پر خاموش نہ رہ سکیں جبکہ حرمین شریفین کے خادم ہونے کے ان دعویٰ داروں نے اس ظلم پر کوئی عملی اقدام کرنا تو دور کی بات فقط امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایک معمولی سا بیان بھی جاری نہیں کیا؟ اور اس ظلم پرخاموش بیٹھے (15/27)
حکمرانوں کی نذر کر چکے ہیں۔۔ آخر کیوں؟
چند ماہ قبل ہی آل سعود کی طرف سے اربوں ڈالزر کے تحائف پانے والے سعودیہ کے فوجی اتحادی ، شیطان بزرگ امریکہ کی طرف سےفلسطین کے دارالحکومت قدس شریف کو اسرائیل کی ناجائز ریاست کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا جا چکا ہے اور پوری (14/27)
بجائےحجاز کی مقدّس سرزمین سے برآمد ہونے والے قدرتی ذخائر جیسےتیل اور حجاج کرام سے حج کے انتظامی ا��مور کے نام پر لی گئی رقوم پر ان مشرکین؛ اسلام دُشمن طاقتوں سے ٹریلین ڈالرز کے دفاعی معاہدےاور اسلحے کی خریداری سمیت دوستی کے عنوان سے اربوں ڈالزر کے تحائف ان قاتل (13/27)
گیا اور ان کی ہر قسم کی معاونت کو شرعی طور پر حرام قرار دے دیا گیا؟
شرک و کفر کے خلاف نعرے لگا لگا کر مسلمانوں کی جان و مال و ناموس کو رُسوا ا ور برباد کرنے والے یہ مجرم، امریکہ و اسرائیل جیسے شرک و کفر کے عالمی ٹھیکیداروں اور اسلام دُشمن حکومتوں کے خلاف لڑنے کی (12/27)
پیروکاروں کی نئی زندگی کا باعث بنے ؟
آخر کیوں آل سعو�� ، مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والی غاصب اسرائیلی ریاست کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس کے مقابل ڈٹ جانے والی سُنی المسلک حماس، اسلامی جہاد اور حزب اللہ جیسی مجاہد تنظیموں کے خلاف فتویٰ جاری کروا کر ان کو دہشت گرد قرار دیا (11/27)
سرزمین پر حکم خدا کو بجا لانے اور استکبار و طاغوت کیخلاف آواز بلند کرنے والے 400سے زیادہ خدا کے مہمانوں ��ا خون بہایا اور کبھی پوری دنیا میں مسلمانوں کے درمیان تکفیری قوتوں کو ایجاد کرکے اسلام دُشمنوں سے جاری جنگ کو مسلمان معاشروں میں داخل کرکے عالمی صیہونی شیطانی (10/27)
اور تاریخ اسلام سے مربوط ہے ، ایسےاسلامی ملک کے مسلمان عوام کا اس سفّاکیت و بربریت سے قتل عام کیوں کر رہے ہیں اور بحرین و مصر میں وہاں کے عوام کے حق کو کُچلنےکے لئےمسلمانوں کے قاتل حکمرانوں کی مالی و سیاسی سرپرستی کیوں کر رہے ہیں؟
آخرکس منطق اور دلیل کی بنیا دپر مکہ کی (9/27)
جان و مال و ناموس کو برباد کرنے کےساتھ ساتھ ہمیشہ مسلمانوں کے مقدّس مقامات پر حملے کئے اور اصحاب کرام ؒ و اہل بیت پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزارات کو ڈھانے کی ناپاک حرکت کی اور آج بھی ہر گزرتے دن کےساتھ یمن جیسے ملک کہ جو تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے اسلام (8/27)
ناموس کو پامال کرنے والے یہ تکفیری قبائلی بھیڑیے آج تک امریکہ و اسرائیل جیسے دُشمنان ِاسلام و قرآن کے کسی مفاد پر حملہ آور کیوں نہیں ہوئے؟
وہ کون سی وجوہات ہیں کہ جن کی بناء پر اس سفاک تکفیری خاندان اور اس سے وابستہ گروہوں نے اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ مسلمانوں کی (7/27)
سعود کی تاریخ پر ایک نظر
کچھ اہم سوالات ایسے ہیں جو آل سعود کی تاریخ پر ایک دقیق نگاہ ڈالنے اور ان کے وجود کی حقیقت کے بارے میں جاننے ک�� سبب بنتے ہیں، وہ سوالات یہ ہیں کہ اپنے اور اپنے پیروکاروں کے علاوہ دُنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر قرار دےکر ان کے جان و مال و عزت و (6/27)