ایک شخص حاضر ہو کر عرض کیا :یا رسول الله صلى الله عليه وسلم جب میں اپنے رب سے مانگوں تو کیا کہوں ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : تم کہو
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي
اے الله مجھے بخش دے ، اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما
( اور پھر فرمایا ) یہ کلمات تمہارے لیے تمہاری دنیا اور آخرت دونوں جمع کر دیں گے ۔
صحیح مسلم جلد ۱ ٦۸۵۱
حکومت کی حمایت اب سکہ بند پٹواری بھی نہی کر رہے ہیں کیونکہ وہ سیاسی میچور لوگ ہیں ان کو نظر آ رہا عوام سے واردات ہو چکی ہے
اب جو دو چار اکاؤنٹ بچے جو سارا دن گوبر کو حلوہ ثابت کرتے یہ یا تو وہ جن کو براہ راست وزارت اطلاعات وغیرہ نے پیسوں پر رکھا ہوا ہے یا وہ جن کو حکومت سے دیگر فوائد مل رہے ہیں
رذق حلال کمانے والا کوئی شخص اب اس ظلم کی حمایت کر کے اپنی قبر گندی نہی کر رہا ہے
محمد عرفان وائرل ہوا اس کی سوچ نے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا پسے طبقات کی آواز بنا تو لوگوں نے اس کی مدد کرنا چاہی بہت لوگ اس کی پیسے سے مدد کرنا چاہتے تھے مگر محمد عرفان نے پیسے لینے سے صاف انکار کر دیا وہ کہتا اگر اس کی جیب میں پیسہ آیا تو وہ بدل جائے گا
جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دِین اختیار کرنا چاہے گا، تو اس سے وہ دِین قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جو سخت نقصان اُٹھانے والے ہیں۔
﴿سورۃ آل عمران، ۸۵﴾
بچپن میں جب آواز لگاتے کہ
کُڑیو منڈیو چیز ونڈی دی لے جاو
تو کچھ عناصر ایسے بھی آتے جو اپنا حصہ لے کر کہتے کہ میرے بھائی کا حصہ بھی دے دیں۔
آج کل ایسے لوگ وفاقی کابینہ میں پائے جاتے ہیں
یہ ایک مقدمہ میری طرف سے اور دوسرا میرے ساتھ بیٹھنے والے وزیر کی طرف سے
آہو
مجھے بیٹیوں کے آگے بڑھنے پر بہت خوشی ہوتی ہے۔ کوپن ہیگن بزنس سکول، کاروباری دنیا میں ایک نامور ادارہ ہے جہاں پڑھنے والے طلبہ گریجوایشن سے قبل ہی دنیا کے بڑے ادارے اپنے ماتھے کا جھومر بنا لیتے ہیں۔عزیزم جناب راجہ عامر شہزاد کی صاحبزادی کو وہاں میرٹ پرداخلہ ملا ہے، اللہ کامیابی عطا فرمائے اور بیٹی کے نصیب اچھے کرے۔ یادش بخیر یہ وہی بیٹی ہے جسے پہلے منت ترلا کرکے دعوت دے کر پاکستان بلایا گیا اور پھر سرکاری سوشل میڈیائی راتب خوروں نے سکول میں پڑھتی اس بچی کی تصاویر لگا کر جھوٹا پراپیگنڈا کیا کہ اس کی سرکاری ادارے میں تقرری ہوئی تھی اور راجہ صاحب اس کے لئے نوکری مانگنے آئے تھے۔
جنہوں نے یہ الزام لگایا تھا ان کی اپنی نوکری خطرے میں ہے۔
🤣
راہول گاندھی نے وائرل ہونے والے مسلمان محمد عرفان سے ملاقات کی ہے انڈیا میں اب مہم چل رہی کہ محمد عرفان جو ایک کچی بستی میں جھونپڑی میں رہتا مگر اس کا علم اس کا تجزیہ بارے تجزیہ نگاروں سے بڑھ کر ہے اسے بہتر مواقع مہیا کئیے جائیں
: رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا :
میں قیامت کے دن تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، سب سے پہلے میری قبر شق کی جائے گی (یعنی میں سب سے پہلے اٹھایا جاؤں گا)، سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔
( صحیح مسلم )
جناب فخر درانی نے پورے ثبوتوں کے ساتھ کچھ للی اور باندر کے بچونگڑے ٹائپ لوگوں کا ذریعہ روزگار اور بیانیہ سازی کی وجوہات بے نقاب کی ہیں۔ مناسب تو یہی تھا کہ فریق ثانی چپ رہتا، تاہم ان کے خوامخواہ بولنے سے پتہ چلا کہ
نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ
ون اینڈ دی سیم تھنگ
🤪🤪
🚨بھارت میں مودی مخالف احتجاج دیکھ کر ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
نریندر مودی مئی 2014 سے مسلسل بھارت کے وزیرِاعظم ہیں۔ اس دوران بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 312 ارب ڈالر سے بڑھ کر 676 ارب ڈالر تک پہنچے، معیشت تقریباً دو ٹریلین ڈالر سے چار ٹریلین ڈالر کے قریب جا پہنچی، غربت میں کمی آئی، متوسط طبقہ پھیلا، کئی ریاستوں میں فلاحی اسکیمیں متعارف ہوئیں بجلی کے دو تین سو یونٹ مفت ہوئے اور معاشی استحکام کے کئی اشاریے بہتر ہوئے۔ حالیہ جنگ میں پیٹر ول سستا ہوا کسی بھی غیر جانبدار تجزیہ کار کے لیے ان معاشی تبدیلیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
لیکن پولیٹیکل سائنس ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ریاستیں صرف معاشی ترقی سے نہیں بلکہ سماجی معاہدے (Social Contract)، جمہوری آزادیوں اور ادارہ جاتی توازن سے بھی مستحکم رہتی ہیں۔ جب حکومت اکثریتی قوم پرستی کو ریاستی شناخت بنا دے، مذہبی شناخت سیاست کا محور بن جائے، اختلافِ رائے کو قومی وفاداری کے پیمانے پر پرکھا جانے لگے، اور ناقدین، صحافیوں یا اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھنے لگے، تو معاشی کامیابیاں بھی سماجی بے چینی کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتیں۔
مودی حکومت کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں میں بھارت میں ہندو قوم پرستی کو غیر معمولی سیاسی طاقت ملی، سیکولر ریاست کا توازن کمزور ہوا، اور اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھے۔ ان کے نزدیک آج کے احتجاج صرف کسی ایک پالیسی کے خلاف نہیں بلکہ اس سیاسی ماڈل کے خلاف ردِعمل ہیں جس میں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی تقسیم بھی گہری ہوئی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی معاشرے میں معاشی کامیابی اور سیاسی شمولیت ایک ساتھ نہ چلیں تو بالآخر عوام سڑکوں پر آ کر صرف مہنگائی نہیں بلکہ اپنے حقوق، شناخت اور ریاست کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
بھارت میں کسی بھی نوجوانی انقلابی نے یہ نہیں کہا کہ "ان کی ماما مودی جی سے شادی کرنا چاہتی ہیں اور ان کے پاپا کو کوئی اعتراض نہیں"۔
کیہہ لکھ بیٹھاں اوئے میں کیہہ لکھ بیٹھاں
🤣🤣🤣
اس ویڈیو کو صرف سنیں نہیں، بلکہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ دیکھیں کہ گفتگو کس ترتیب سے کی گئی ہے، دلائل کیسے پیش کیے گئے ہیں، آواز کی پچ کہاں بلند یا نرم ہوتی ہے، لہجہ کتنا پراعتماد ہے، الفاظ کی ادائیگی کتنی واضح ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دلیل کتنی مضبوط اور منطقی ہے۔ ایک اچھی گفتگو صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ انداز، لہجے اور مضبوط استدلال سے مؤثر بنتی ہے۔