In intensive talks at highest level in 47 years, Iran engaged with U.S in good faith to end war.
But when just inches away from "Islamabad MoU", we encountered maximalism, shifting goalposts, and blockade.
Zero lessons earned
Good will begets good will.
Enmity begets enmity.
آج ہی کے دن، 8 دسمبر 1971 کو، ڈھاکہ ایئرپورٹ پر واپسی کی فلائٹ کے لئے بیٹھا تھا۔ ساتھیوں سے کہہ رہا تھا کہ اگلی دفعہ یہاں شاید ویزے پر ہی آ سکیں گے۔
جو کچھ دیکھ چکا تھا، وہ ناقابلِ یقین تھا۔ ہماری فوج اپنے ہی ہم وطنوں کا قتلِ عام کر رہی تھی، اور کوّوں اور گدھوں کے نوچے ہوئے لاشوں کے ڈھیر اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھے تھے۔ ان کا لیڈر ہر تقریر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا، مگر شاید ہماری ریاست خود علیحدگی چاہتی تھی۔
ہم نے وہاں کی سب سے بڑی پارٹی پر پابندی لگا دی، گولی سے اُن کے لوگوں کو دبایا، مگر ٹھیک 8 دن بعد ہماری فوج کو سرنڈر کرنا پڑا۔
آج، اُس سے بھی بڑی جماعت پر پابندی اور اس سے بھی بڑے لیڈر، عمران خان پر پابندی کی بات سن کر پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں: ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں 1971 میں کھڑے تھے۔
“اڈیالہ میں میرا نام نہاد ٹرائل کوئی جج نہیں ایک ISI کا کرنل چلوا رہا ہے، جو آرمی چیف عاصم منیر سے ہدایات لیتا ہے۔ یہ سول نہیں ملٹری ٹرائل ہے۔
پاکستان میں اس وقت جو بھی ہو رہا ہے عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے اور مسلسل آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ مجھ پر تین سو سے زائد بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے جن کا میں سامنا کر رہا ہوں اور کوئی ڈیل کیے بغیر عدالتوں سے انصاف لے کر ہی باہر آؤں گا۔ ہماری جماعت پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا گیا۔ اگر میرٹ پر فیصلہ کیا جائے تو میں اور میری اہلیہ آج ہی رہا ہو جائیں۔ میرے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کے تمام انسانی حقوق پامال ہیں۔ ہمیں عام قیدی والی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے، میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں آٹھ ماہ میں صرف ایک بار میری بچوں سے بات کروائی گئی۔ ججوں کی میرے مقدمات میں کوئی حیثیت نہیں نہ میرے مقدمات کا ٹرائل جج آزادانہ طور پر کر سکتے ہیں بلکہ ایک کرنل جو کہتا ہے وہی فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ کرنل عاصم منیر کے احکامات پر چلتا ہے۔
میں اپنی تمام پارٹی کو کہتا ہوں کہ آپ سب متحد رہیں ظلم کا نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔ آپ سب کے لیے لازم ہے کہ میری ٹویٹ کو ری ٹویٹ کریں تاکہ میرے پیغام پر اتحاد قائم رہے۔
خیبرپختونخوا میں ایک گرینڈ جلسے کا اعلان کیا جائے جس میں پورے ملک سے لوگ شریک ہوں اور اس سیاہ رات کے خلاف کھڑے ہوں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
3/3