میں آج موت کے سائے میں بیٹھا ہوں میں نے کبھی غریب عوام کے اعتماد اور تمنائوں کو دھوکہ نہیں دیا، میرا نام اور میری عزت عوام کے ہاتھوں اور تاریخ کے سینے میں محفوظ ہے
"قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو"
#SalamShaheedBhutto#PYODistrictCentral#PPP
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی زیرِ صدارت محکمہ تعلیم کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسکول اسپیسفک بجٹ اور انتظامی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسکول اسپیسفک بجٹ (SSB) کے مؤثر استعمال کے لیے تربیت، ڈیجیٹل سسٹم کے تحت تفصیلات کا اندراج، آگاہی مہم اور ایس او پیز پر مشتمل چار نکاتی حکمت عملی پیش کی گئی۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن میں انتظامی اصلاحات کے تحت کلسٹر پالیسی پر مرحلہ وار عمل درآمد اور غیر ضروری انتظامی عہدوں کو ختم کرنے کے حوالے سے اصولی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں مالی سال 2025-26 میں 34,106 اسکولوں کے لیے جاری اسکول اسپیسفک بجٹ کے استعمال کا تفصیلی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن، محکمہ فنانس اور ٹریژری آفس کے درمیان رابطہ کاری کو بڑھایا جائے گا تاکہ ایس ایس بی کے استعمال کے حوالے سے آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ اسکول اسپیسفک بجٹ کے استعمال کے سلسلے میں ایس او پی کے ساتھ بلز جمع کروانے کے لیے ایک چیک لسٹ مرتب کی جائے گی۔ اجلاس میں محکمہ تعلیم کی مالی، انتظامی اور تدریسی اصلاحات پر عملدرآمد تیز کرنے کے مختلف اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی کی زیر صدارت سندھ کابینہ کی سب کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں سرکاری پلاٹس کی الاٹمنٹ کے باوجود الاٹیز کو قبضہ نہ دیے جانے کے مسئلے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صوبائی محتسبِ اعلیٰ اور معزز عدلیہ کی جانب سے الاٹیز کو ان کے پلاٹس کا قبضہ دیے جانے سے متعلق تمام ہدایات پر عمل درآمد کیا جائے گا، یہ ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس کا سدباب ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کے ڈی اے اور ایم ڈی اے نے کئی زمینوں پر قبضہ واگزار کروایا ہے۔ تمام اتھارٹیز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پہلے مرحلے میں ان تمام زمینوں سے قبضہ ختم کروایا جائے جہاں الاٹمنٹ ہو چکی ہے۔
وزیر محنت سعید غنی نے کہا کہ تمام اتھارٹیز کو ایک ہفتے کی مہلت دی جا رہی ہے کہ وہ اپنے تمام ایسے الاٹیز اور پلاٹس کا مکمل ریکارڈ مذکورہ کمیٹی کے پاس جمع کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ جن زمینوں پر لینڈ گریبرز قبضہ خالی نہیں کر رہے، ان سے پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے قبضہ واگزار کروایا جائے گا۔ صوبائی وزراء نے کہا کہ اس کمیٹی میں وزیر داخلہ بھی شامل ہیں اور تمام قبضہ شدہ زمینوں اور پلاٹس کی رپورٹ مرتب کر کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ جن الاٹیز کو پلاٹس الاٹ کیے جا چکے ہیں انہیں ہر صورت ان کے پلاٹس کا قبضہ دیا جائے گا۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے وزیرِ اعلیٰ سندھ ہاؤس میں قائم پبلک کمپلینٹ سیل میں عوامی مسائل سنے، جہاں انہوں نے دوپہر 1:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک سیکڑوں کالز سنیں۔ صوبائی وزیر نے بذریعہ ٹیلی فون صوبے کے تمام اضلاع اور علاقوں سے آنے والی سیکڑوں کالز پر عوام کے مسائل بھی سنے۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ سندھ حکومت عوامی مسائل کے حل اور عوام کو درپیش مشکلات کے جلد از جلد ازالے کے لیے کوشاں ہے، وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں کمپلینٹ سینٹر دن رات عوامی مسائل کے ازالے کے لیے کام کر رہا ہے۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے ہدایت کی کہ عوام کی جانب سے آنے والی کالز پر ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات اور ان کے وژن پر فوری عوامی شکایات کے ازالے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی مقصد ہے۔
معاونِ خصوصی وزیرِ اعلیٰ سندھ برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی علی راشد سے محکمۂ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اوریکل (Oracle) کے وفد نے ملاقات کی۔
ملاقات میں اوریکل کی مصنوعی ذہانت (AI) سے مربوط ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور سندھ کے لیے مستقبل سے ہم آہنگ ڈیجیٹل ایکوسسٹم کی تعمیر سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر جدت، کلاؤڈ ٹیکنالوجیز، جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کے ذریعے ڈیجیٹل سندھ کے وژن کو مزید مضبوط بنانے اور عوام دوست ٹیکنالوجی اقدامات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
مشیر وزیراعلیٰ سندھ برائے محکمہ بحالی گیانچند ایسرانی نے سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 کے ہیڈکوارٹر کا اچانک دورہ کیا۔ صوبائی مشیر نے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سمیت مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا اور ادارے کے آپریشنل نظام کا براہ راست جائزہ لیا۔ دورے کے دوران مشیر وزیراعلیٰ گیانچند ایسرانی نے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم میں موجود رہ کر خود مختلف ایمرجنسی کالز سنیں، ان کی تفصیل ریکارڈ کی اور متعلقہ افسران کو ان کے حل کے لیے احکامات دیے۔
گیانچند ایسرانی نے ریسکیو 1122 میں ایمرجنسیز پر فوری ردعمل کا خود مشاہدہ کیا۔ گیانچند ایسرانی نے ادارے کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول روم اس ادارے کا دل ہے، جسے مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے گا۔
انٹرنیٹ کا نظام وفاقی حکومت کی وزارتِ IT کے ماتحت اداروں کے پاس ہے۔ہمارا موقف ہے کہ اگر سیکیورٹی چیلنج ہو تو محدود علاقوں میں پابندی لگائی جا سکتی ہےمگر پورے آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ بند کرنااجتماعی سزا کے مترادف ہے۔الیکشن مہم،عوامی رابطوں اور معیشت کے لیے انٹرنیٹ بحال ہونا چاہیے.
پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی مسئلۂ کشمیر پر رکھی گئی تھی۔ قائدِ عوام شہید ذوالفقارعلی بھٹو سے لے کر آج تک،کشمیر کاز کا دفاع ہماری جدوجہد کا بنیادی حصہ رہاہے۔
میری گزشتہ انتخابی مہم سے بھی یہی مؤقف رہا ہے کہ کشمیر کاز کوکسی بھی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر، مزید حقوق دیئےجائیں
آزاد کشمیر میں قائم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل کالج پاکستان پیپلز پارٹی کا آزاد کشمیر کے نوجوانوں کیلئے وہ تحفہ ہے جس کی وجہ سے ریاست کا نوجوان اپنے خواب پورے کر رہا ہے. بی بی شہید کے نام پر بنا یہ کالج ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل روشن کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کر رہا ہے.
27 جولائی کو تیر پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیاب بنائیں.
@TOKCityOfLights نعیم بھائی ہر مہینے 2 مہینے بعد سڑک بند کرنے کی باتیں شروع کردیتے ہیں جس سے تکلیف عوام کو ہی بھگتنی پڑتی ہے۔ آپ حکومت کا مقابلہ اپنی کارگردگی سے کریں آپ خود کراچی کی حکمرانی میں اپنے ٹاونز اور یوسیس لےکر بیٹھیں ہیں لیکن انکی کارگردگی بھی صفر بٹہ صفر ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت سولر سسٹم سے 2 لاکھ 75 ہزار خاندانوں کی توانائی کی ضروریات پورا کرنے جا رہی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات پر 18 ارب 20 کروڑ مالیت کا سولر سسٹم کی فراہمی کا منصوبہ حکومت سندھ کا انقلابی قدم ہے۔
ایک بیان میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے سولر سسٹم کی فراہمی کے منصوبے سے آف گرڈ علاقوں کے ایک لاکھ 32 ہزار خاندان اور آن گرڈ علاقوں کے ایک لاکھ 43 ہزار خاندان منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں، حکومت سندھ کا مقصد کم آمدنی والے اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے مستحق خاندانوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر مستحق خاندان کو 180 واٹ کا سولر پینل، بیٹریز، سینٹرل کنٹرول یونٹ، چارج کنٹرولر، موبائل چارجنگ کی سہولت، پنکھے اور ایل ای ڈی لائٹس فراہم کی جا رہی ہیں، منصوبے پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے، اب تک مختلف اضلاع میں 15 ہزار سے زائد سولر ہوم سسٹم کٹس تقسیم کی جا چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ جون 2027 تک منصوبہ مکمل کرتے ہوئے تمام 2 لاکھ 75 ہزار مستحق خاندانوں کو سہولت سے مسفید کیا جائے، سولر ہوم سسٹم منصوبہ صرف بجلی کی فراہمی کا منصوبہ نہیں بلکہ غریب عوام کو ریلیف کی فراہمی کا اہم قدم ہے۔
Senior Minister @sharjeelinam has announced that the Sindh Government will provide Solar Home Systems to 275,000 deserving families under a Rs18.2 billion initiative launched on the vision of Chairman Bilawal Bhutto Zardari.
☀️ 15,000+ solar kits already distributed
🏡 275,000 families to benefit by June 2027
⚡ Clean, affordable, and sustainable energy for the people of Sindh.
#SindhGovt #CleanEnergy #PPPWorks
اگر یہ دل سوز واقعہ کراچی میں ھوتا اور ایسا سب کچھ سندھ حکومت کرتی تو آپ تک شہر کے میر جعفر اور میر صادق اور خصوصآ تخم الخبائث اب تلک اپنے گھروں کی عورتوں کا ننگا ناچ بھی کروانے سے گریز نہیں کرتے۔
@MaryamNSharif@realrazidada#PMLN#ShameOnYouPunjabGovernment