''اللہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں کارساز ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں''
مدینہ کے پہاڑ پر خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروقؓ کی تحریر دریافت، سیدنا عمرؓ لکھنا پڑھنا جانتے تھے
ماہرین کے مطابق یہ نقش ابتدائی اسلامی دور کے معروف حجازی رسم الخط میں لکھا گیا ہے
یہ قدیم نقش ایک مختصر مگر معنی خیز عبارت پر مشتمل ہے جس میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ذکر موجود ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس پر درج الفاظ کا مفہوم یہ ہے:
"اللّٰہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں کارساز ہے، اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔"
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ تحریر ابتدائی اسلامی دور کے حجازی رسم الخط میں لکھی گئی معلوم ہوتی ہے، جو اسلام کے اولین زمانے میں رائج تھا۔
روایات میں آتا ہے کہ حجازی خط بعد میں ترقی کرتے ہوئے کوفی رسم الخط کی صورت اختیار کر گیا، جو اسلامی دنیا میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوا۔
بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ نقش پہلی صدی ہجری سے تعلق رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی تاریخی اہمیت بہت زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بعض اہلِ تحقیق نے اس امکان کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ عبارت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں لکھی گئی ہو۔
تاہم اس بات کی قطعی اور متفقہ تاریخی تصدیق موجود نہیں کہ یہ تحریر خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دستِ مبارک سے لکھی گئی تھی۔
جب ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر درود پاک پڑھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس عمل کے لیے خاص فرشتے مقرر فرمائے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین میں گشت کرنے والے ہیں، جو میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔" (سنن نسائی)
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جب کوئی شخص درود پڑھتا ہے تو فرشتہ عرض کرتا ہے:
"یا رسول اللہ! فلاں بن فلاں (یعنی آپ اور آپ کے والد کا نام لے کر) نے آپ پر درود و سلام بھیجا ہے۔"
براہِ راست سماعت – روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے وقت
اگر کوئی خوش نصیب مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ پر حاضر ہو کر سلام عرض کرتا ہے، تو آپ ﷺ اسے براہِ راست سنتے ہیں۔
آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
"جو شخص میری قبر کے پاس مجھ پر درود و سلام بھیجتا ہے، میں اسے خود سنتا ہوں، اور جو دور سے بھیجے، وہ مجھے پہنچا دیا جاتا ہے۔" (بیہقی)
ایک اور مشہور روایت (سنن ابی داؤد) میں ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان آپ ﷺ پر سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی روحِ مبارک کو متوجہ فرما دیتا ہے تاکہ آپ ﷺ عالمِ برزخ میں اس سلام کا جواب دینے کے لیے پوری طرح حاضر ہوں۔
فرشتے ہمارا نام اور والد کا نام لے کر یہ سلام بارگاہِ رسالت میں پیش کرتے ہیں، اور آپ ﷺ خود سنتے اور جواب عطا فرماتے ہیں۔
کتنی بڑی سعادت ہے کہ جب ہم درود پڑھتے ہیں، تو ہمارا نام لے کر سید الانبیاء ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے، اور ہمارے لیے برکت اور قرب کا سبب بنتا ہے۔