یہ آوش وِٹس (Auschwitz) نہیں ہے یہ غزہ بھی نہیں۔ یہ مغربی کنارہ، فلسطین ہے وہ لوگوں کے گھروں کو اس وقت آگ لگا رہے ہیں جب خاندان اور بچے اندر سو رہے ہوتے ہیں، جو کہ جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 242 کی خلاف ورزی ہے۔فلسطین اور آوش وٹس میں فر�� یہ ہے کہ دنیا کے پاس اب بھی فلسطین میں ہولوکاسٹ کو روکنے کا موقع موجود ہے۔انہیں 'آباد کار' کہنا بند کریں؛ وہ دہشت گرد حملہ آور ہیں جو کہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی ہے۔"
بھٹو کو کیوں زندہ رکھا گیا سن لیں
پیپزپارٹی کا سسٹم کتنا طاقتور ہے ۔شرجیل انعام اور اس کے بیٹے کو بچانے کیلے ۔کتنے جتن کرنے پڑ رہے ہیں ۔۔
قدرت کئ کہر کی چکی اہستہ پیستی ہے۔لی��ن باریک پیستی ہے
@BBhuttoZardari
غضب ؟؟پٹرول اصل قیمت سے 139.93 اور ڈیزل 116.10 روپے فی لیٹر مہنگا فروخت ہورہا ہے۔ اتنے ٹیکس وصول کرنے کے باوجود پاکستان پر قرضوں کا بوجھ کیون بڑھ رہا ہے؟ کہاں ہے گڈ گورنینس اور وہ اکنامک مینجمنٹ جس کے بڑے بڑے دعوےکئے جاتے ہیں؟ عوام کو کب تک لوٹا جائے گا؟ https://t.co/rI9BIi1Hkh
پاکستان کے کئی علاقوں میں جو 500 پٹرول پمپس کئی سالوں سے بند پڑے تھے یا کمپنیوں نے کاغذات میں بند دکھائے تھے وہ ایران امریکہ جنگ کے بعد اچانک سب چل پڑے۔۔ ایک ایک پٹرول پمپ نے کئی کئی لاکھ لٹر پٹرول بیچ دیا یا کاغذات میں دکھا دیا۔ سب حیران ہیں جب پوری دنیا میں پٹرول کی شارٹیج تھی اسی وقت ان پانچ سو پمپس پر پٹرول ملنا شروع ہوگیا۔
اس دلچسپ سکینڈل کے پیچھے کتنے اربوں روپوں کی داستان چھپی ہوئی ہے؟
سینٹ کابینہ کمیٹی چیرمین رانا محمود الحسن سے تفصیلات سنیں اور سر دھنیں کہ اس ملک میں کیا کیا مزے کے کام ہوتے ہیں۔
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/RTJVFu1JW8 via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1@AliPervaiz450@CMShehbaz@BilalAKayani@AyazSadiq122@PalwashaKhan18@A_Qadir_Patel
شریف خاندان کے پاس 28 آئی پی پیز ہیں، جبکہ دیگر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے پاس 16 آئی پی پیز ہیں۔
آصف علی زرداری کے پاس 16 آئی پی پیز ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے پاس 9 آئی پی پیز ہیں! ایثار رانا۔
سابق چیئرمین نادرا طارق ملک نے ایک ڈیٹا نکال کر دیا تھا کہ دو ملین لوگ ہر سال باہر جاتے ہیں لیکن ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیتے انہیں ہٹا دیا گیا تھا جس کو ہم نے ہٹا دیا تھا دنیا نے اس کو 25 بہترین دماغوں میں شامل کیا ہے اس کی تصویر ٹائم اسکوائر پر پاکستانی پرچم کے ساتھ چلتی رہی ! چوہدری منظور ۔
🚨"ان سے کہیں کہ ابھی بجٹ چل رہا ہے، اسی بجٹ کے اندر وزیرِ خزانہ سے کہیں کہ اپنی اختتامی تقریر میں اعلان کر دیں کہ چونکہ پروفیسر صاحب نے ہمیں بتا دیا ہے کہ 8,800 روپے میں ایک آدمی کا بڑا فرسٹ کلاس گزارا ہو جاتا ہے، اس لیے ہم نے تمام اراکینِ اسمبلی اور وزیروں کی تنخواہیں 8,800 روپے ماہانہ کر دی ہیں۔
اور اسی طریقے سے تمام سرکاری ملازمین، خاص طور پر گریڈ 20 سے اوپر کے افسران کی تنخواہیں بھی 8,800 روپے ماہانہ کر دی جائیں۔ پروفیسر صاحب پھر ان تمام لوگوں کو بھی یہ بات سمجھانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ آخر 8,800 روپے میں آرام سے گزارا کیسے کیا جاتا ہے۔
اگر واقعی یہ رقم ایک باعزت اور مناسب زندگی گزارنے کے لیے کافی ہے، تو پھر اس اصول کا اطلاق صرف عام آدمی پر نہیں بلکہ پالیسی بنانے والوں، وزیروں، اراکینِ اسمبلی اور اعلیٰ سرکاری افسران پر بھی ہونا چاہیے۔" اسد عمر
@Asad_Umar@AmirMateen2
عمران خان کے دور میں جب پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 17 روپے تھی تو شہباز شریف نے قوم کو کہا کہ اس نظام کے خلاف جنگ کرکے انقلاب لانا ہوگا ،اب فی لیٹر پر ٹیکس تقریباً 170 روپے ہے ، تو اب عوام کو کیا کرنا چا��یے ؟؟؟
اب 10 یا 15 روپے کمی سے کام نہیں چلےگا، وقت آگیا ہے کہ فوری طور پر پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر پر لائی جائے۔ اور اسے تین سال کے لیے منجمد کیا جائے۔ ایران امریکا معاہدے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر رہی ہے۔ حکومت اپنے خزان�� کے لیے جو فی لیٹر پٹرول پر 116 روپے لیوی سمیت 150 روپے ٹیکسز وصول کررہی ہے اس میں فوری کٹوتی کی جائے۔ پاکستان کے غریب اور مڈل کلاس عوام کب تک شاہی خزانہ کا بوجھ اٹھائیں گے؟ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی کمی کی جائے۔ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے لیے جمعہ 19 جون کو ملک بھر میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز پر بڑے مظاہرے کریں گے۔ عوام خصوصاً نوجوان بھرپور شرکت کریں
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ہوئی ہے خام تیل 75 ڈالر فی بیرل تک آگیا ہے جبکہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے، یاد رہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور پاکستان کے پاس ایک مہینے کا اسٹاک بھی پڑا ہوا تھا پھر بھی فوراً پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روہے فی لیٹر اضافہ کر دیا تھا۔اب وزارت خزانہ وزارت پیٹرولیم ،اوگرا سمیت سارے سوئے ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف صاحب کے دل پر پیٹرول مہنگا کرنے والا پتھرا ویسے ہی پڑا ہوا ہے۔
ابھی کچھ دیر پہلے پبلک نیوز چینل کے افسر کی کال موصول ہوئی، کہتے ہیں کہ سر چیف سیکرٹری پنجاب کے گھر، کمشنر کے گھر کی تزئین و آرائش پر لاگت کی بابت خبر کا یہ سلمان حیدر صاحب والا کلپ ڈیلیٹ کر دیں کیونکہ پنجاب حکومت ہم پر بہت دبائو ڈال رہی ہے، ہم نے تو پبلک نیوز کے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے یہ پورا کلپ ہٹوا دیا ہے۔ اب ہم پر دبائو ڈالا جا رہا کہ جن جن سوشل میڈیا صارفین نے کلپ اپ لوڈ کئے ہیں، انہیں ریکوسٹ کرکے بھی یہ کلپ ہٹوائیں۔۔۔ بحرحال میں نے معذرت کر لی اور ان گزارش کی کہ اگر چینل نہیں چلا سکتے تو یہ کریانہ کی دکان بند کر دیں۔
عوام اب مکمل کلپ انجوائے کریں کیونکہ پہلے شارٹ کلپ لگایا تھا، پنجاب حکومت کو ہم وکلاء عدالت میں خود ہی نمٹ لیں اگر یہ عدالت آتے ہیں۔
اصولی طور پر محترمہ مریم نواز صاحبہ اگر واقعی عوامی وزیر اعلی ہیں تو انہیں چاہیئے کہ ایک مرتبہ حقیقی عوامی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے گزشتہ 2 برسوں چیف سیکرٹری ہائوس اور آفس، کمشنر لاہور ہائوس اور آفس، ڈپٹی کمشنر لاہور ہائوس اور آفس کے اخراجات، بجٹ اور ٹینڈرز کی انکوائری تو کرائیں۔۔۔۔
@MaryamNSharif
سندھ پولیس پیپلز پارٹی کےاشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلی ہے! خاتون افسر کا انکشاف کہ معصوم بچیوں کے ریپسٹ کا نادرا میں کوئی ریکارڈ نہیں اور وہ بھارت سے ہے، مگر DSPظفر اقبال اور غلیظ سسٹم اسے بچانے کے لیے ٹرانسجینڈر کا ڈرامہ رچا رہے ہیں۔ یہ ملکی بقا اور انصاف دونوں کا کھلا جنازہ ہے!
پاکستان کے بجلی کے وفاقی وزیر توانای اویس لغاری صاحب کا بیان سنا ۔
موصوف فرماتے ہیں زیادہ تر پاکستانیوں نے سولر لگوا لیا ھے اور وہ واپڈا کے میٹر کی ریڈنگ 200 یونٹ سے اوپر نہیں جانے دے رھے ۔اور سستی بجلی کے فوائد حاصل کر رہے ہیں ۔ جس سے متوسط اور نچلے طبقہ پر بوجھ پڑ رہا ہے ۔
لغاری صاحب کیا عوام کو سولر انویٹر بیٹریاں آپ کی حکومت نے لگوا کر دیئے ہیں ۔ عوام اس مہنگی بجلی سے تنگ ا کر سولر پر شفٹ ہوی ہے ۔ سولر لگانے والی متوسط طبقہ ہے کسی نے زیور بیچے کسی نے مویشی بیچے کسی نے قرض لیا ۔ صرف اپکی نااہلی کی خاطر ۔ یہ سولر لگواے ۔
اگر اپ فارم سنتالیس کی حکومت کی ترجمانی نہ کر رہے ہوتے تو اپ سولر امپورٹ پر ٹیکس ختم کرتے نیٹ میٹرنگ کا یونٹ زیادہ ریٹ پر عوام لیتے تاکہ مزید لوگ سولر لگا کر ۔
حکومت کی جان مہنگی بجلی سے چھڑائیں ۔ اپ کو تو عوام کو شکر گزار ہونا چاہیے ۔ کہ وہ بجلی کے شارٹ فال کو کم کر رہے ہیں ۔
اگر یہی عوام ان سولر ہٹا دے تو پورے پاکستان میں بدترین لوڈ شیڈنگ ہو گی ۔
اپکو عوام کا سولر تو صاف نظر ا رہا ہے مگر وہ جو ipps جو کئی سالوں سے بند پڑے وہ پاور پلانٹ جو کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں زیرو یونٹ بجلی پیدا کر کے بھی فی گھنٹہ کے حساب سے ڈالر بنا رہے ہیں ۔
اس پر اپکی نظر کیوں نہی جاتی ۔۔ ہمت کریں اور ان ای ای پی پیز سے کپیسٹی پمنٹ کا معاہدہ ختم کرائیں ۔ جو ابتک 8 ہزار 344 ارب ہڑپ کر چکے ہیں ۔
گزشتہ چار سال میں 200 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ ہو چکی ہے جبکہ ان صارفین کو سالانہ 527 ارب روپے کی رعایت دی جا رہی ہے ۔
 لیکن وزیر صاحب اگر آپ صرف آئی پی پیز کو دی جانے والی ایک سال کی کیپیسٹی پیمنٹ سے یہ 527 ارب نکال لیں تو بھی قومی خزانے پر ہزاروں ارب کا بوجھ باقی رہتا ہے۔
پھر بھی آپ کی لاٹھی سولر والے عام آدمی پر کیوں برس رہی ہے ۔ کیونکہ اپکی نظر میں جمہور کیڑے مکوڑے ہیں انہیں پاوں تلے روند کر انکے اوپر کرپٹ ایلیٹ کا محل تیار کر دو ۔۔
بیوروکریسی میں نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ خود غیر ملکی شہریت نہ لو بچوں یا بیوی کو دلوا دو اور انہی کے نام پر اکاؤنٹس اور سب کچھ ہے۔ آپ کو بیوروکریٹس کے کے خاندان کی دوہری شہریت کو دیکھنا ہو گا، محمد مالک
جب عوام نے بجلی کے لیے اپنے سولر خود لگانے ہیں، پانی کا انتظام بھی اپنی جیب سے کرنا ہے، تعلیم اور علاج بھی پرائیویٹ کروانا ہے، اور حفاظت کے لیے پولیس کے بجائے چوکیدار رکھنا ہے، تو پھر حکومت آخر ہر سال 2,000 سے 3,000 ارب روپے بڑھا کر کس چیز کا ٹیکس لے رہی ہے، جب لوگوں نے سب کچھ خود ہی کرنا ہے؟
@AmirMateen2
بلوچستان کی گیس فوجی فاؤنڈیشن کو پانی سے بھی سستی دی جا رہی ہے پیداواری لاگت کے محض 13 فیصد پر۔
یہ رعایت نہیں، کھلی معاشی ناانصافی ہے ماہر معاشیات قیصر بنگالی