کیپٹن علی عامر کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا۔ انہوں نے قوم کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
میجر کاکڑ شہید کا تعلق بلوچستان سے تھا۔ وہ دو سالہ اور چار سالہ بچوں کے والد تھے اور اپنی بیوہ کو سوگوار چھوڑ کر شہید ہوئے۔
میجر عدنان شہید ایک پختون نوجوان تھے، جن کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ کیا ان جیسا خوبصورت کوئی مائی کا لال ہے؟
کیپٹن روح اللہ شہید کا تعلق بھی خیبرپختونخوا سے تھا۔
سپاہی تحسین اپنے نومولود بیٹے اور بیوہ کو چھوڑ کر اس ملک کی خاطر شہید ہوئے۔
میجر اسحاق شہید کا تعلق خوشاب سے تھا۔ وہ اپنے ایک سالہ بیٹے اور بیوہ کو چھوڑ کر شہید ہوئے۔
کیا یہ تمام جوان صرف تنخواہ کے لیے شہید ہوئے؟ وفاقی وزیر حنیف عباسی
2019 میں انڈین جہاز رات کی تاریکی میں بالا کوٹ گئے اور اپنا اسلحہ پھینک کر واپس دوڑنا پڑا جس کے اگلے دن بھارت نے جوابی کارروائی کی، لیکن ان کا اصل ہدف عسکری تنصیبات تھیں اس موقع پر بھارت کی الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیت کافی کمزور ثابت ہوئی، جس کی وجہ سے ان کے افسران کا رابطہ منقطع ہو گیا اور انڈین پائلٹ کوجنگی قیدی بننا پڑا اس واقعے سے پاکستان نے یہ سبق سیکھا کہ جدید جنگ میں الیکٹرانک وارفیئر پر توجہ دینا کلیدی حیثیت رکھتا ہے پاکستان کی عسکری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب وہ بھارتی عسکری طاقت کے مدمقابل ایک مضبوط حریف بن کر ابھرا ہے
یہ افغانستان ھے جہاں ایک اور پھول جیسی لڑکی کی زندگی پیسوں کے عوض ایک بوڑھے شخص کے حوالے کر دی گئی کوئی اپنی چھوٹی بیٹیاں روٹی کے بدلے بیچ رہا ھے یہ کیسا سماج اور کیسا نظام ہے جہاں انسانیت کا سودا سرِعام ہو رہا ہے؟ طالبان کا نام نہاد اسلامی نظام صرف طاقت کے زور پر کمزوروں، خاص کر خواتین کا استحصال کرنا ہی سکھاتا ہے اس سے بڑی درندگی اور کیا ہو سکتی ہے
جج ابوالحسنات: یہ کام (گولی مارنا/قتل) کیوں کیا؟
ملزم سعد عباسی: میں لڑکی کے ساتھ تھا، بندہ ڈسٹرب کر رہا تھا-
جج ابو الحسنات (بڑبڑاتے ہوئے): ڈسٹرب کیا؟ کیا اچھا کام کر رہے تھے جو ڈسٹرب کیا؟
یہ ہے آج کل کی بھٹکی ہوئی, دین و دنیا کے علم سے بے بہرہ, والدین و اساتذہ کی اخلاقی تربیت سے یکسر محروم وہ نسل جسکی تربیت بالی ووڈ, ٹک ٹاک, ریلز اور روزبروز ترقی کرتے لچر اور تماشبین معاشرے نے کی ہے, جنکی دانست میں عشق معشوقی اور رومانس ہی زندگی کی غرض و غایت ہے-
پاکستان ایئر فورس کا ایک انتہائی قیمتی, لائق, فرض شناس اور دلیر افسر صرف اس بیہودہ ملزم کی درندگی کی بھینٹ نہیں چڑھا بلکہ اس میں والدین, اساتذہ, مذہبی علماء, لیڈرز, غرضیکہ پورا معاشرہ شریک جرم ہے-
Alone and outnumbered, he took on Congress, the British Raj, the Hindu Mahasabha, the Unionists, the Red Shirts, the Maulvis, all at once and still won freedom for his people. That’s conviction & resilience.
PS: He had a better jawline than Henry Cavill
اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر پاکستان نے صرف اپنی پانچ پرسنٹ بھی طاقت استعمال کی تو تم لوگ اور تمہارا ملک 2027 میں صرف مطالعہ کی کتابوں میں نظر آؤگے ۔۔۔۔
اس نوجوان کا نام اسا*مہ ہے اور والد کا نام میاں خان ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ سال2005 میں گھر سے چیز لینے نکلا تھا۔ دور کہیں نکل کر بھٹک گیا تھا تو لاوارث پاکر مجھے کسی نے اسلام آباد کے ایک شیلٹر میں جمع کروادیا تھا۔
اسا*مہ کا کہنا ہے کہ میری دھندلی یادوں کے مطابق ہم شاید راولپنڈی میں رہتے تھے۔گھر کے پاس کوئی کالج یا اسکول تھا۔
اسامہ کو والد میاں خان ، والدہ یاسمین اور ایک بھائی حسیب کا نام یاد ہے۔
فائل کے مطابق دو بھائی اور دو بہنیں تھیں۔
اسامہ جب پہلی بار ہم سے ملنے آیا تھا تو تقریبا دس منٹ تک سسکیاں لیکر روتا رہا بات نہیں ہوپارہی تھی۔ بہت تنہا اور بے یار و مددگار ہے۔
ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے اور وہی راتیں گزارتا ہے۔ کبھی عید پر یا کسی خوشی غمی پر کہیں جانا نہیں ہوا۔ کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں ہے۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا اسا*مہ کا خاندان ڈھونڈنے میں مدد کریں۔ آپکا ایک شئیر اس کو تنہائی والی زندگی سے نکال کر ماں باپ سے ملواسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
2 july 2026
#waliullahmaroof #Rawalpindi #islamabad #MissingChild
دنیائے ٹک ٹاک سے ایک مشہور شخصیت جناب سلطان آف ورک ہیں جن کی بابت علم ہوا کہ ڈیڑھ ملین فالورز رکھتے ہیں۔ شیخوپورہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور ایک کالا ڈالہ رکھا ہوا تھا جس پر نمبر پلیٹ (777) بھی اسپیشل تھی۔ ٹک ٹاک پر وہ کھیتوں، کھلیانوں، کچے پکے دشوار گزار راستوں، نالوں وغیرہ میں سے وہ اپنا کالا ڈالہ گزارتے ہوئے کی ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں چنانچہ ہردلعزیز شخصیت بن گئے کہ بلے وئی ورک نے کتھوں ڈالہ کڈیا اے۔۔۔ فالونگ اچھی خاصی جمع ہو گئی۔ ایک تو یہ سمجھ سے باہر ہے ٹک ٹاک پر اتنا ہجوم کاہے کو جمع ہوتا ہے۔
سلطان آف ورک صاحب عادتِ مہم جوئی کی تسکین کی خاطر ناران تشریف لے گئے اور حسبِ فطرت اپنے کالے ڈالے کا منہ چلتے دریائے کنہار کے لبوں سے مَس کرنا چاہا۔ ارادہ ہو گا کہ ایک بہترین سی ٹک ٹاک ویڈیو بن جائے تو مزہ ہی آ جائے۔ دریا بھی اپنی روانی میں تھا۔ وہ سلطان آف ورک سمیت چار سوار لونڈوں اور کالے ڈالے کو ساتھ ہی لے گیا۔ شاید دریا نے بھی سوچا ہو کہ ٹک ٹاک تے ایسی بنے گی دنیا ویخے گی، پچھے عارف لوہار دا گانا چلے گا “ آ تینوں موج کراواں، آ تینوں سیر کراواں”۔ ریسکیو اہلکاروں نے چار سوار لونڈوں کو تو بچا لیا ہے لیکن ہائے وہ کالا ڈالہ دریا ساتھ لے گیا ہے۔ مر گیا، انتقال۔
لیکن وللہ، میں ایمان کی حد تک یقین سے کہہ سکتا ہوں اس سے سبق نہیں ملا ہو گا۔ سلطان آف ورک، اس کے چاہنے والے اور اس ڈالے پر سوار لونڈے یہی کہہ رہے ہوں گے “استاد سلطان ورک!!! حاسداں دی نظر لگ گئی اے۔ نظراں وچ آ گیا سی۔”۔
وہ دور گئے جب کسی ادبی، سیاسی، کھلاڑی، سماجی، شخصیت کا تعارف یوں کروایا جاتا تھا “ یہ ہمارے شہر کی پہچان ہیں”۔ کمال ہے بھیا ٹک ٹاک، سنیک ویڈیو اور یوٹیوب کا کہ اب تو پاکستان کا کوئی چپہ کوئی قصبہ کوئی گاؤں نہیں بچا جہاں کی کوئی نہ کوئی نمایاں شخصیت نہ ہو۔ اللہ بھلا کرے قصور بارڈر کے پاس گنڈا سنگھ والا کے آزو بازو کہیں کسی گاؤں میں جانا ہوا تو ایک اٹھارہ انیس سالہ جوان کا تعارف مجھ سے یوں کروایا گیا “ شاہ جی یہ ہمارے گاؤں کی پہچان ہے۔” اس سے قبل کہ میں کہتا ماشااللہ جوان کیا کرتا ہے ؟ فوراً ہی جوان خود بول پڑا “ آپ ٹک ٹاک پر ہیں ؟ میرے 54K فالورز ہیں”۔ میں یہ سن کر اس کے سامنے شرمندہ ہو گیا اور ندامت سے سر جھکائے کہا کہ بھائی میں ٹک ٹاک پر نہیں ہوں۔
اس نے مجھے یوں دیکھا جیسے چڑیا گھر میں جانور کو حیرانی سے دیکھ رہا ہو۔ بولا “ تو آپ کیا کرتے ہیں ؟۔”۔ میزبان صاحب بولنے لگے تو میں نے ان کو ٹوک دیا اور جوان کو کہا “ کچھ نہیں بچے، ایسے ہی شغل میلہ بس۔ جاؤ کھیلو”۔
یہ کسی ایک گاؤں کا قصہ نہیں۔ میانوالی کے اندرون کسی چک کا ذکر ہے۔ وہاں بھی ایک بھائی صاحب کو مجھ سے ملوایا گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے فالورز بتاتے میں نے پہلے ہی کہہ دیا “ ٹک ٹاک، یوٹیوب اور سنیک ویڈیو پر میں نہیں ہوں بھائی۔ اس کے علاوہ کچھ کرتے ہوں تو بتائیں”۔ اس نے مجھے حقارت سے یوں دیکھا جیسے رمی کرتے حاجی جائے ابلیس کو دیکھتا ہے۔
اک جگہ مجھے ایک شخص سے ملواتے بتایا گیا کہ یہ ہمارے علاقے کی پہچان ہے ،ماشااللہ اس کو بول چینل والے گیم شو میں مدعو کر چکے ہیں۔ میں نے ہنس کے پوچھا “ وہاں آپ نے کیا کِیا پھر ؟”۔ بہت کانفیڈنس سے بولا “دانش تیمور نے غبارے دیے تھے جو ایک سانس میں بھرنے تھے۔ میں جیت گیا تھا”۔
ڈکی بھائی، ندیم نانی والا، بھولا ریکارڈ، رجب بٹ ولد افضل بھٹی، زینب کے پاپا ،سسٹرالوجی اور مین سٹریم میڈیا پر گیم شوز و فیملی شوز کے نام پر چلتے پروگرامز اور ٹک ٹاک پر ملین فالورز کے اس دور میں ان سے بچ کر جینا بھی ایک ہنر ہے۔ سماجی سطح پر ہم کتنا نیچے گر چکے ہیں اور سیاسی و مذہبی سطح پر کس درجہ گراوٹ کا شکار ہیں، یہ سوچ کر ہی بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اب تو مستقبل کا نقشہ بہت خطرناک لگتا ہے۔ میرے بچے کے بڑے ہونے تک ہر کوئی اپنی گلی کی پہچان بن چکا ہو گا۔ اگلی نسل کا تعارف بدل رہا ہے۔میں نے بھی اپنے بیٹے کو کہا ہے کہ نالائق کم سے کم اپنی رہائشی سوسائٹی کی پہچان تو بن جانا۔۔مقابلہ سخت ہے۔
From FB