ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
سہیل آفریدی
محمود خان اچکزئی نے بہترین فیصلہ کیا کہ وہ پشاور نہیں گئے اور ابھی بھی کوئٹہ میں محفوظ مقام پر ہیں
محمود خان اچکزئی آج بھی یہی مطالبہ رکھے ہوئے ہیں کہ خان صاحب سے ملاقات کے بغیر لانگ مارچ ختم نہیں ہو سکتا۔۔۔۔
محمود خان اچکزئی نے اچھا قدم اٹھایا کہ وہ پشاور ہی نہیں گئے۔۔۔
1948کی ایک نایاب ویڈیو جب کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑنے پٹھان پہاڑوں سے آئے تھے!
انہیں کیا پتہ تھا کہ جن کے لیے یہ لوگ کشمیر آزاد کروا رہے ہیں ایک دن ڈالرز کی خاطر یہی فوج انہی پٹھانوں اور کشمیریوں پر آپریشن کرے گی۔
#پاکستان_کی_کہانی
اگر آج پی ٹی آئی راستے سے ہٹ جائے تو اسلام آباد/راولپنڈی اور ان پختون مظلوموں کے درمیان جن کے بچے 20 سال سے فوجی جرنیل مار اور مروا رہے ہیں، بدلہ لینے کی راہ میں کوئی دیوار نہیں بچے گی!
اسی وجہ سے راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے کیونکہ جرنیلوں کی پھٹی پڑی ہے۔
🚨سندھ میں یہ بہت زیادہ معمولی سی بات سمجھی جاتی ہے
میں غریب ہوں میری بیٹی کو جب گنڈوں کا دل چاہتا ہے اٹھاکر لے جاتے ہیں
لڑکی کا والد مسلسل رو رہا ہے کتنا مجبور ہوگا ایک غریب باپ کہ اس کے پاس رونے کے علاوہ کچھ نہیں ہے
کیا غریب کی بیٹی کی کوئی عزت نہیں؟
خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے ایم این اے ، ایم پی اے کو گھر سے اٹھا کر لے جاتے ہیں لیکن دہشت گردوں کو اٹھانے کے لیے ان کو پی ٹی آئی حکومت کی اجازت کی ضرورت ہے۔ اقبال آفریدی
@IqbalAfridiPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
ہمارے کچھ ہمسائے دوست ہیں، جو ثالث بنے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے وزیرِ اعظم کے ٹویٹ بھی امریکی لکھتے ہیں، بس میں بات کو زیادہ کھولنا نہيں چاہتا، چھوڑیں، لیکن ہمیں سب پتہ ہے۔ ڈاکٹر محسن زنگنه، رکن ایرانی پارلیمنٹ
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
میں اپنی بیٹی جویریہ کے گھر میں نظر بند ہوں۔ میرے 5 اور 7 سال کے نواسوں، محمد اور اسماعیل کو آج سکول جانے سے روک دیا ہے۔ بجلی کال سے کاٹ دی ہے، کھانا پینا تو دور کی بات، پانی کا گلاس تک گھر کے اندر نہیں آسکتا۔
دشمن کے بچوں کو تو پڑھانے کا شوق تمہیں ہے۔ کیا تم میرے بچوں کو اُن سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتے ہو؟
ہمارے کچھ ہمسائے دوست ہیں جو ثالث بنے ہوئے ہیں۔
حالانکہ ان کے وزیراعظم کے ٹویٹ بھی امریکی لکھتے ہیں۔ بس میں بات کو زیادہ کھولنا نہيں چاہتا۔ چھوڑیں لیکن ہمیں سب پتہ ہے۔
ڈاکٹر محسن زنگنه
ایرانی پارلیمنٹ کا رکن
عمران خان اور اس کی بہنوں کی رہائی کے متعلق بیانیہ تو کہیں نظر نہیں آیا بلکہ دہشتگردی کے حکومتی بیانیہ پر بات ہو رہی ہے۔ اپنا میدان لگانے کی بجائے حکومتی پچ پر کھیلا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ بندی کا۔فقدان ہے یا دانستہ نااہلی ۔
سرکاری WhatsApp سے جُڑا سوشل ڈیجیٹل الیکٹرانک پرنٹ میڈیا کے مطابق خیبرپختونخوا میں تین ہفتوں سے گورنر راج نافذ ہے ایمرجنسی لگی ہوئی
سہیل آفریدی کیخلاف عدم اعتماد کامیاب ہوچکی ہے وفاقی غیرآئینی عدالت انہیں نااہل کرچکی ہے
انہیں گرفتار کیا جاچکا ہے ۔۔۔۔۔فلم ابھی باقی ہے
Has ISI started killing and abducting Kashmiri women, after doing the same to Baloch and Punjabi women
کیا آئی ایس آئی نے بلوچ اور پنجابی خواتین کے بعد اب کشمیری خواتین کا اغواء اور قتل بھی شروع کردیا ہے
11 نہیںں بلکہ 13 اکتوبر کا صوابی طے کرے گا کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہے۔ اگر سہیل آفریدی کوئی ٹھوس جارحانہ مگر عملی لائحہ عمل دینے میں کامیاب رہے تو تمام سازشوں کو زبردست جھٹکا لگے گا۔ اگر پھر مزید کوئی تاریخ دی گئی تو یہ لانگ مارچ اور خان کی رہائی دونوں کیلئے تباہ کن ہونگے
یہ حیران کن ہے کہ لانگ مارچ ختم کرنے اور عمران خان کے بحیثیتِ قیدی حقوق کے حوالے سے ہونے والی بات چیت، کس طرح خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی بحث میں تبدیل ہو گئی۔
انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں 72 گھنٹے بھی نہیں لگیں گے؛ وزیرِ داخلہ، وزیرِ اعلیٰ، چیف سیکرٹری، پولیس اور عسکری قیادت کو ایک کمرے میں بٹھا دیں، تو آپ کو 24 گھنٹوں میں اتفاقِ رائے مل جائے گا۔
لیکن اس کے بجائے... گورنر راج اور ایمرجنسی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ 1954 کے بنگال سے لے کر 70 کی دہائی کے بلوچستان اور پھر 2024 کے (مینڈیٹ کی) چوری تک، عوامی مینڈیٹ کو پامال کرنے سے ہمیشہ تباہی ہی آئی ہے۔
گورنر راج عمران خان کی حمایت کو توڑ نہیں سکے گا؛ یہ پی ٹی آئی کو متحد کرے گا، بحران کو مزید سنگین بنائے گا، اور اس پشتون قوم پرستی کے شعلوں کو ہوا دے گا جو اب ماضی کا مسئلہ بن چکا تھا۔
80 سال گزرنے کے باوجود کچھ نہیں سیکھا گیا۔ وہی غلطیاں، بار بار دہرائی جا رہی ہیں۔