ایک دن آنحضرت ﷺ لوگوں میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا کہ ایمان کسے کہتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں کے وجود پر اور اس ( اللہ ) کی ملاقات کے برحق ہونے پر اور اس کے رسولوں کے برحق ہونے پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لاؤ ۔ پھر اس نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے پھر جواب دیا کہ اسلام یہ ہے کہ تم خالص اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو ۔ اور زکوٰۃ فرض ادا کرو ۔ اور رمضان کے روزے رکھو ۔ پھر اس نے احسان کے متعلق پوچھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا احسان یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ تو سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے ۔ پھر اس نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بارے میں جواب دینے والا پوچھنے والے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا ( البتہ ) میں تمہیں اس کی نشانیاں بتلا سکتا ہوں ۔ وہ یہ ہیں کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب سیاہ اونٹوں کے چرانے والے ( دیہاتی لوگ ترقی کرتے کرتے ) مکانات کی تعمیر میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں گے ( یاد رکھو ) قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی کہ اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے کہ وہ کب ہو گی ( آخر آیت تک ) پھر وہ پوچھنے والا پیٹھ پھیر کر جانے لگا ۔ آپ نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ ۔ لوگ دوڑ پڑے مگر وہ کہیں ن��ر نہیں آیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ جبریل علیہ السلام تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے ۔ امام ابوعبداللہ بخاری فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ان تمام باتوں کو ایمان ہی قرار دیا ہے ۔
(صحی�� بخاری، ۵۰)
Why IMS #IslamicMessagingSystem is launched? What are the purposes and goals behind it?
What is #Muslim_Identity ??
Do we really need it...??
Get ready with your questions, tomorrow we will have a great session with #SahilAdeem
In sha Allah