خیبر کی عوام تین دن سے گھروں سے نکل کر مزاحمت کر رہی ہے۔ اب پشاور کے عوام بھی اپنے حقوق کے لیے باہر نکلیں اور آواز بلند کریں۔ پُرامن رہیں، متحد رہیں اور اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں!
خیبر پختونخوا میں مزاحمت جاری ہے! عوام اپنے آئینی، جمہوری اور بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ گورنر راج نامنظور، عوامی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں!
پشاور اشنگری میں پولیس کی بھاری نفری تعینات، پی ٹی آئی کا احتجاج جاری!
خیبر پختونخوا میں گورنر راج نامنظور! عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی ہر کوشش مسترد کرتے ہیں۔
پشاور میں پولیس غنڈہ گردی پر اتر آئی تھی، لیکن ہم پارٹی قیادت کے اعلان اور رہنمائی کے انتظار میں رہے۔ کارکن میدان میں موجود تھے، مگر قیادت کی طرف سے کوئی واضح لائحۂ عمل سامنے نہیں آیا۔
📌👊کوئی مانے یا نا مانے چند دن پہلے اس ملک پاکستان کے طاقتور حلقوں کے چند لوگ اڈیالہ جیل گئے تھے اور رہبر عمران_خان کے پاؤں پکڑیں تھے کہ خدا کے لئے لانگ مارچ نا کریں ہم سب کچھ مانے کے لئے تیار ہیں۔@all
حاجی فضل الٰہی ایم پی اے نے ہجرت کامران، فیاض اور ہمارے دیگر ساتھیوں کو مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے فوری نوٹس لینے اور ان کی رہائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
حقیقی آزادی ٹائیگرز کو اغوا ہوئے اتنے دن ہوئے کسی عدالت میں پیش نہی کیا جا رہا۔خیبر پختون خوا میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔وردی والے سیکیورٹی دینے کے علاوہ باقی سب کچھ کرتے ہیں۔ذرا ڈی جی خان پر بھی نظر رکھتے تو آج والا سانحہ نہ ہوتا۔
میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔