روٹھ کر بزم سے اُٹھا تو نہ روکا مجھ کو
نہ کہا اُس نے ، کہا مان ، کہاں جاتا ہے
وہ بھی دن یاد ہیں یہ کہہ کے مناتے تھے مجھے
آ اِدھر میں ترے قربان ، کہاں جاتا ہے
سر کی دلدل میں دھنسی آنکھ بنا سکتے ہو
آنکھ میں پھیلتے پاتال بنا پاؤ گے؟
جو مقدر نے میری سمت اچھالا تھا کبھی
میرے ماتھے پہ وہی جال بنا پاؤ گے؟
مل گئی خاک میں آخر کو سیاہی جن کی
میرے ہمدم وہ میرے بال بنا پاؤ گے؟