خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی مصنف کالم نگار شمس مومند کے درجہ ذیل کتب PDF میں دستیاب ہیں۔پڑھنے کے شوقین انبکس کرکے مفت حاصل کرسکتے ہیں
1۔ پختونخوا کے وسائل
2۔ فاٹا انضمام کی کہانی
3. مہمند قبائل (کل اور آج)
4۔ جنگ مسلسل
5۔ ��ین ممالک چار کہانیاں
6۔ ہمارے ہیرے
7۔ شپول (پشتو شاعر)
یہ منظر صومالیا، موغادیشو یا کینیا کے نہیں،
یہ مناظر آج پشاور کے ہیں۔
آپ کو جگہ جگہ عمران خان کا پھیلایا ہوا شعور نظر آ رہا ہے۔
جب حکومتیں کام کرنے کی بجائے نک دا کوکا پر ناچنا شروع کردیں تو شہروں کا یہی حال ہوتا ہے
مردان جلسہ! ہم وزیراعلی صاحب کو خوش آمدید کہتے ہیں، یہ انکا جمہوری حق ہے۔سوال یہ ہے کہ 13 سال میں مردان کو کیا دیا؟ عمران خان کی رہائی پر سنجیدگی خود ان کے گھر سے سوال بن چکی ہے۔ اگر اعتماد ہوتا تو اختیار دوسروں کو نہ دیا جاتا۔ وزیراعلی اور حکومت کا کام صوبے کی خدمت ہے سیاست نہیں
@latifwaxirii تورپیکئ بھی وزیر ہی ہے اس کو پشاور سے جوڑ کر کیوں قبائل کارڈ استعمال کررہے ہوں ؟ آپ بھی وزیر وہ بھی وزیر تو پشاور کا نام کیوں لے رہے ہوں بھائی
تاریخ کے کٹہرے میں ہم سب نے کھڑا ہونا ہے۔
2021 سے لے کر 2026 تک ہم مسلسل کہتے آئے کہ یہ خوش فہمی نہ پالیں کہ افغانستان میں آپ کی “دوست حکومت” آگئی ہے۔ دہشتگرد کبھی ��وست نہیں ہوتا، دہشتگرد صرف دہشتگرد ہوتا ہے۔
ہم نے خبردار کیا تھا کہ نظریاتی وابستگیوں اور وقتی مفادات کی بنیاد پر بنائی گئی پالیسیاں آخرکار ریاست اور عوام دونوں کو نقصان پہنچائیں گی۔ آج وہی عناصر، جنہیں کل تزویراتی گہرائی یا دوستی کا نام دیا جارہا تھا، نہ جانے کس کس عنوان سے آپریشنوں کی زد میں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے تاریخ سے کچھ سیکھا؟
جب تک ریاستی پالیسی کی بنیاد یہ نہیں ہوگی کہ دہشتگرد کا نہ کوئی دوست ہوتا ہے، نہ کوئی مذہب، نہ کوئی قوم تب تک ہم یہی غلطیاں دہراتے رہیں گے۔ تب تک ہمارے اپنے لوگ بے گھر ہوں گے، ہمارے بازار ویران ہوں گے اور ہمارے نوجوان قبروں ا��ر کیمپوں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے۔
ریاست کی ذمہ داری وقتی بیانیہ بنانا نہیں، مستقل اصول اپنانا ہے۔ اور اصول صرف ایک ہونا چاہیے:
دہشتگردی کے خلاف بلاامتیاز، غیرمشروط اور دوٹوک مو��ف۔
ورنہ تاریخ صرف یاد نہیں رکھتی، فیصلہ بھی سناتی ہے۔
When Zia Ul Haq entered into the US Soviet war, Wali baba warned the damage would be endless. In 2021 his grandson Aimal Wali Khan cautioned against toppling a democratic govt in Afghanistan yet some chose celebration over sense. History ignored is tragedy...
میں اپنے ملک بالخصوص پختونوں کو دہشتگردی کے عفریت سے نجات دلانے کے ہر عمل کی حمایت کرتا ہوں لیکن کیا صاحبان اختیار یقین دلا سکتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد یہی طالبان دوبارہ سے اچھے یا گڈ تو نہیں ہو جائیں گے؟ طالبان کے کھلے یا ڈھکے چھپے سیاسی ہمدردوں کو کب تک جگہ ملتی رہے گی؟
میری پوزیشن آج بھی وہی ہے جو کل تھی۔ جس کی پاداش میں اے این پی کے سینکڑوں ہزاروں کارکن اور رہنما شہید ہوئے؛ ولی باغ پ��، میرے والد پر، خودکش حملہ ہوا۔ ہم کل بھی ہر قسم کے طالبان اور طالبانائزیشن کے خلاف تھے اور آج بھی ہیں۔ پوزیشن ان کی تبدیل ہوئی ہے جو کل تک ان کو گڈ طالبان سمجھتے تھے۔ قوم کو کھلے عام بتائیں اور یقین دہانی کرائیں کہ یہ نئی پالیسی مستقل ہے اور آج کے بیڈ طالبان کل دوبارہ سے گڈ نہیں ہو جائیں گے۔
طالبان نے پختونوں کی معاشرت کی تباہی کر دی ہے، آپ مکمل تباہی کی طرف جا رہے ہیں،پختونخواہ واحد صوبہ ہے جہاں کم عمر بچیوں کی شادیوں پر پابندی نہیں، آئینہ آفریدی جیسی بچی کی ویڈیو پر وزیر اعلیٰ اور کابینہ کی خاموشی الارمنگ ہے،میوزک کفر قرار دیا جا رہا ہے اور قبائلی فرسودہ روایات مین سٹریم ہو رہی ہیں، پختون لیڈرشپ ہوش کے ںناخن لے ،سکولوں میں باچا خان کی تعلیم اور عورتوں کی حیثیت کیلئے جدوجہد کو شامل کریں مدارس کو بتدریج اسکولوں میں تبدیل کریں ، فرقہ ورانہ سوچ سے باہر آئیں خواتین اور بچوں کو حقوق دیں !
افغانستان میں 2 جنگیں کوئی جہاد نہیں تھا، ڈکٹیٹروں نے اپنے مفاد کیلئے جنگوں میں حصہ لیا، یہ کوئی اسلام یا مذہب سے محبت نہیں تھی، made in America جہاد کیلئے نصاب بدلا گیا، ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف
1/2آج پشاور میں بیٹی کیلئے شوز خریدے، جسکی قیمت 3500 تھی کیشئیر نے کہا کہ آپ شاپنگ بیگ کے 30 روپے اضافی دینگے۔میں نے کہا میں نے آپ سے سودا لیا ہے۔ آپ مجھے کسی بھی پلاسٹک یا کاغذ میں ڈال کر دے دیں 30 روپے کیوں دوں، کہا یہ کمپنی کی پالیسی ہے۔ جب میں نے 30 روپے اضافی دئے تو اپنے
@CSKPOfficial The kids setting in the buses are also in danger. And the driving is so harsh they don't care about the kids setting there or the bikes or cars on roads.... Kindly take strict actions as soon as possible.. thanks
@CSKPOfficial Sir kindly take actions against school buses specially Peshawar Model school buses. They are using 1980s buses with worst possible engines releasing dark gray smoke one can't even breath behind it on bike or with open mirror. I have videos regarding this matter