یہاں پر کچھ باتیں جذباتی حدود سے آگے جا کر ہو��ی ہیں جب کہ یہ وقت بڑے تحمل کا ہے، بڑی سنجیدگی کا ہے، برداشت کا ہے اور جناب سپیکر! میں انتہائی احترام کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا کہ کل آپ بھی کچھ ضرورت سے زی��دہ جذباتی نظر آئے۔حضرت! ایں گناہیست کہ درشہر شمانیست گناہ،
اگر آج یہاں سے کوئی ایسی بات کی جا رہی ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ انسٹیوشنز کے بارے میں ہیں، تو کیا ہمارے کنٹینرز پر، ہمارے جلسوں میں جب میاں نواز شریف صاحب خطاب فرماتے تھے تو وہ آرمی چیف، آئی ایس آئی کی چیف کا نام لے کر ان کی خلاف تقریر نہیں کیا کرتے تھے؟ اور کیا دفاع کے محکمے کو وہ محکمہ زراعت نہیں کہا کرتے تھے؟ تو یہ ایسی چیزیں ہیں کہ ہماری سیاست میں کبھی ہم ذرا حدود سے آگے چلے جاتے ہیں اور اچھی بات ہے خواجہ آصف صاحب نے جو باتیں کی ہیں کہ ہم بھی اپنے غلطیوں سے کچھ سبق سیکھتے ہیں، غلطیوں سے سبق سیکھنا اچھی بات ہے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ میں خطاب
اس وقت اگر کشمیری احتجاج پر ہیں تو میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ وہاں جو باضابطہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے اُس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس پر حکومت نگوشیٹ نہ کرسکے، تقریروں میں وہ نوجوان ہیں اگر کسی نے کوئی حد سے آگے بڑھ ک�� بات کی ہے یا پاکستان کے خلاف کوئی الفاظ تعبیر ہوئے ہیں تو اُس کے حق میں بھی باتیں ہوئی ہیں، اسی اجتماع میں ہوئی ہیں، انہی مقررین نے پاکستان کے حق میں باتیں کی ہیں، اور آج وہ باقاعدہ ایک خط مجھے بھیج رہے ہیں۔
جناب سپیکر! آپ کی توجہ چاہیے، جناب سپیکر میں آپ سے مخاطب ہوں، رولز کے مطابق سپیکر سے ہی مخاطب ہونا پڑتا ہے اور اگر سپیکر جو ہے جب وہ "چشم من در چشم تو
چشمان تو جائے دیگر"،
کشمیریوں کی جو اس وقت جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے، انہوں نے باضابطہ طور پر مجھے یہ خط بھیجا ہے اپنے قیادت کے دستخطوں کے ساتھ اور جس میں انہوں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے مجھے کہا ہے، یقیناً یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا، نہ میرے بس کی بات ہے لیکن میں نے اس کا مثبت جواب دیا ان کو اور کل 23 تاریخ تھی، یہ آخری تاریخ تھی انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا اور اگلا پروگرام دینا تھا، لیکن انہوں نے نہیں دیا اور ابھی ان کے درمیان میں شائد مشاورت چل رہی ہو، وہ کوئی جواب تیار کر رہے ہوں میرا جو ان کو پیغام ملا ہے اس کے بارے میں، لیکن حکومت حکومت ہوا کرتی ہے، اگر حکومت کا رد عمل مقررین نوجوانوں کی تقریروں اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر حکومت کا رد عمل جذباتی ہو جاتا ہے تو یہ حکومت کا مقام نہیں ہوا کرتا۔
جناب سپیکر! اچھا ہوا کہ اس وقت جناب وزیراعظم بھی تشریف لے آئے ہیں ہاؤس میں، موجود ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی موجود ہے اور ان کی موجودگی میں، میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کہ اگر اس وقت احتجاج پر بیٹھے ہوئے عوام کا ایک بڑا ہجوم ہے، ایسا نہیں کہ بلکل وہاں پر کوئی پبلک نہیں ہے ان کے ساتھ، لوگ بڑی تعداد میں راولاکوٹ میں موجود ہیں اور ان کی جو جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے اس کا باضابطہ طور پر میرے پاس خط آیا اور میں نے اس کے جواب میں ایک بیان ریکارڈ کیا، جب ان کو بھیجا، اس کو پبلش کیا میں نے، کہ میں اس میں جو کردار میرا ادا ہو سکتا ہے میں کرنے کے لئے تیار ہوں اور حکومت کے آفس کو بھی میں نے آگاہ کیا ہے، ابھی تک نہ حکومت کی طرف سے مجھے کوئی جواب ملا ہے اور نہ ہی ابھی تک ان کی طرف سے کوئی رد عمل آیا ہے، سوائے اس کے کہ کل 23 تاریخ تھی اور کل انہوں نے اگلا پروگرام دینا تھا، لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا، جو انہوں نے نہیں کیا اور اس وقت انہوں نے کسی قسم کے اگلے قدم کا اعلان نہیں کیا ہے۔
تو یہ ان کی طرف سے ایک مثبت رد عمل عملی طور پر نظر آ رہا ہے اور میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے جواب کو احترام دیا اور ان شاءاللہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی مثبت اور امید افزا گفتگو ہوتی ہے تو یہ مسئلے کو حل کرنے کی طرف لے جائے گی، بات چیت ہونی چاہیے، چارٹر آف ڈیمانڈ پہ نظر رکھنی چاہیے، مقررین کی تقریروں کو بہانہ بنا کر طاقت کا استعمال یہ کبھی بھی حکومتوں کا رویہ نہیں ہوا کرتا، حکومت جو ہیں وہ ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے اور جب کشمیر کے اندر تشدد ہوگا آپ بتائیں کہ اٹھتر سال تک کشمیریوں کے کاز کی وکالت کرنا اس کو آپ ایک لمحے میں دفن ��ردیں گے اور وہ انــڈیا جو ہر فورم پر دفاعی پوزیشن میں ہوا کرتا تھا آج وہ جارحانہ انداز اختیار کر چکا ہے، جب ہم ان کے خلاف قراردادیں پیش کرتے تھے بیلجیم میں، انسانی حقوق کے اداروں میں، اقوام متحدہ میں، آج وہ پاکستان کے خلاف قراردادیں لا رہا ہے، پوزیشن بالکل تبدیل کر دی گئی ہے وجہ یہ ہے کہ پاکستان ریاست کے طرف سے جو رد عمل گیا ہے اور جو ان کو ��اشیں ملی ہیں اور مزید بھی بالکل تیار کھڑے ہیں کہ کبھی کوئی حرکت ہو تو ہم ایک سخت اقدام کریں، اس سے مسئلہ کشمیر کی پوری نوعیت تبدیل ہو گئی ہے، پاکستان کا موقف بالکل برعکس چلا گیا ہے اور انــڈیا کا موقف بھی برعکس چلا گیا ہے۔ ہم جہاں اٹھتر سال تک کھڑے تھے آج ہنــدوستان وہاں کھڑے ہونے کی طرف جا رہا ہے اور جہاں ہنــدوستان اٹھتر سال تک کھڑا تھا آج ہم پاکستان اسی مقام پر جا رہے ہیں، اس میں کچھ ہمیں حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور خواجہ آصف صاحب نے جو باتیں کی ہیں ہر چند کہ اگر اس میں قابل اعتراض مواد ہے، ہر چند کہ اس میں اگر کشمیر یا پاکستان کے مفاد کے خلاف کوئی مواد ہے تب بھی وہ خواجہ آصف نہیں ہے یہاں پر، وہ یہاں پر وزیر دفاع ہیں اور وزیر دفاع کی حیثیت سے ان کا رد عمل محتاط ہونا چاہیے تھا۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ میں خطاب
یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہــید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔
بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں ۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ میں خطاب
غریب کی زندگی مشکل، حکومت معاشی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی۔
چھ ماہ میں معیشت ٹھیک نہ کی تو میرا نام شہباز شریف نہیں، دعوے!
آج کے حالات میں عام آدمی معمولی تنخواہ پر کیسے گزارا کرے: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان
#MaulanaInParliament
ملک کے اندر بدامنی ہے، روزگار کے لیے لوگ گھروں سے باہر نہیں جا سکتے، اور میں یہ بات کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا۔ میں مسلسل یہ بات کر رہا ہوں، ایک پاکستانی کی حیثیت سے اور ایک پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے، کہ ملک کا امن و امان انتہائی حد تک خراب ہے۔
آپ لوگ سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، جناب اسپیکر، آپ کے ہاں ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے، کچے کے ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے، اور ہمارے ہاں تو حکومتی ر�� ختم ہو چکی ہے۔ تھانوں پر قبضے ہو رہے ہیں، پولیس اسٹیشن تباہ کیے جا رہے ہیں، چھاؤنیوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ہماری فوج کے جوان، ایف سی کے جوان اور پولیس کے اہلکار آئے روز حملوں کا شکار ہو رہے ہیں اور شہید ہو رہے ہیں۔ دفاعی صلاحیت ہماری کمزور ہو رہی ہے۔
مناسب نہیں کہ ہم اس فورم پر یہ بات کہیں، لیکن میں یہ تجویز دے چکا ہوں کہ یہ مسئلہ اس حد تک گمبھیر ہے کہ ہمیں اِن کیمرہ اجلاس کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ کے اراکین کو بتانا چاہیے کہ یہ صورتحال کیوں درپیش ہے۔ اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔ افغانستان کی صورتحال، اس کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت اس وقت کیا ہے؟ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ ملک کے اندر دو چھوٹے صوبوں کی خصوصیات کے ساتھ ہم دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
ہم نے تو صرف ایک سوال کیا تھا کہ ہمیں صرف اتنا بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے، بس۔ لیکن آج تک یہ نہیں بتایا جا رہا کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب
#MaulanaInParliament
معاملہ اب چلا گیا کشمیر کی طرف، وہ کشمیر جہاں ہر کشمیری کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ آج وہاں باغیانہ تقریریں ہو رہی ہیں، اور لوگ ان میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ان 78 سالوں میں ہم نے کشمیریوں کو مایوس کیا ہے۔ ہم نے وہاں کی ماؤں اور بہنوں کی عزتوں اور ان کے ناموس پر 78 سال صرف سیاست کی ہے، ہم نے ان کا مقدمہ نہیں لڑا۔
آج جو صورتحال وہاں نظر آ رہی ہے، یہ تشویش ناک ہے۔ یہ نہیں کہ میں صرف حکومت پر تنقید کروں، بلکہ میں یہ تجویز کروں گا کہ اس حوالے سے ہمیں غور و فکر کرنا چاہیے، اپوزیشن کو بھی اس میں شامل کرنا چاہیے، ان کیمرہ اجلاس کریں اور ہم��ں بتائیں کہ حقائق کیا ہیں۔
ہم نے ہمیشہ کہا کہ کشمیریوں پر ہندوستانی فوج ظلم کر رہی ہے، وہاں کے جوانوں کو شہید کر رہی ہے، اور آج جب وہی کچھ یہاں پاکستان میں دہرایا جا رہا ہے تو آخر ہم کب تک صرف ایک لفظ پر گزارا کرتے رہیں گے کہ یہ را کے ایجنٹ ہیں، یہ فتنہ الہندوستان ہے، یہ فتنہ الخوارج ہے۔ الفاظ سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا، نہ اس سے وہ فریق متاثر ہوتا ہے۔ شاید آپ پبلک کے سامنے کہہ سکیں کہ یہ اس قسم کے مجرم ہیں، یا ملک کے مجرم ہیں، یا دینِ اسلام کے مجرم ہیں، یا عقیدے کے مجرم ہیں، لیکن اس سے مسئلہ کہاں حل ہوتا ہے؟
ہم تعصب کی بات نہیں کر رہے۔ اگر آپ نے انڈیا کے خلاف جنگ لڑی ہے، اگر آپ نے فتح حاصل کی ہے، تو سب سے پہلے حمایت کرنے والا میں تھا۔ ہم نے یہ نہیں سوچا کہ جس حکومت سے ہمیں اختلاف ہے، آج اس موقع پر ہم اس کو سپورٹ نہ کریں۔ نہیں، ہم نے کہا کہ ہم ایک صف ہیں، پوری قوم ایک صف ہے، ہم فوج کے شانہ بشانہ ہیں۔
اگر آپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحت کی بات کی، تو ہم نے اس کی بھی سپورٹ کی، کیونکہ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس اور کوئی بہتر راستہ نہیں تھا۔
مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب
#MaulanaInParliament
اگر ہم امریکہ اور ایران کے درمیان اس لیے مصالحت چاہتے ہیں کہ ہمیں خطے میں جنگ نہیں چاہیے، خطے کے لوگوں کو ہم امن دینا چاہتے ہیں، تو اس کی ضرورت افغانستان کے ساتھ کیوں نہیں۔
دہشت گردوں کے مراکز افغانستان میں ہیں، وہاں پر بمباریاں کی جا رہی ہیں، تو کیا اس سے پاکستان کے اندر مسلح گروہوں کی کارروائیوں میں کوئی کمی آئی یا اس میں اضافہ ہوا؟ ذرا اپنی حکمتِ عملی پر نظر تو ڈالنی چاہیے۔
افغانستان کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو ایک مستحکم ہمسایے کی ضرورت ہے۔ جب ہمیں کچھ نہیں ملتا، اٹھہتر سال کے بعد ہم افغانستان کو طعنہ دیتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف سب سے پہلا ووٹ افغانستان نے دیا تھا۔ وہ ظاہر شاہ کی حکومت تھی، افغانستان ہندوستان کی تقسیم کے خلاف تھا، اس میں کوئی شک نہیں۔ یہاں کے قوم پرستوں اور افغانستان کی حکومت کا موقف ایک تھا۔ آپ اس کا طعنہ تو افغانستان کو دیتے ہیں، آج کی حکومت کو،
لیکن کیا آپ نے ایک لمحے کے لیے یہ سوچا کہ سن 1965 میں، جب ہندوستان نے آپ پر جنگ مسلط کی اور آپ کی مشرقی سرحد پر جنگ ہو رہی تھی، تو اسی افغانستان نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ اپنی مشرقی سرحد پر جنگ لڑیں، مغربی سرحد کے محافظ ہم ہیں، اور آپ کو پوری مغربی سرحد پر اپنے ایک سپاہی کو بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑی، اور افغانستان آپ کو سپورٹ کر رہا تھا۔
آج آپ اس کو ظاہر شاہ اور نادر شاہ کے زمانے کے طعنے دے رہے ہیں۔ کیا 1971 میں، جب آپ بنگال میں پھنس گئے تھے، لڑائی ہو رہی تھی ہندوستان کے ساتھ، کیا اس وقت افغانستان کی حکومت نے آپ کو پیغام نہیں بھیجا کہ اگر آپ جنگ لڑ رہے ہیں تو مغربی سرحد سے بے نیاز ہو جائیے؟ ایک سپاہی بھی آپ کو افغانستان کی سرحد پر بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ آج اٹھہتر سال کے بعد ہماری فوج تقسیم ہے، آدھی افغانستان کی سرحد پر ہے، آدھی ہندوستان کی سرحد پر ہے، اور آدھی ملک کے اندر جنگ لڑ رہی ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب
#MaulanaInParliament
جنابِ اسپیکر! آج قبائل سے کہا جا رہا ہے، آج قوموں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو، تم لڑو۔ میرا پشتون ہو یا بلوچ، وہ مقامی ہے، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ جنگ لڑے گا تو ان کی دشمنی نسلوں تک جائے گی، کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟
یا پھر آپ کہیں کہ ہم پاکستان کے ہر شہری کو فوجی تربیت دیں گے تاکہ وہ جہاد کے جذبے سے سرشا�� بھی ہو اور اس کے لڑنے کی صلاحیت بھی اس کے اندر ہو۔ ہم نے تو پاکستان میں کسی کو چھوٹا سا پستول رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی، ہم تو چھری بھی نہیں رکھ سکتے، ہم تو بغیر لائسنس کے ایک بندوق بھی نہیں رکھ سکتے، اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔
آج ان حالات میں اگر میرے اوپر تین خودکش حملے ہوئے ہیں، میرے گھر پر کئی راکٹ حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کے اوپر حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کو گاڑیوں سے اتارنے کی کوشش کی گئی ہے، میری پارٹی کے سینئر لوگوں کے اوپر خودکش حملے ہوئے ہیں، ایک ایک حادثے میں پچیس پچیس اور تیس تیس لوگ شہید ہوئے ہیں، ان حالات سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں تو ایک بن��وق رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔
ملبہ قوم پر ڈالنا، ملبہ لشکروں پر ڈالنا، یہ کون سی حکمتِ عملی ہے؟ فوج میں ہم کس لیے بھرتی ہوتے ہیں؟ ہم نے فوجی ور��ی کس لیے پہنی ہوئی ہے؟ ہم نے پیٹی کس لیے باندھی ہوئی ہے؟ اس لیے باندھی ہوئی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو پھر ہمارا یہ نوجوان جنگ لڑے ٹانک میں، میں جنگ لڑوں ڈیرہ اسماعیل خان میں، فتح اللہ خان جنگ لڑے ڈیرہ اسماعیل خان میں، اس لیے تو نہیں ہے۔
اور اپنے گھر کا یہ حال کہ ہارڈ اسٹیٹ، بس لڑنا ہے اور صرف لڑنا ہے، کوئی سر اٹھائے تو فنا کر دو۔ کشمیریوں کا تشدد کی طرف جانے کے ہم حق میں نہیں ہیں، لیکن ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ذرا پڑھ لیجیے، کون سی اس کے اندر ایک ایسی بات ہے جس پر نگوشییٹ نہ کیا جا سکتا ہو، جس پر حکومت ان کے ساتھ بیٹھ نہ سکتی ہو، بات نہ کر سکتی ہو؟ ایک پوائنٹ بتایا جائے��
جب ساری باتیں اس قابل ہیں کہ ہم اس پر گفتگو کریں اور بات چیت سے معاملات کو حل کریں تو پھر تشدد کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگوں کو بغاوت کی طرف لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ حالات ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے، یہ ہماری اٹھہتر سال کے رویوں کے نتیجے میں آج لوگوں کے اندر یہ احساسات پیدا ہوئے ہیں۔
میرے علماء شہید ہو رہے ہیں، علماء اس لیے شہید ہو رہے ہیں کہ وہ جمہوریت کی بات کیوں کرتے ہیں، وہ پارلیمنٹ کی سیاست کیوں کرتے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب
#MaulanaInParliament
آج ہشتنغر کی سرزمین آپ کے اس فقید المثال اجتماع کے ذریعے ہمارے محبوب، شہید، مخدوم حضرت مولانا محمد ادریس رحمہ اللہ کو خراج عقیدت پیش کر رہا ہے۔ مولانا کی شہادت یہ ایک خاندان کا نقصان نہیں، ایک شہر اور ایک علاقے کا نقصان نہیں، یہ امت کا نقصان ہے اور آج صوبہ خیبر پختونخواہ نے ثابت کر دیا کہ کرہ عرض کے تمام مسلمانوں کے دل اپنے شہید کے ساتھ ہیں، تم ایک ادریس کو شہید کروگے ان کے خون کے ایک ایک قطرے سے شیخ ادریس پیدا ہوگا اور آج شیخ ادریس بزبان حال کہہ رہا ہے
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے دشمنوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا
وہ زندہ ہیں، ان کی آواز زندہ ہے، اُس کی روح زندہ ہے، اُس کا نصب العین زندہ ہے، اُس کی جماعت زندہ ہے اور ان شاءاللہ اس زمین پر اسلام کا انقلاب برپا کر کے اپنے منزل کو حاصل کریں گے ان شاءاللہ العزیز۔
کسی نے سوچا ہوگا کہ اس بند مرد قلندر کی شہادت سے لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے، کارکنوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے، جمعیۃ کا کارکن مایوس ہو جائے گا، لیکن آج کے اجتماع نے دنیا کو بتا دیا، اپنے دشمنوں کو بتا دیا کہ تم ہمارا کتنا خون بہاؤ گے ہمارے قطرے قطرے سے ہزاروں نوجوان اٹھیں گے اور اس انقلاب کی کمان اپنے ہاتھ میں سنبھالیں گے۔
قائد جمعیۃ مول��نا فضل الرحمٰن مدظلہ کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
جمعیۃ علماء اسلام کی پشت پر دو سو سال سے زیادہ کی تاریخ موجود ہے اور جب تک برصغیر کی سیاست علماء کی قیادت میں تھی برصغیر میں آمن تھا، کوئی فسادات نہ��ں تھے، پورا برصغیر ایک آواز تھا، لیکن جب سے علماء سے قیادت چھینی گئی اور انگریز کے پروردہ لوگوں کے ہاتھ میں قیادت آئی تو پھر ان کا تو نظریہ ایک ہی ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو، پھر تمہاری سیاست نے یہاں خون بہایا اور آج تک وہ خون تھم نہیں رہا ہے، انسانیت کا قتل ہو رہا ہے، اس تین چار دہائیوں میں کتنے مسلمان اس خطے کے وہ تہہ تیغ ہوئے، قربان ہو گئے اور ابھی تک وہ سلسلہ جاری ہے۔ ہمارے حکمران جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ پاکستان کی حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں، تم انسانی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے، آج اس اجتماع میں مجھے ملکی معیشت پر بات کرنی تھی، آج مجھے اس قوم کے حقوق پر بات کرنی تھی، کیا وجہ ہے کہ آج بھی میرا کارکن، ہر پاکستانی شہری وہ امن و امان کی بات کر رہا ہے، لیکن سنو اور بار بار سنو ہماری آواز کو، یہاں پر فرقوں کو لڑایا گیا، فرقہ واریت کی نفرتیں پیدا کی گئی، جمعیۃ علماء اسلام میدان میں ڈٹ گئی اور اس لہر کو شکست دے دی، اس ملک میں لسانیت کی بنیاد پر، قومیتوں کے بنیاد پر، علاقائیتوں کے بنیاد پر نعرے لگائے گئے، نفرت اس ملک میں پھیلائی گئی لیکن ایک جماعت، جمعیۃ علماء کی صورت میں میدان میں کھڑی رہی، نفرتوں کو مسترد کیا، نفرتوں کے نعروں کو مسترد کیا، نفرتوں کے نظریات کو مسترد کیا اور الحمدللہ ہر محاذ پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں اور اس ذہنیت کو ہم نے شکست دی۔
تو آپ ایسا نہ سمجھی�� کہ آپ کو حکومت نہیں مل رہی، آپ ایک تاریخ ہیں، آپ ایک نظریہ ہیں، آپ ایک نصب العین ہیں، تم نے دینِ اسلام کے اور علومِ دینیہ کے بنیادی اور اساسی اداروں کو ختم کرنی کی کوشش کی اور اب بھی تمہاری کوشش جاری ہے لیکن میں نے بھی کھل کر اعلان کیا ہے کہ تمہارے ان منصوبوں کو، جس طرح انگریز کے منصوبوں کو ہم نے ناکام بنایا، ان کے پروردہ حکمران ذہنیت کو بھی ان شاءاللہ ہم شکست سے دوچار کریں گے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
آج پاکستان میں جمہوریت کدھر ہے؟ اور جب ہماری مقتدرہ کے ہاتھوں سے جمہوریت یرغمال ہوگئی ہے، جب ہماری مقتدرہ جمہوریت کی روح کو اپنے قبضے میں لیے ہوئی ہے اور اپنی مرضی سے جمہوریت کو سانس لینے کی اجازت نہیں ہے تو پھر کچھ لوگ ان کے ایجنٹ بن کر کہتے ہیں جمہوریت کفر ہے۔ تو جب جمہوریت مغرب میں ناکام ہے، کمیونزم مشرق میں ناکام ہے تو حل صرف ایک ہی ہے کہ اسلامی معشیت کو اپنائیں، اسلام کی شورائیت کو قبول کریں، اسلام کے تصورات کو قبول کریں، اسلام ایک متبادل نظام ہے جو انسان کے فلاح و بہبود اور حقوق کا محافظ نظام ہے۔
آج جب جمعیۃ علماء عوام میں مقبولیت رکھتی ہے تو کون ہے جو اسمبلی میں میرا راستہ روکتے ہیں، میں تو اسمبلی کا راستہ اپنا رہا ہوں، میں تو پارلیمان میں کردار ادا کر رہا ہوں، عوام میرے ساتھ ہیں۔ گلگت میں ہم نے دو سیٹیں جیتیں، پیپلز پارٹی بھی کہہ رہی ہے کہ یہ جمعیۃ نے جیتی ہے ہم نے نہیں، اور پھر الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ پندرہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن ہوگا، ایک دن دوبارہ الیکشن کا اعلان کیا اور دوسرے دن الیکشن کا نتیجہ ہمارے ہاتھ میں تھما دیا کہ یہ جیت گئے ہیں اور یہ ہار گئے ہیں۔ یہ الیکشن کمیشن انصاف کی الیکشن کر رہے ہیں؟ آپ نے بلوچستان کے ضمنی الیکشن میں ہمارے ساتھ کیا کیا ہے، آپ نے اس صوبے کے الیکشن میں میرے سامنے دھاندلیاں قبول کی ہے، یہ جتنی عوام بیٹھی ہے ان سب کا نمائندہ میں ہوں۔ یہاں پر بیٹھے عوام کی میں نمائندگی کر رہا ہوں اور آپ کو اس پر باخبر کر رہا ہوں کہ میرے سامنے انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ہم نے آپ سے کتنی سیٹیں چھینی ہیں۔ دھاندلیوں کے اعتراف کیں ہیں، جمعیۃ کے سیٹوں پر ہاتھ ڈالنے کے اعترافات کیں ہیں، یہ الیکشن میں جمہوریت کے معیار مان لوں، اسی الیکشن پر شہباز شریف حکومت کرے گا اور میں کہوں گا کہ یہ جائز حکومت ہے؟مجھے انہوں نے دعوت دی ہے کہ آؤ حکومت میں شامل ہو جاؤ، میں نے کہا اصل نتیجہ میرے ہاتھ پہ رکھا پھر بات کریں گے اور اگر اصل نتیجہ مجھے نہیں دوگے تو میں اسمبلی میں چند سیٹوں پر آپ کو آرام سے نہیں بیٹھنے دوں گا۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
اس ملک میں کوئی نمائندہ حکومت نہیں ہے، جہاں حکومت بنتی ہے ہماری مقتدرہ انتخابات کو منیج کرتا ہے، ہارے ہوئے کو جتوانا، جیتے ہوئے کو ہروانا اب تو یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا ہے، اور پھر جب ٹرمپ ان کو پیٹھ پر تھپکی دیتے ہیں کہ بہت کام کے بندے ہو، ہم انصاف سے کام لے رہے ہیں، ہم جس بات کو جائز سمجھتے ہیں اس کو جائز کہا ہے اور جس کو غلط مانتے ہیں تو ان کو ببانگ دہل غلط کہتے ہیں۔ آپ نے انڈیا کے ساتھ جنگ کی تو سب سے پہلے ہم نے سپورٹ کیا، آپ نے ایران اور امریکہ کی ثالثی کی سب سے پہلے ہم نے سپورٹ کیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایک کامیاب حکومت ہے، آپ اپنے ملک میں عوام کو زندگی نہیں دے سکتے، امن نہیں دے سکتے تو یہ حکومت کوئی حکومت نہیں ہے۔
ہمارا بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے، ہم نہیں بنا رہے، لیکن میں آئی ایم ایف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب ہمارا بجٹ آپ بناتے ہیں تو ہماری حکومت کو آپ کہتے ہیں یہ ٹیکس لگاؤ یہ ٹیکس لگاؤ، یہاں ٹیکس لگاؤ یہاں ٹیکس لگاؤ، آئی ایم ایف والو کبھی تم نے میری حکومت کو یہ بھی کہا ہے کہ یہ کرپشن ختم کرو یہ کرپشن ختم کرو یہ کرپشن ختم کرو، کرپشن پروان چڑھ رہا ہے، ہر دفتر کرپشن کا مرکز بن گیا ہے، ہر افسر نے کرپشن کی دکانیں کھولی ہوئی ہیں اور پھر کہتے ہو ملکی معیشت ٹھیک نہیں ہو رہی۔
تو اس لحاظ سے ہم نے آگے بڑھنا ہے، ہمیں کامیابیاں ملی ہیں اور ابھی میرے سامنے ذکر ہوا چھبیسویں آئینی ترمیم کا، تو آئینی ترمیم میں یہ طے ہوا ہے کہ یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے ملک کے اندر سود ختم ہو جائے گا، کہیں نظر نہیں آ رہا کسی محکمے میں اور کسی بینک میں کہ سود کے خاتمے کے انتظام ہو رہے ہوں، یہ ہے آئین کا وہ حلف جو تم نے اٹھایا ہے، آئین پر عمل درآمد کرنا اور آئین سے وفاداری کا یہ حلف جو تم نے اٹھایا ہے یہاں پر آپ جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں، آپ نے وفاقی شرعی عدالت کو مؤثر بنانے کے لئے آئینی ترمیم کی، وہاں علماء کے سیٹیں خالی ہیں ابھی تک خالی ہیں، آپ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر اسمبلی میں بحث کرنے کو آئین کا حصہ بنایا آج تک ایک بھی سفارش بحث کرنے کیلئے اسمبلی میں پیش نہیں ہوئی، یہ ہے آئین کا حلف، اسے کہتے ہیں آئین پر عمل درآمد، ایک دباؤ میں آ کر جب تم فیصلہ کر لیتے ہو، بات مان جاتے ہو، پھر جب وہ دن نکل جاتے ہیں پھر تمہیں یاد ہی نہیں رہتا۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
اپنے لئے کیا کہ تاحیات اب میں مستثنیٰ ہوں گا کوئی مقدمہ میرے خلاف نہیں ہوگا، زرداری صاحب! ہم کب آپ پر مقدمہ چلانا چاہتے ہیں، لیکن اگر یہ استثناء آپ نے حاصل کیا اور کل صدارت کے بعد تم نے کوئی جرم کر لیا، کسی کو قتل کر لیا تم سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوگا، کیا اس طرح کا استثناء خود رسول اللہ ﷺ نے لیا ہے؟ کیا اس طرح کا استثناء خلفاء راشدین نے لیا ہے؟ اگر اس طرح کا استثناء انبیاء نے نہیں لیا، رسول اللہ ﷺ نے نہیں لیا، آپ کون ہوتے ہیں کہ آپ جرم بھی کریں گے اور آپ کی خلاف کوئی مقدمہ بھی نہیں ہو سکے گا۔ ہمارے بڑے بڑے عہدیدار اب تاحیات مراعات لیتے رہیں گے، یہ تو پاکستان کے غریب لوگوں کا استحصال ہے، غریب کو روٹی نہیں مل رہی، غریب کو زندگی نہیں مل رہی، غریب اپنے بچوں کی سکول کے فیس نہیں دے سکتا، غریب اپنے بچوں کے علاج کے لیے دوائی نہیں خرید سکتا، عام آدمی کی حالت یہ ہو گئی ہے اور آپ لوگ ہیں جو پاکستان کے خزانے کے مالک بنے ہوئے عیاشیاں کر رہے ہیں، جمعیۃ علماء اسلام تمہاری ان عیاشیوں کے خلاف ایک تحریک کا نام ہے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
اگر اس ملک کو چلانا ہے شائستگی کے ساتھ چلانا ہے، آئین اور قانون کی روشنی میں چلانا ہے تو پھر جمعیۃ علماء اسلام کا راستہ کھولنا ہوگا، ہمیں مجبور مت کرو پھر، اگر تو گھی آرام سے ڈبے سے باہر آئے تو ٹھیک ورنہ پھر ٹیڑھی انگلی سے نکالا جائے گا۔ پاکستان میں جو سیاست ہو رہی ہے یہ سیاست آئین کی سیاست ن��یں ہے، دلیل کی سیاست نہیں ہے، یہ قوت کی سیاست ہے، او معقول طریقے سے ہمارے ساتھ بات کرو، ہمیں مجبور مت کرو، آج اگر ہم نے آواز دی پورا پاکستان اول تا آخر اسلام آباد کی طرف چلنا شروع کر دے گا، ہمارے صوبے میں خون بہہ رہا ہے، بلوچستان میں خون بہہ رہا ہے اور ابھی کشمیر کے اندر خون بہانا شروع کر دیا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے چارٹر آف ڈیمانڈ ڈیمانڈ پیش کیا ہے، سادہ قسم کی باتیں ہیں کوئی ایسی مشکل بات نہیں کہ اس کے لیے گولی چلائی جائے بلکہ بیٹھ کر بات کی جا سکتی ہے اور مسئلہ کو شائستگی کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفر��س_چارسدہ
آپ کی تحریک ان شاءاللہ چلتی رہے گی، جاری رہے گی، بیٹھنا تو نہیں نا آپ لوگوں نے، سفر جاری رکھنا ہے۔ میں پشین گیا تھا وہاں تا حد نظر لوگوں نے بہت بڑا اجتماع کیا، اس کا اثر آپ کی صوبے پہ ہوا، آپ کے لوگ جاگ اٹھے، آج تا حد نظر یہاں انسانیت جمع ہے اور ان شاءاللہ گیارہ جولائی کو پنجاب کے شہر قصور میں اتنا ہی بڑا جلسہ ہوگا اور یہ سفر آگے بڑھتا جائے گا، یہ سلسلہ چلتا رہے گا، جب تک ہماری جان میں جان ہے ان شاءاللہ ی�� جنگ جاری رہے گی اور آپ یہ مت سمجھیں کہ ہم کسی کی جان لے کر تحریک ختم کرسکیں گے، میں تو واضح اعلان کرتا ہوں کہ فضل الرحمٰن پر ہاتھ ڈالا گیا میں کسی کے خلاف مقدمہ نہیں کروں گا، میں پاکستان کے ریاست کو اپنے قتل کا ذمہ دار کہوں گا، اپنے کارکن کے قتل کا ذمہ دار کہوں گا، اس کے بعد پھر جو ہوگا اس کی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہوگی ہمارے اوپر نہیں ہوگی۔
ہم اپنے صفیں صاف رکھنا چاہتے ہیں، ہم ایک صاف اور شفاف تحریک لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، ہم پاکستان کو بچا رہے ہیں، ہم نے یہاں فتنوں کا مقابلہ کیا ہے، ہم نے فتنوں کو شکست دی ہے۔ ہم لوگ ان حالات کے مقابلہ کر رہے ہیں، اپنی جانوں پر کھیل کر مق��بلہ کر رہے ہیں اور ان شاءاللہ پر امن طریقے سے یہ تحریک آگے بڑھے گی، پر امن طریقے سے ہم ان شاءاللہ کامیابیاں حاصل کریں گے، یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے، یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے وفادار ہیں اور اس سرزمین پر وہ نظام لائیں گے جس میں ہمارے ہر شہری کو اس کے حقوق مل سکے، جس میں ہمارے بچوں کو آسان تعلیم مل سکے، آسان علاج مل سکے، آسان زندگی مل سکے اور اسی کے لیے آگے بڑھنا ہے۔ ہم جلسوں میں لاوڈ سپیکر اڑانے والے لوگ نہیں ہیں، چھ مہینے میں ٹھیک کر دوں گا، بابا آج تک ٹھیک نہیں ہوا، آپ خود خراب ہو گئے، ٹھیک تم نے کیا کرنا ہے، ملک کو ٹھیک کرتے کرتے خود خراب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرم فرم��ئے اور یہ جذبہ، یہ ہمت، یہ اخلاق یہ للہیت، یہ اللہ اور اس میں اضافہ کرے اور ان شاءاللہ ہم آگے بڑھتے رہیں گے، اگلا پڑاؤ پنجاب میں ہوگا اور پورے طاقت کے ساتھ پورا پنجاب وہاں اُمڈے گا اور بھرپور طریقے سے اس تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا، ہم پاکستان میں ناجائز حکمرانی کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ