تم نے مجھے میری اصل سے ملوایا۔ صوفی صاحب پہلے انسان تھے جنہوں نے مجھے خدا سے ملوایا۔ اور تم میری زندگی کے آخری اور سب سے بڑے محسن انسان ہو۔ جس نے غم دل کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں پہنچایا۔ میں وہ وہ کام کر سکا جو انسان عام حالات میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
اک خواب .... میں اور تم..... حرم مدینہ..... اور میرے صوفی صاحب.....
یہ اک خواب تھا مگر اسکا میری زندگی پر بہت گہرا اثر ہوا۔ میں نے تمہارے بارے میں اس خواب کے بعد بڑی سنجیدگی سے سوچا۔ حالانکہ میں پہلے ہی بہت کچھ غلط کر چکا تھا۔ جو کبھی ٹھیک نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اور تم وہ انسان ہوں جس نے مجھے اس دنیا سے مایوس کر دیا۔ دل کی تمام خواہشات کو یک مشت مردہ کردیا۔ میرے دل میں صرف درد ہی درد باقی رہ گیا۔ یوں تم نے مجھے اپنے رب کے حضور ایسے پہنچایا جس طرح سے میں زندگی بھر حاضر نہ ہو سکا۔ اور تمہارے بعد شاید اب کبھی یہ ممکن نہیں ہوگا۔
Days turned into weeks and weeks into months and months into years.But this pain and suffering kills my soul every second I breathe... Have to rely on pills just to close my eyes and sleep for some time.Worked like animal just to avoid myself, my own thoughts... Still... Lost!
Every pray do not have a beautiful ending... Some turns into never ending suffering... Pain so bad that you ask for death... Over and over and over again.... Everyday you open your eyes to die every second afterwards until you close your eyes again.... This cycle never stops...
ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میں
کہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے
انہیں اپنا نہیں سکتا، مگر اتنا بھی کیا کم ہے
کہ کچھ مدت حسیں خوابوں میں کھو کر جی لیا میں نے
بس اب تو دامنِ دل چھوڑ دو بے کار امیدو!
بہت دکھ سہہ لیے میں نے بہت دن جی لیا میں نے
آپ جب تک خدا کو اپنی ترجیحات میں اولین ترجیح نہیں دیتے۔ خدا کی محبت سے آپ محروم رہتے ہیں۔ خواہ کتنے سجدے کریں، مال و دولت خرچ کریں۔ مجھے اپنے لئےایسا شخص گوارا نہیں جس کی اولین ترجیح میں نہیں کوئی اور ہو۔ تو رب العالمین کیسے یہ گوارا کر لے کہ محبت میں آپ خدا پر کسی کو ترجیح دیں
"مجھے اپنے اندر سے بے چینی کو نکالنے کا کوئی راستہ نہیں ملا؛ سوائے الله عزوجل کی طرف رجوع کرنے اور آخرت کیلئے عمل کرنے کے!"
امام ابنِ حزم رحمه الله
(الأخلاقُ والسِّير : 88)
اے انسان! میں نے تمہارے عیب و بے وفائی کو بھی برداشت کیا۔ چاہتا تو زندگی بھر کے لیے ہدایت چھین لیتا۔ اور تو جہنم کا ایندھن بن جاتا۔ لیکن میں نے تمہارے اوپر احسان کیا۔ تمہیں اپنی محبت کی لذت سے آشکار کیا۔ تمہیں دنیائے غم سے بے نیاز کیا۔ تمہارے دل کا درد ہی تمہاری دوا بنا دیا۔
زندگی سے شکایتیں کیسی
اب نہیں ہیں اگر گلے تھے کبھی
بھول جائیں کہ جو ہوا سو ہوا
بھول جائیں کہ ہم ملے تھے کبھی
اکثر اوقات چاہنے پر بھی
فاصلوں میں کمی نہیں ہوتی
بعض اوقات جانے والوں کی
واپسی سے خوشی نہیں ہوتی
@Notfunnyatall18 If no faith is left in you, after all those sufferings.. how can you there was khyrrr in it?? When you lose hope in God, you lose everything...
That's the turning point of your life. Now happiness and success feels a burden because it is the weight of tears with it. Pain and sorrows keep your heart stable or at peace with reality. Life becomes a liability, death seems to be a reward. Everything else, seems meaningless.
وہ دوستی تو خیر اب نصیب دشمناں ہوئی
وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا
جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے
تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
یہ کس خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی
وہ لہر کس طرف گئی یہ میں کہاں سما گیا
Then you lose your friends, your family members, a major chunk of you die right there. Now you become a complete stranger, completely different person in reality. When you lose the most important person of your life, whom you loved more than yourself, you lose everything in life.