امیر مقام پنجاب کا دلال ہے اسے کیا پتا جرگہ کیا ہوتا ہے
مقامی لوگوں کی راۓ
اختیار ولی جٹ امیر مقام سے بھی بڑا پنجاب کا دلال ہے، پنجاب کی دلا گیری میں اختیار ولی جٹ نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں
فسطائیت، ظلم و جبر کی انتہا!
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، (@SohailAfridiISF ) اسپیکرِ صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی (@BabarSaleemSwat )اور صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان (@JunaidAkbarMNA )کے بارے میں مبینہ طور پر سات روز سے کوئی اطلاع نہیں۔ اہلِ خانہ بے خبر، پارٹی قیادت رابطے سے محروم—آخر یہ کیسا نظام ہے جہاں منتخب قیادت کے بارے میں بھی جواب نہیں دیا جا رہا؟
آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے، بنیادی حقوق کو پامال کرنے اور عوامی اختیار کو دبانے سے جمہوریت نہیں چلتی! اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت عارضی ہے، مگر آئین کی پامالی اور عوام کے سوالات تاریخ میں درج رہتے ہیں۔
یہ ظلم و جبر ناقابلِ قبول ہے لاپتا قائدین کے بارے میں فوری اور واضح جواب دیا جائے، ان کی خیریت سامنے لائی جائے اور قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے۔
پاکستان کے عوام کے شعور کا اندازہ لگائیں کہ لوگ اب کتنے کلیئر ہیں کہ کے پی کا ایک صحافی جسے ہم سب نے انتہائی ایماندار ، مخلص اور اپ رائٹ قرار دیا ہوا تھا، جس کے بارے میں لوگوں کی رائے شاندار تھی اور اسی لیے اس کو غیرآئینی، غیر قانونی سیٹ اپ کا حصہ بنایا گیا کہ لوگوں میں اس کی کریڈیبلٹی ہے ، یہ بیانیہ بنائے گا مگر جیسے ہی اس صحافی نے سرکاری نوکری حاصل کی، اس نظام کا نوکر بھرتی ہوا تو دو گھنٹوں میں اس کی اوقات دو ٹکے کی بھی نہ رہی، پاکستان اور خیبر پختونخوا کے لوگوں کے شعور کو سلام۔۔۔۔
پچھلے چار سال میں ایک کے بعد ایک وہ کردار ننگا ہوا جو اندر سے بہت چھوٹا اور لالچی تھا مگر اوپر اوپر سے بہت اپ رائٹ بنا ہوا تھا، عمران خان نے پاکستان کے لوگوں کی آنکھوں کا آپریشن کر دیا ہے
مراد سعید، سہیل آفریدی یا کسی اور کو موردِ الزام ٹھہرانے اور ان پر تنقید کرنے کے جال میں نہ پھنسیں اور نہ ہی اس میں الجھیں۔ یہ بیانیہ حکومت کی جانب سے اس مقصد کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے کہ ہمیں ایک ایک کرکے نشانہ بنایا جا سکے۔ زلفی بخاری
@sayedzbukhari
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
There is no legal basis for a protective custody of @SohailAfridiISF or @BabarSaleemSwat. They are under illegal and criminal detention.
Similarly @JunaidAkbarMNA and @DrAmjadAliMNA are also held under habeas corpus.
There are precedents that will soon bite the other parties, especially the ones on treasury benches.
1/2
پچھلے 24 سال سے پارٹی میں بہت کچھ دیکھا، سنا اور سیکھا ہے۔ بہت کچھ ہے کہنے کو، بہت کچھ ہے بتانے کو، لیکن۔۔۔!
اب وقت آ گیا ہے کہ کچھ تلخ سوالات کیے جائیں، کیونکہ خاموشی ہمیشہ مصلحت نہیں ہوتی اور ہر ناانصافی پر خاموش رہنا وفاداری نہیں کہلاتا۔
آخر یہ پولیٹیکل کمیٹیاں اور کور کمیٹیاں کس مقصد کے لیے بنائی جاتی ہیں؟ ان میں شمولیت کا معیار کیا ہے؟ ان کے ارکان کا انتخاب کون کرتا ہے، کس بنیاد پر کرتا ہے اور ان کی کارکردگی کا احتساب کون کرتا ہے؟
کیا کسی کمیٹی میں شمولیت کے لیے نظریاتی وابستگی، تنظیمی تجربہ، گراؤنڈ پر کارکردگی اور کارکنوں میں قبولیت ضروری ہے، یا چند بااثر افراد سے قربت ہی کافی سمجھی جاتی ہے؟
بدقسمتی سے، ان کمیٹیوں کے حوالے سے اکثر یہی تاثر سامنے آتا ہے کہ چند عزیز میاں قوال اور ان کے ہمنوا پوری جماعت کی سمت، سیاسی حکمتِ عملی اور فیصلوں پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ اپنی ہی دھن میں مگن یہ چند افراد خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہوئے اپنی سوچ اور اپنے مخصوص ایجنڈے کو پوری پارٹی پر مسلط کرنے لگتے ہیں، جبکہ گراؤنڈ پر کام کرنے والے، قربانیاں دینے والے اور مشکل وقت میں جماعت کے ساتھ کھڑے رہنے والے کارکن فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اجتماعی دانش اور جمہوری مشاورت سے چلتی ہیں، یا چند مخصوص لوگوں کی دھن پر پوری جماعت کو رقص کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے؟
اگر کوئی کارکن یا تنظیمی عہدیدار ان فورمز تک پہنچ بھی جائے تو کیا اس کی بات واقعی سنی جاتی ہے؟ کیا اختلافِ رائے کو اہمیت دی جاتی ہے؟ یا پھر فیصلے پہلے ہی طے شدہ ہوتے ہیں اور اجلاس محض ان پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کے لیے بلائے جاتے ہیں؟
اگر فیصلے پہلے ہی چند افراد نے کرنے ہیں تو پھر ان کمیٹیوں کا جواز کیا ہے؟ اور اگر ان کمیٹیوں کو آزادانہ رائے دینے کا اختیار نہیں تو انہیں بااختیار ادارے کہنے کا کیا مطلب ہے؟
سیاسی جماعتیں کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہوتیں۔ کارکن کسی فرد یا گروہ کے ذاتی ملازم نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کی قربانیاں چند لوگوں کو غیر محدود اختیار دینے کے لیے ہوتی ہیں۔
سیاسی جماعتیں اجتماعی فکر، مشترکہ نظریے، باہمی مشاورت اور کارکنوں کی جدوجہد سے بنتی ہیں۔ ان میں عہدے ذمہ داری ہوتے ہیں، ذاتی برتری کے تمغے نہیں؛ اور اختیار امانت ہوتا ہے، کسی کی ذاتی ملکیت نہیں۔
لیکن جب کمیٹیوں کی تشکیل میرٹ کے بجائے پسند و ناپسند پر ہو، اختلافِ رائے کو نافرمانی سمجھا جائے، کارکنوں کی آواز دبائی جائے اور چند افراد کی مرضی کو پوری جماعت کی پالیسی قرار دے دیا جائے تو پھر اسے داخلی جمہوریت نہیں، اختیارات کا ارتکاز اور اداروں کی بے توقیری کہا جائے گا۔
مرکزی مجلسِ عاملہ، صوبائی مجلسِ عاملہ اور ورکنگ کمیٹیوں کا مقصد محض عہدوں کی تقسیم یا چند افراد کو بااختیار بنانا نہیں ہونا چاہیے۔ ان اداروں کو حقیقی معنوں میں فعال، خودمختار اور جواب دہ ہونا چاہیے۔ ان میں مرکزی قیادت کے ساتھ صوبائی اور ضلعی تنظیموں کی مؤثر نمائندگی ہو، گراؤنڈ کی آواز سنی جائے اور ہر اہم فیصلے کے پیچھے دلیل، مشاورت اور واضح ذمہ داری موجود ہو۔
ہر کمیٹی کی تشکیل کے لیے شفاف معیار مقرر کیا جائے۔ ارکان کی اہلیت، تنظیمی کارکردگی، ذمہ داریوں اور اختیارات کی وضاحت ہو۔ اجلاسوں کی کارروائی ریکارڈ کی جائے، فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی ہو اور کارکردگی کا باقاعدہ احتساب کیا جائے۔
کسی بھی کمیٹی کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خود کو پوری جماعت سے بالاتر سمجھنے لگے۔
اسی طرح ضلعی اور صوبائی تنظیموں کو محض احکامات وصول کرنے والی اکائیاں نہ بنایا جائے۔ انہیں مرکزی فیصلوں پر اپنی رائے دینے، زمینی حقائق سامنے لانے اور پالیسیوں پر تنقید کرنے کا حقیقی حق حاصل ہونا چاہیے۔ کارکنوں کی رائے کو نظرانداز کرکے بنائی جانے والی حکمتِ عملی کاغذوں پر تو کامیاب دکھائی جا سکتی ہے، لیکن اس کی قیمت بالآخر پوری جماعت ادا کرتی ہے۔
اور اگر جماعت حکومت میں ہو تو پھر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ حکومتی کارکردگی، عوامی مسائل، انتخابی وعدوں اور پالیسیوں پر عمل درآمد کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ پارٹی کے متعلقہ ادارے حکومت سے سوال کریں، کمزوریوں کی نشاندہی کریں اور اصلاح کے لیے واضح سفارشات دیں۔ پارٹی اور حکومت کے اختیارات میں فرق برقرار رکھتے ہوئے سیاسی قیادت کو بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔
آخر یہ کون سا اصول ہے کہ کامیابی کا سہرا لینے کے لیے سب آگے آ جاتے ہیں، لیکن ناکامی کا وقت آئے تو ذمہ داری قبول کرنے والا کوئی نہیں ملتا؟
کسی نے کیا خوب کہا ہے:
"Success has many fathers, while defeat is an orphan."
کامیابی کے دعوے دار بہت ہوتے ہیں، لیکن ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
کیا کوئی تصور بھی کرسکتا ہے کہ دنیا کے ایک”جمہوری” ملک کی فوج نےایک سیاسی جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم کو تین سال سے قید میں ڈال رکھا ہو، بیوی بھی جیل میں اور بہنیں بھی۔
خاندان اور وکیلوں سمیت کسی سے ملاقات کرنے کی بھی اجازت نہ ہو۔ کونسا ملک ہوسکتا ہے بھلا؟
جو آگ 9 مئی کے بعد پنجاب میں لگی تھی آج اس آگ نے مکمل طور پر خیبرپختونخوا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے
پختون کلچر کی روایات کو اڑایا جا رہا ہے
گھروں کی دیواریں بغیر کچھ سوچے سمجھے پھیلانگی جا رہی ہیں
Video for International Media & Observers on Pakistan’s Governor’s Rule in KP and imposing of Emergency in the province.
The mandate snatching and killing of democracy series in Pakistan continues.
سہیل آفریدی کو پہلے سے بتا دیا گیا تھا کہ آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا،
بلکہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو مشورہ دیا گیا تھا، کہ آپ دونوں ضلع خیبر چلیں جائیں، لیکن وہ نہیں مانیں، اور سہیل آفریدی نے کہا کہ اب جو چیزیں بھی ہوں گی، قوم کو پتہ چلنا چاہیے سب کچھ، اطہر کاظمی
کامیابی کے سو دعوے دار نکل آتے ہیں، ناکامی مگر قیادت کے ظرف کا اصل امتحان ہے۔ لانگ مارچ کے فیصلے اگر اجتماعی مشاورت سے ہوئے تو ذمہ داری صرف سہیل آفریدی اور چند دیگر افراد پر کیوں؟ جو آج گرفتار ہیں اور اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے، سارا ملبہ انہی پر ڈالنا ناانصافی ہے۔ عمران خان نے ہمیشہ اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑے ہونے کی روایت قائم کی۔ غلط فیصلہ اور دانستہ غداری میں فرق ہوتا ہے۔ مشکل وقت میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہی آپکے کردار کا عکاس ہوتا ہے۔
8 فروری 2024 کو خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے کے لیے 3 ہزار سے زیادہ امیدواروں نے اپلائی کیا، ہر ایک نے کہا کہ میں ہی ٹکٹ کا اصل حقدار ہوں، ان تین ہزار میں سے اس وقت گراونڈ پر صرف دو اور سوشل میڈیا پر کل سات ایکٹیو ہیں، باقی سب کہاں گئے؟ ٹارگٹ ان تین چار کو کیا جارہا ہے جو اکتوبر 2024 ، نومبر 2024 اور ستمبر 2026 میں مسلسل ایکٹیو تھے، وہ تین ہزار امیدوار کہاں ہیں؟ اور یہی تین ہزار اگلے الیکشن میں پھر ٹکٹ کے لیے درخواست دیں گے کہ ہم ہی ٹکٹ کے اصل حقدار ہیں
Despite acquittals in seven 9th May cases, Shah Mahmood Qureshi continues to languish in jail. His innocence has been proven and accepted by the state seven times over. The very judge who heard and acquitted him in multiple cases wont give him bail in the remaining two. Is this not a miscarriage of justice ? Is this not vengeance at its worst and most sinister?
مراد سعید، سہیل آفریدی یا کسی بھی ساتھی کے خلاف الزام تراشی سے گریز کریں۔ ایک ایک کر کے سب کو نشانہ بنانا ہی حکومتی بیانیے کا مقصد ہے۔ اختلافات کو تقسیم کا ہتھیار نہ بننے دیں۔
ان کی چال تقسیم، ہمارا جواب اتحاد!