تحریک کے پیچھے اگر منظم جماعت اور معتمد علیہ قیادت موجود نہ ہو تو غیر منظم اور مشتعل عوام کے جتھے جو ستم ڈھاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ مفاد پرست عناصر بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوتے ہیں۔اس وقت آزاد کشمیر میں عمومی صورتحال یہ ہے کہ اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں دگنی چوگنی ہو چکی ہیں جن کا سارا بوجھ غریب عوام یا عام صارف پر پڑ رہا ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز کی چاندی ہے۔ان کے کرایے تگنے ہو چکے ہیں،تاجروں کا نفع پہلے سے دگنا ہو گیا ہے،راستے میں موجود سرکاری اہلکاروں کے گلشن کا کاروبار الگ زوروں پر ہے اور دیہاڑیاں لگی ہوئی ہیں۔آپ اگر سپلائر ہیں،تاجر ہیں یا ڈیوٹی دینے والے سرکاری اہلکار ہیں، اس صورتحال نے آپ کی پانچوں گھی میں تر کر دی ہیں جبکہ عام صارف کا سر ابلتی کڑاہی میں فرائی ہو رہا ہے۔
قیادت کے بغیر تحریکیں یہ نتائج اپنے ساتھ لاتی ہیں اور اگر یہ تحریکیں نظام گرانے میں کامیاب ہو جائیں تو نیا نظام قائم کرنے کی بجائے باہم دست و گریباں ہو کر مکمل تباہی و بربادی کا باعث بن جاتی ہیں۔ظاہر ہے جو آج فسادی عناصر کو نہیں روک سکتے وہ کل جب حکومتی مشینری کو مفلوج کر دیں گے تو تب انتشاریوں کو کیسے روکیں گے؟ ایسی تحریکوں کا اختتام مکمل قیاس یعنی طوائف الملوکی یا آپ راجی پر ہوتا ہے اور جس کی لاٹھی اسکی بھینس یا جس کا جتنا داؤ چلے اتنا راج کا دور دورہ ہوتا ہے۔
کے پی کے میں عوامی فلاح و بہبود کیلئے قانون سازی ہوئی ہے:
ایم پی اے اور اس کے زوج یا زوجہ کو تاحیات بلیو پاسپورٹ ملے گا
ایم پی اے جس کیخلاف خلاف ایف ائی آر کاٹنے کا حکم دیگا ڈی پی او عمل درآمد کا پابند ہو گا
ایم پی اے سے سوال کرتے ہوتے ہوئے آداب ملحوظ نہ رکھنے والے پر پرچہ ہو گا
ایم پی اے کسی بھی سطح کے اجلاس کیلئے جس سرکاری افسر کو طلب کریگا وہ شرکت کرنے کا پابند ہو گا
کسی صحافی کو اگر طلب کیا جاتا ہے اور وہ حاضر نہیں ہوتا تو اس کے خلاف بھی ایف آئی آر کا اندراج ہو گا
ہر ایم پی اے کو بی کیٹیگری کی سیکیورٹی مہیا کی جائے گی جو ضرورت پڑنے پر اے کیٹیگری میں تبدیل کی جا سکے گی
ایم پی اے اور اس کا عملہ ملک بھر میں ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ ہو گا
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ عوامی نمائندے عوام کی بہتری کیلئے مزید ایسی قانون سازی کرتے رہیں۔الحمد للہ جمہوریت اسی طرح پھلتی پھولتی رہی تو عوام الناس بے ساختہ ڈکٹیٹرشپ کی تمنا خودبخود کرنے لگیں گے
موٹر وے کا اسلام آباد سے لاہور کا ایک سائیڈ کا ٹول ٹیکس 2150 روپے ہوگیا ہے۔کوئی سمگلر یا منشیات فروش ہی اتنا ٹول دے سکتا ہے۔
5ہزار گاڑی کا فیول اور نصف ٹول، کوئی منطق بنتی ہے بھلا۔
سارے پیسے FWOاور NHAکو چاہیئں۔
@naveedanjum1 کہ ہم بھی " chosen one" ہیں لاڈلے اور چہیتے ہیں کہ غلطی بھی کریں تب بھی اللّٰہ دیوار سیدھا کر لیتا ہے۔ نیز اس سوچ سے فرد کی زمہ داری کمزور ہونے کا خدشہ نہیں ہوتا؟
@naveedanjum1 اگر ہم پاکستان کو ایک خدائی منصوبے کے تحت دیکھتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار میں ہونے والوں کے ذاتی مفادات بھی اللہ تعالیٰ کا مقاصد پورا کر رہا ہوتا ہے، تو کیا اس سے یہ ذہنیت پیدا نہیں ہوگی جو غلط مفہمی یہودیوں کو لاحق ہوئی تھی،
پاکستان میں بسنے والی اقوام میں صرف کشمیری واحد قوم ہے جو unconditional پاکستانی ریاست اور افواج کی ہمیشہ حامی رہی ہے۔
یہ واحد قوم ہے جہاں آج تک قوم پرست سیاسی جماعت نہیں بن سکی
کبھی قوم پرستی کی پزیرائی کو سپورٹ نہیں ملی۔
ریاست کے اس پاگل پن کے بعد پتا نہیں کیا صورت بنے گی-
"آزاد کشمیر کی صورتحال"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور سے ایک دوست نے درج بالا مسئلہ پر رائے مانگی۔انھیں جو وائس نوٹ بھیجا اسے تحریری صورت میں نیچے درج کیا جا رہا ہے
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
مسئلہ یہ ہے کہ سارے پاکستان میں، خواہ کشمیر ہو یا ملک کا کوئی اور حصہ، عوام کے ساتھ نا انصافیاں تو ہر جگہ ہوتی ہیں۔
دوسری بات یہ کہ جب کوئی مسئلہ سیاسی ایشو کی صورت اختیار کرتا ہے تو اچھی چیز کو بھی برے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا عین ممکن ہوتا ہے۔ پس جو مہاجرین کی مخصوص سیٹوں کا مسئلہ ہے، اصل میں انکی حقیقی اسپرٹ کچھ اور تھی مگر انکا جو استعمال کیا گیا وہ برا تھا۔چنانچہ لوگ جو شکایتیں کر رہے ہیں، وہ بھی اپنی جگہ درست ہیں کیونکہ ماضی میں ان کا غلط استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
عمومی ناانصافی کیخلاف عوام اضطراب اور بے چینی ہر جگہ کی طرح کشمیر میں بھی پہلے ہی سے موجود ہے۔ دوسری طرف جیسے پنجاب، سندھ، بلوچستان، KPK میں ایک "فسادی مرکب عنصر" موجود ہے اسی طرح کشمیر بھی ایسے فسادی عناصر سے خالی نہیں ہے۔ کہیں وہ دین کے نام پر ہیں، کہیں قوم پرستی کے نام پر، اور کہیں کسی اور نام پر، لیکن فساد کرنے والا عنصر ہر جگہ موجود ہے۔
یہ گروہ منظم بھی ہے اور مربوط بھی۔یہ لوگوں کی بے چینی اور اضطراب کو عمومی فساد پھیلانے کے لیے ابھارنا چاہتے ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ سادہ لوح لوگ بھی ہیں جو ظلم اور نا انصافی کو ختم اور مسائل کے حل کیلئے خلوص سے کوشاں ہوتے ہیں۔جو لوگوں کے مسائل کو دیکھ کر انکے حل کرنے کے لیے سامنے آتے ہیں، لیکن درج بالا فسادی عناصر ان سادہ لوح لوگوں کو استعمال کر لیتے ہیں۔
ایک چوتھا dimension یہ ہے کہ آج کل جس بین الاقوامی کھیل میں پاکستان نے ٹانگ اڑا دی ہے اس کی وجہ سے اوس پڑوس کے پرانے دشمن اور کچھ بین الاقوامی طاقتیں بھی پاکستان سے حساب برابر کرنے کیلئے تاک میں بیٹھی ہیں۔اس لیے اس فسادی گروہ کو international support بھی مل جاتی ہے، کیونکہ پاکستان کا استحکام اس وقت دنیا کی جو evil forces ہیں ان کو پسند نہیں۔
مزید برآں اس پر مستزاد میرا ایک اور گمان بھی ہے کہ جیسے سمگلر اور کرپٹ عناصر پاکستان میں موجودہ رجیم کیخلاف ہیں اسی طرح موجودہ ایک صفحے والے بھی فوج کو سبق سکھانا چاہتے ہیں اور عمران پراجیکٹ کے کشمیر ایجنڈا کی تکمیل میں حصہ ڈال رہے ہیں
کشمیر میں جو بھی مسائل ہیں، ان کے حل کےلیے ابتدا میں ایک ایکشن کمیٹی بنی تھی جس میں وہی سادہ لوح لوگ تھے اور انکے مسائل حقیقی تھے، پھر اس میں گھس گئے قوم پرست اور ساتھ میں ہی فسادی گروہ بھی۔ ان میں extremist عناصر بھی ہیں اور عام نوجوان بھی۔
کمیٹی والے اپنی سادگی میں یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم ان لوگوں کو استعمال کر لیں گے لیکن عوام جب سڑکوں پر نکل آئے تو کھیل تخریب کاروں کے ہاتھ میں چلا گیا
پچھلی دفعہ جو تحریک چلی، وہ کامیاب بھی ہوئی، لیکن تشدد اس میں بھی ہوا۔ حالانکہ وہ پُرامن رہ کر بھی مطالبات منوا سکتے تھے، تشدد کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن فساد چاہنے والے اپنے مقصد کو پورا کر کے رہے۔
اس وقت یوں سمجھیں کہ بات ایکشن کمیٹی کے ہاتھ سے نکل کر "نامعلوم قیادت" کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔ایک mob ہوتا ہے۔ اس میں چند فسادی لوگ ہوتے ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائر کھول دیتے ہیں، اور پھر بدلے میں عوام مارے جاتے ہیں اور یہی وہ چاہتے ہیں کہ بے گناہ مارے جائیں تاکہ لوگ ریاستِ پاکستان سے متنفر ہو جائیں۔
آخری بات یہ ہے کہ آج بھی اگر کشمیر میں ریفرنڈم کرائیں تو تمام تر گلے شکووں کے باوجود ستر سے اسی فیصد لوگ پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دیں گے۔ البتہ جو پاکستان مخالف فسادی عناصر ہیں، وہ یہی چاہتے ہیں کہ جبر ہو، تشدد ہو، لوگ مارے جائیں تاکہ عوام کے دلوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پیدا ہو۔
پس نوشت:
راقم بدگمان ہے کہ پاکستان اور کشمیر کی سیاسی قیادت بھی یہی چاہتی ہے کہ فوج کی جو ساکھ معرکہ حق سے بنی وہ مٹی میں مل جائے تاکہ وہ کسی کا احتساب کرنے کے قابل نہ رہے یہی وجہ ہے کہ پولیس اور انتظامیہ حالات کے بگاڑ کی بہتری کیلئے زیادہ فعال نظر نہیں آتے۔
پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا اور کچھ یوٹیوبرز ایسا موقف پیش کر رہے ہیں جیسے سارے کشمیری غدار ہیں۔یہ عمل پاکستان کے ہمدردوں کی بجائے دشمنوں کو فائیدہ دے رہا ہے۔ان سے اپیل ہے پاکستان کے نادان دوستوں والا کام ترک کر دیں۔اس کی بھی تحقیق کی ضرورت ہے کہ برطانیہ کے خفیہ ادارے کیا کھیل کھیل رہے ہیں اور بظاہر مختلف عناصر کے درمیان تقسیم کار کا فریضہ کون انجام دے رہا ہے؟
@fawadchaudhry اس مقدمے پر اسی سال گزر گئے نتیجہ نہیں نکلا۔چنانچہ یہ طے ہے کہ کشمیر کا جب بھی فیصلہ ہونا ہے جنگ ہی سے ہونا ہے۔انڈیا نے اپنے ساتھ شامل کر لیا۔اب پاکستان بھی کر لے۔دونوں میں سے جو بزور بازو جب دوسرے والا لینے کے قابل ہو تو لے لے۔
اس بچی کی عمر 12 سال ہے۔ کل، جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی ڈرون نے اسے اور اس کے والد کو نشانہ بنایا۔ پہلی بار میں اس کے والد کو شہید کیا۔ لیکن یہ بچ گئی۔ خوفزدہ اور زخمی حالت میں، اپنی جان بچانے کے لیے بھاگی۔پھر ایک اور ڈرون نے اس کا پیچھا کیا۔اور اسے بھی شہید کر دیا۔ افسوس۔ لبنان کے مظالم وہ ہیں جن پر دنیا واویلا بھی نہیں مچاتی.
#لبنان