“آج اورکزئی کے علاقے میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر نہایت افسردہ ہوں۔ ملٹری آپریشنز میں ہر طرف ��رف پاکستانی ہی شہید ہو رہے ہیں، چاہے وہ عام شہری ہوں، پولیس والے ہوں یا فوجی۔ آج کی شہادتوں میں ایک کرنل اور میجر بھی شامل ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ تمام شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔
ملک پر مسلط مافیا کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی بدترین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اس سال دہشتگردی کے ریکارڈ واقعات ہوئے ہیں جن میں جس بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے، جبکہ سال کے اختتام میں ابھی دو مہینے باقی ہیں۔ میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے چار اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ناگزیر ہے جن میں خیبرپختونخوا حکومت، قبائلی علاقوں کی عوام�� افغان حکومت اور افغان عوام شامل ہیں۔ موجودہ رجیم نے جنگ و جدل کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے، وہ حالات کے مزید بگاڑ کی وجہ بن رہی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کو بارہا ہدایات دیں کہ خیبر پختونخوا میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف شروع کیے گئے غیرضروری ملٹری آپریشنز کے خلاف کھڑی ہو، ہمارے دور میں ان تمام علاقوں میں امن قائم ہو چکا تھا، لیکن انتہائی دکھ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت میرے امن کے ویژن پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اپنے آپ کو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ایجینسیوں کی جنگی پالیسیوں سے ایسے دور نہیں رکھ سکی جس طرح ضرورت تھی۔ ایسے میں خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی ک�� علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سہیل آفریدی کے سپرد کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
ڈرون حملوں، جیٹ طیاروں اور مارٹر گولوں کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی پالیسی انتہائی بیوقوفانہ حکمت عملی ہے، جس کے باعث ملک دہشتگردی کے منحوس چکر سے کبھی نکل نہیں پایا۔ آج دہشتگردی کے واقعے میں ہونے وال�� شہادتوں کے بعد ہماری سیکیورٹی فورسز جواباً کاروائی کریں گی جس کے نتیجے میں دوسری جانب سے پھر ردعمل آئے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔
ہمارے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں دہشتگردی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی۔ باوجود اس کے کہ اس وقت افغانستان میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ ایسے میں، میں نے ذاتی حیثیت میں افغانستان کا دورہ کیا اور اشرف غنی کو بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان دورے کی دعوت دی۔ تعلقات بحالی کی عملی کوششوں اور موثر حکمت عملی کے باعث ملک میں بدامنی کے ایسے واقعات نہیں ہوئے جیسے آج ہورہے ہیں۔
دوسری جانب اقتدار پر قابض موجودہ حکمرانوں نے افغانستان میں نئی بننے والی حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ بلکہ چالیس سال کی مہمان نوازی کے بعد جس طریقے سے افغان پناہ گزینوں کو بے عزت کر کے ملک بدر کیا گیا وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ بلاول بھٹو ایک سال سے زائد وزارتِ خارجہ کے منصب پر ��راجمان رہا اور تمام دنیا گھومنے کے باوجود، تاریخ کے اس انتہائی اہم موڑ پر ایک مرتبہ بھی کابل نہیں گیا اور نہ ہی افغان حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے رابطہ کیا۔
دیرپا قیامِ امن کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے، تمام فریقین مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں۔ میں پُرامید ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی سے نئی شروعات ہوں گی۔ عوامی نمائندوں، جرگوں اور قبائل سے معاونت حاصل کی جائے گی، دہشتگردی کے مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے تمام فریقین بات چیت کے ذریعے معاملہ فہمی سے دیرپا حل دریافت کریں گے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ میری ہدایات کے عین مطابق نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی میرے ویژن، قبائلی روایات اور عوامی امنگوں کی روشنی میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں امن کے بہترین فارمولے پر عمل کروانے اور دیر پا امن کے قیام میں بہترین کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔”
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (٨ اکتوبر ۲۰۲۵)
On his 73rd birthday, our father Imran Khan remains locked in a death cell - 790 days without his family, without his doctors, without his lawyers.
Yet his courage endures. We must not give up, because he never will.
“The second fabricated Toshakhana case is being hurriedly pushed through in court. Only a few weeks ago, the testimony of the prosecution’s primary witness was exposed as false before the court. Thereafter, my former Military Secretary Brigadier Ahmed and Deputy Military Secretary Colonel Rehan also confirmed that all documentation of gifts was completed strictly in accordance with the rules. All lawyers agree that this case should have been dismissed at the outset by the judge. Despite this, a maliciously motivated and fabricated case continues to be carried forward.
Similarly, another fabricated case against me, the so-called “Cipher Case” - which is the most expensive case in Pakistan’s history, on which tens of millions of the people’s money from the national exchequer has been wasted - proved so weak before the High Court that it should not have survived at the trial court in the first place.
A third major case was manufactured about the Al-Qadir University Trust. Al-Qadir is a welfare-oriented educational institution whose objective is to provide both scientific and religious education to the youth. It was established a year before the funds sanctioned by the Supreme Court were remitted. Yet, by raising absurd questions against a charitable institution, a baseless case was fabricated which had already been dismissed at the trial court stage. Since January, we have been seeking a hearing date in the Islamabad High Court, and now, after ten months, the Chief Justice of the Islamabad High Court, Justice Dogar, has scheduled it to be heard on the 16th of October (2025).
The undue haste being shown by Judge Arjumand in the Toshakhana-II case has an underlying motive: to deliver a conviction in this case, so that even if bail is granted in the Al-Qadir case, it would not be possible for me to be released. It is noteworthy that in the past twelve years, three Toshakhana-related cases have all been before this same judge. By law, vehicles cannot be taken from the Toshakhana, yet Nawaz Sharif unlawfully took a bulletproof Mercedes, Asif Zardari illegally extracted three vehicles, and Maryam Nawaz, after unlawfully acquiring a vehicle, neither declared it nor showed it in her tax returns. All of this is on record with irrefutable evidence, yet their cases are not being taken up at all, while a selective and baseless trial against me for lawfully acquired gifts is being fast-tracked.
In the Al-Qadir Trust case, since Zulfi Bukhari persistently refused to give false testimony against me, his property in Pakistan is now being auctioned, due to political vendetta. This is the worst example of political victimization. This lawlessness is what I call “Asim Law”. Decisions in the country today are dictated by whether one is aligned with or opposed to “Asim Law”.
If you stand with Asim Law, miracles can take place. No matter how massive your wheat scandal may be, no one questions you. If you illegally obtain cars from Toshakhana, no case is filed against you. Whether it is the sugar mafia or the land mafia, as long as you are under the umbrella of Asim Law, you remain untouchable. But if you stand against Asim Law, then fabricated cases are concocted against you, you are thrown into prison, and you and your family are subjected to every conceivable form of injustice unprecedented in this nation’s history.
I wish to convey this message to my Pakistanis: the very foundations of moral and judicial values in Pakistan have been torn apart. If you do not rise today for your rights and for the rule of law, the times ahead will be catastrophic. Injustice and fascism will further devastate the economy. In the past three years alone, more than three million Pakistanis have left the country. The policies of the incompetent and fraudulent government have inflicted irreparable damage upon the economy: textile mills are shutting down exports, and the poor masses are rapidly falling below the poverty line.
1/2
Hazrat Ali (may Allah be pleased with him) said, “A system based on disbelief can endure, but one built on injustice cannot.” We must rise against this tyranny, for the sake of our own future and that of our nation. Therefore, I am sending this message to the entire nation: Get ready.”
Message from former Prime Minister Imran Khan from prison - October 1st, 2025
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس، عدالت میں تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ چند ہفتے قبل اس کیس کے مرکزی سرکاری گواہ کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر دیا گیا تھا، اسکے بعد کیس بوگس ثابت ہو چکا، اس کے بعد میرے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر احمد اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کرنل ریحان نے بھی تصدیق کی کہ قوائد کے عین مطابق تحفے کی دستاویزات مکمل تھیں۔ تمام وکلاء کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ کیس جج کی طرف سے اسی وقت خارج کر دیا جانا چاہیے تھا، اس سب کے باوجود بدنیتی پر مشتمل یہ کیس ابھی تک چلایا جا رہا ہے۔
اسی طرح میرے خلاف دوسرا جھوٹا مقدمہ سائفر کیس، جو کہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس ہے، اور جس پر قومی خزانے سے عوام کے کروڑوں خرچ کیے گئے، ہائی کورٹ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر یہ ٹرائل کورٹ میں ہی قائم نہیں رہنا چاہیے تھا۔
تیسرا بڑا مقدمہ القادر یونیورسٹی کے خلاف بنایا گیا۔ القادر ایک فلاحی تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بیک وقت سائنسی و مذہبی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ سپریم کورٹ میں فنڈز آنے سے ایک سال قبل قائم کیا گیا تھا- ایک فلاحی ادارے پر بھونڈے سوالات اٹھا کر بے بنیاد کیس قائم کیا گیا جو کہ ٹرائل کورٹ میں ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے ہم جنوری سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاریخ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس ڈوگر نے 10 ماہ بعد 16 اکتوبر کو اس کی سماعت مقرر کی ہے۔
توشہ خانہ 2 میں جج ارجمند کی جلد بازی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا دے دی جائے تاکہ اس کے بعد القادر کیس میں ضمانت ہو بھی جائے تو بھی میری رہائی ممکن نہ ہوسکے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں میں توشہ خانہ سے متعلق تین کیسز اسی جج کے پاس رہے ہیں۔ قانوناً توشہ خانہ سے گاڑیاں گھر نہیں لی جائی ج سکتیں، مگر نواز شریف نے خلافِ قانون توشہ خانہ سے بلٹ پروف مرسڈیز نکلوائی، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے ناجائز طور پر 3 گاڑیاں نکلوائیں اور مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی نکلوانے کے بعد اسے ٹیکس ریٹرن میں دکھایا اور نہ کہیں ڈیکلیئر کیا۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تینوں کیسز کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں مگر ان تینوں کے کیسز لگائے ہی نہیں جارہے جبکہ شفاف طریقے سے حاصل کئے گئے تحائف کے خلاف سیلیکٹو ٹرائل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔
القادر ٹرسٹ کے کیس میں چونکہ زلفی بخاری نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے مسلسل انکار کیا، اس لئے انتقام کی سیاست کے تحت پاکستان میں موجود ان کی جائیداد کو نیلام کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ یہی لاقانونیت عاصم لاء ہے۔ اس وقت ملک میں عاصم لاء فیصلوں کی بنیاد ہے کہ اسکے حق میں یا خلاف گئے تو آپ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔
جب آپ عاصم لاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ پر کرامات ہوتی ہیں، آپ کا گندم کا اتنا بڑا اسکینڈل بھی ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، آپ توشہ خانہ سے گاڑیاں بھی لے نکلتے ہیں، تو بھی آپ پر کوئی کیس نہیں بنتا۔ شوگر مافیا ہو یا لینڈ مافیا، عاصم لاء کی چھتری تلے ہیں تو آپ کسی قانون کی پکڑ میں نہیں آتے لیکن اگر آپ عاصم لاء کے خلاف جاتے ہیں تو آپ پر بےبنیاد من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، آپ اور آپ کے خاندان پر ہر وہ ظلم کیا جاتا ہے جو اس ملک کی تاریخ میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔
میں اپنے پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بنیادی اخلاقی اور عدالتی اقدار کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ اگر آپ آج اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔ ناانصافی اور فسطائیت کے باعث معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ پچھلے تین سالوں میں تیس لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ موجودہ نااہل اور جعلی حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کو آگے ہی شدید نقصان پہنچایا ہے، ٹیکسٹائل ملیں اپنی برآمدات بند کر رہی ہیں اور غریب عوام تیزی سے غربت کی لکیر کے نیچے جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ "تیاری پکڑیں"۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (یکم اکتوبر، ۲۰۲۵)
“The FIA sent a team to interrogate me for voicing my views on these matters:
- “Anti-state” content in my tweets
- Afghanistan and foreign policy
- “Asim Law”
- My comparison of Asim Munir’s actions to those of Yahya Khan that led to the Fall of Dhaka
- Psychological torture in jail
The very first question they put to me was why my Twitter account carries what they call “anti-state” content. I responded by reminding them that I am a former Prime Minister and I represent eighty percent population of Pakistani. I will speak on every issue that is in the interests of my people. I have every right to raise my voice for them. No power can strip me of this right, nor can anyone silence my voice on matters that concern the interests of my country and my people.
Their second question was why I repeatedly raise the issue of Afghanistan and foreign policy. My answer was that the prudent policies adopted during PTI's tenure ushered in an era of unprecedented peace in Pakistan, most notably in the tribal regions. Today, as military operations drag us back into turmoil, I cannot remain silent while my people are burned in the fire.
During PTI's term in government, Afghanistan was under the anti-Pakistan Ashraf Ghani administration. The Afghan NDS, working in close collaboration with India, was hostile to Pakistan. Even then, we engaged them in dialogue. I personally went to Afghanistan and invited Ashraf Ghani to Pakistan in the interest of peace. This restored peace to the tribal areas and, after a long time, an environment of stability began to take hold there. The then ISI also supported our policy. But the moment Asim Munir assumed command, he turned to threatening the new pro-Pakistan Afghan government and set out to destabilize the situation. Afghan refugees with three generations of roots here were expelled by force, while drone strikes shattered relations between the two nations and destroyed the hard-won peace in Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas. There can be no peace until all four stakeholders in the region - the Afghan government, the people of Afghanistan, the Pakistani government, and the people of Khyber Pakhtunkhwa - sit together. History shows that military operations cannot establish peace no matter how much force is used.
The next point of interrogation was about my description of the current situation as “Asim Law.”
My answer was that the destruction taking place everywhere in the country today is under Asim Law. This is not propaganda. It is a statement based on facts and ground realities. First, I was abducted from inside court premises by paramilitary Rangers, and the false-flag operation of 9th May (2023) was orchestrated. That operation was preplanned; otherwise, ten thousand PTI workers could not have been rounded up in mere hours.. The CCTV footage was made to disappear to protect the real culprits. After that, those who held press conferences were set free, and those who continued to stand with PTI were subjected to relentless harassment. This scheme did not just crush PTI; it shattered the very foundations of human rights in the country. After that, when the people entrusted us with a two-thirds mandate, it was stolen, and the very thieves whose tales of corruption the ISI itself once told me were imposed on the nation. The Election Commissioner who should have been charged under Article 6 was granted a nine-month extension. The 26th Constitutional Amendment was passed through the Form 47 Assembly, and judges with no conscience were elevated from whom there is no hope for justice. Every institution has been destroyed.
The ISI, which was working for peace with Afghanistan during PTI's term, has now been reduced to Asim Munir’s personal mafia whose sole duty is to crush PTI by any means. All of this is happening under Asim Law.
The fourth question put to me was why I mention the Fall of Dhaka and compare Asim Munir with Yahya Khan.
I responded that my words on Muheeb-ur-Rahman and Yahya Khan are drawn directly from the Hamood-ur-Rehman Commission Report and the record of history. Yahya Khan, instead of transferring power to Mujeeb-ur-Rahman’s majority party, chose to launch a military operation to extend his rule, and in doing so he tore the nation apart. Talks with Mujibur Rahman were held one day, only to be followed the next by a brutal military operation against the Bengalis. The same is happening here today. What Yahya Khan did in 1971 is exactly what Asim Munir is doing now, and with this, the Constitution and the law have been put to death in our country.
The fifth question they asked me was why I claim to have been subjected to psychological torture.
I responded that, unlike the rest of the prisoners, my cell door remains shut at all times and I am denied any human contact. Electricity is cut, newspapers are withheld, and visits are suspended for days at a stretch. When the 26th Constitutional Amendment was being imposed, I was kept in solitary confinement for three consecutive weeks, locked away in a tiny cell. My television has been disconnected for the past seven months, although this facility is available to other inmates. At will, they can stop the delivery of newspapers. I am not allowed to speak with my children on the phone. Both Bushra Begum and I are held in solitary confinement. And what greater form of psychological torture can there be than placing someone in solitary confinement and then denying them even the basic facilities afforded to ordinary prisoners? Meetings with my sisters and even my lawyers are barred. Right now, meetings can only take place because trial proceedings are being held in a jail court, but it seems likely that even this could soon be discontinued. All of this is not only unlawful but also in violation of prison regulations.”
— Unjustly imprisoned Former Prime Minister Imran Khan, during the ongoing “military-style trial” at Adiala Jail (29 September, 2025)
“اپنی پارٹی اور پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ
تیاری پکڑیں!!
پشاور جلسے کی کال پر خیبرپختونخوا کے علاوہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی عوام کی بھرپور شرکت پر پوری قوم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ جبر کے اس ماحول میں لوگوں کا نکلنا خوش آئیند ہے”
ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (29 ستمبر، 2025)
3/3
“میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں:
نمبر ۱: “ریاست مخالف” ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ۳: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکا��نٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیا��ہ امن قائم ہوا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور ا��رف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بنا اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جاتے۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا او�� ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے، جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں کیا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ باقی قیدیوں کے برعکس میرے کمرے کا دروازہ تک نہیں کھولا جاتا۔کسی کو مجھ سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں۔ کئی کئی روز تک بجلی، اخبار اور ملاقات بند کر دی جاتی ہے۔ جب چھبیسویں آئینی ترمیم مسلط کی جا رہی تھی تھی تب تو مجھے مسلسل 3 ہفتے کے لیے ایک چھوٹے سے کمرے میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔ 7 ماہ سے ٹی وی بند ہے حالانکہ باقی قیدیوں کو یہ سہولت میسر ہے۔ جب چاہے اخبار بھی بند کر دیتے ہیں۔ بچوں سے فون پر بات نہیں کروائی جاتی۔ بشرٰی بیگم اور میں دونوں قید تنہائی میں ہیں۔ ذہنی تشدد اور کیا ہوتا ہے کہ کسی کو قید تنہائی میں ڈال کر اسے عام قیدیوں کی سہولت بھی نہ دی جائے۔ میری بہنوں اور وکلاء تک سے ملاقات بند کر دی جاتی ہے۔ آج کل جیل ٹرائل کی وجہ سے ملاقات ہو رہی ہے، اور لگتا ہے کہ عنقریب یہ بھی بند کر دی جائے گی، یہ سب قانون اور جیل مینوئیل کے بھی خلاف ہے”-
ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں جاری “ملٹری سٹائل ٹرائل” کے دوران گفتگو (29 ستمبر، 2025)
2/3
“میں عاصم منیر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر کرکٹ کی بہتری مقصود ہے تو محسن نقوی کو ہٹا کر کسی قابل شخص کو اس عہدے پر تعینات کیا جائے جس کو کرکٹ کی سمجھ ہو۔ جب سے پی سی بی کی سربراہی محسن نقوی کو سونپی گئی ہے، کرکٹ کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔
2021 میں اسی پاکستانی ٹیم نے 10 وکٹوں سے بھارت کو شکست دی تھی لیکن اب ٹیم مسلسل ہار رہی ہے کیونکہ اس کی باگ دوڑ محسن نقوی جیسے شخص کے ہاتھ میں دے کر پاکستان کرکٹ کو غیر مستحکم کر دیا گیا ہے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں جاری “ملٹری سٹائل ٹرائل” کے دوران گفتگو (29 ستمبر، 2025)
1/3