ہوَا - ایک اَن دیکھی حقیقت کا مکالمہ
کیا آپ نے کبھی ہوَا کو دیکھا ہے؟
نہیں۔
مگر کیا آپ نے کبھی اُس کے بغیر زندگی بسر کی ہے؟
شاید یہ سوال ہی بے معنی ہے۔
یہی ہوَا … جو نظر نہیں آتی، مگر ہر لمحہ ہمارے وجود میں داخل ہو کر ہمیں "زندہ" ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔
یہ خاموشی سے آکسیجن کو اپنے دامن میں سمیٹے اِدھر سے اُدھر پھرتی ہے اور ہمارے اندر زندگی کی شمع روشن رکھتی ہے۔ ہمارے لہو میں خاموشی سے زندگی کا چراغ جلاتی ہے، مگر خود نگاہ سے اوجھل رہتی ہے؟ نہ اس کا کوئی رنگ ہے، نہ صورت — مگر اس کے بغیر ہر رنگ ماند اور ہر صورت بے معنی ہو جاتی ہے۔ یوں ہوَا ہمارے وجود کے ساتھ محض بیرونی تعلق نہیں رکھتی، بلکہ وہ ہمارے اندر آ کر ہمیں "ہم" بناتی ہے۔
سائنس اِسے مختلف گیسوں کا مجموعہ کہتی ہے،
مگر شعور اِسے ایک مسلسل عطا سمجھتا ہے۔
یہ ہر جگہ ہے — پہاڑوں کی چوٹیوں پر، سمندروں کے کناروں پر، شہروں کی بھیڑ میں، اور تنہائی کے سنّاٹوں میں۔
یہ کبھی ختم نہیں ہوتی، صرف اپنے انداز بدلتی ہے، مگر ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
کبھی ہوَا کے جھونکے کی صورت، کبھی نسیمِ سحر، کبھی طوفان، اور کبھی ایک ساکت خاموشی۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ جب یہ چلتی ہے تو ہمیں محسوس ہوتی ہے،
اور جب رک جاتی ہے تو ہم اسے بھول جاتے ہیں۔
حالانکہ اس کا "ہونا" حرکت کا محتاج نہیں۔
یہیں سے ایک دروازہ کھلتا ہے، کہ ہر وہ شے جو نظر نہ آئے، ضروری نہیں کہ موجود نہ ہو۔ ہوَا ہمیں روز یہ سبق دیتی ہے کہ عدمِ رُؤیت، عدمِ وجود کی دلیل نہیں۔
ہم محبت کو نہیں دیکھتے، مگر محسوس کرتے ہیں۔
ہم وقت کو نہیں دیکھتے، مگر اس کے بہاؤ میں بہتے ہیں۔
ہم خوف کو نہیں دیکھتے، مگر اس کے سائے میں جیتے ہیں۔
ہم امید کو نہیں دیکھتے، مگر اُسی سے مستقبل کی دنیا سجاتے ہیں۔
اور ہم ہوَا کو نہیں دیکھتے، مگر اسی پر سانس کا نظام قائم ہے۔
محبت، وقت، خوف، امید—اور ہوَا۔ سانس اِس خاموش رشتہ داری کا سب سے گہرا استعارہ ہے۔
تو پھر سوال یہ نہیں کہ "کیا دکھائی دیتا ہے؟"
بلکہ یہ ہے کہ "کیا اثر رکھتا ہے؟"
اور یہی سوال ہمیں ایک اور گہرائی میں لے جاتا ہے…
جب ایک غیر مرئی "ہوَا" ہمارے وجود کو سہارا دے سکتی ہے،
تو کیا ایک غیر مرئی "ہستی" اِس کائنات کو سنبھال نہیں سکتی؟
ہم ہوَا کو مانتے ہیں — کیونکہ ہم اس کے محتاج ہیں۔
ہم اسے دیکھے بغیر تسلیم کرتے ہیں — کیونکہ اس کے بغیر ہمارا وجود ممکن نہیں۔
پھر وہ ہستی…
جس نے اِس ہوَا کو وجود دیا،
اِس نظام کو قائم کیا،
اور ہمیں اس کا محتاج بنایا—
اُس کے انکار کی بنیاد کیا ہے؟
کیا صرف یہ کہ وہ نظر نہیں آتی؟
اگر نظر نہ آنا ہی انکار کی دلیل ہو،
تو ہمیں اپنی ہر سانس سے بھی انکار کردینا چاہیے۔
مگر ہم ایسا نہیں کرتے، ہم ایسا کر ہی نہیں سکتے۔—
کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ حقیقت، نظر سے بڑی چیز ہے۔
ہوَا ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ وہ کہاں سے آئی،
مگر وہ ہمیں یہ ضرور بتاتی ہے کہ "وہ ہے"۔
اور شاید یہی اس کا سب سے بڑا پیغام ہے…
کہ اس کائنات میں کچھ سچ ایسے بھی ہیں
جو دکھائی نہیں دیتے—
مگر جن کے بغیر کوئی سچ، سچ نہیں رہتا۔
ہوَا ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ زندگی کا سب سے بڑا سہارا اکثر وہی ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا۔ ماں کی دعا، دوست کی مخلصی، ضمیر کی سرگوشی، اور پھیپھڑوں میں اترتی ہوا—ان سب کی تاثیر دکھائی نہیں دیتی، مگر انہی سے کائناتِ باطن آباد رہتی ہے۔
ہوَا ہمیں یہ بھی باور کراتی ہے کہ کچھ چیزیں فنا نہیں ہوتیں، مگر ان کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ ہوَا بھی شاید اِسی ابدی اصول کی مظہر ہے۔ وہ ہمیں بتاتی ہے کہ بقا جمود میں نہیں، توازن میں ہے؛ اور توازن ہمیشہ حرکت، تبادلے اور خاموش خدمت سے پیدا ہوتا ہے۔ ہوَا اپنے لیے کچھ نہیں رکھتی۔ وہ چلتی ہے، اٹھاتی ہے، پہنچاتی ہے، بکھیرتی ہے، جوڑتی ہے، بادل بناتی ہے، بارش کو لاتی ہے، سانس کو ممکن کرتی ہے، اور پھر بھی نام و نمود سے بے نیاز رہتی ہے۔ یہ دراصل کائنات کی اخلاقیات ہے: جو سب سے زیادہ ضروری ہو، وہ اکثر سب سے کم نمایاں ہوتا ہے۔
ہم پہلی سانس لیتے ہیں تو زندگی شروع ہوتی ہے،
اور آخری سانس کے ساتھ یہ داستان ختم ہو جاتی ہے۔
درمیان میں جو کچھ ہے، وہ بس اِسی ہوَا سے ہماری اَن دیکھی رفاقت کا تسلسل ہے۔
تو اگلی بار جب آپ سانس لیں —
ذرا ٹھہر کر سوچیے گا…
آپ صرف ہوَا نہیں لے رہے،
آپ ایک اَن دیکھی حقیقت کو اپنے اندر اتار رہے ہیں۔
اور جو حقیقت سانس میں بس سکتی ہے،
وہ کائنات کے ذرے ذرے میں موجود ہو سکتی ہے۔
نعیم ضرار
نہ ابتدا میں ہُوں اپنی نہ انتہا میں ہُوں
ابھی مَیں تشنہِ ایجابیِ دعا میں ہُوں
خوشی تو ایک طرف غم بھی اب نہیں کوئی
میں آگہی کے کسی عرصۂِ خلا میں ہُوں
ابھی ہے جہدِ تسلسل، سبک خرامی نہیں
ابھی مَیں سمتِ مخالف کی تُند ہَوَا میں ہُوں
نہیں ہُوں اب مَیں تعاقب میں جانے والے کے
میں خالی لَوٹ کر آتی ہوئی صدا میں ہُوں
مجھے نصیب ہے ماں کی دعاؤں کا سایا
میں اِس جہان کی سب سے بڑی عطا میں ہُوں
نعیم ضرار
غزل
حسین ثاقب
بزم میں میری خموشی سے خلل پڑتا ہے
کچھ کہوں تو تری پیشانی پہ بل پڑتا ہے
منزلِ یار کچھ اتنی بھی نہیں ہے نزدیک
راستے میں مجھے صحرائے غزل پڑتا ہے
ہے تو خورشید کا معمول بھی اپنے جیسا
صبح کے ہوتے ہی یہ گھر سے نکل پڑتا ہے
اپنی پرسوں کی ملاقات نہ جانے کب ہو
بیچ میں صدیوں برابر ابھی کل پڑتا ہے
میں روایات غزل کا ہی امیں ہوں لیکن
پاؤں پھر بھی درِ جدت پہ پھسل پڑتا ہے
کچھ ٹھکانہ ہی نہیں وحشتِ دل کا ثاقب
یہ تو خوشبو کے تعاقب میں بھی چل پڑتا ہے
منتظر دشتِ جاں ہے، بارش ہو
ابرِ غم تُو کہاں ہے، بارش ہو
دل نے کھولی ہے یاد کی کھڑکی
آنکھ بھی مہرباں ہے بارش ہو
یہ روایت ہے ہر زمانے کی
چشمِ پُرنم جہاں ہے بارش ہو
ہیں عناصر فضا میں سب موجود
ہجر، نوحہ، فغاں ہے بارش ہو
بھیج مولا گھٹائیں رحمت کی
خشک تر ارضِ جاں ہے بارش ہو
نعیم ضرار
مکمل غزل ملاحظہ فرمائیں:
ہمارے گاؤں میں آسانیاں سی ہوتی تھیں
اگرچہ بے سروسامانیاں سی ہوتی تھیں
گلی کے وسط میں بس ایک بلب جلتا تھا
ہر ایک صحن میں تابانیاں سی ہوتی تھیں
وہی پرانی کہانی بھی شوق سے سن کر
ہمارے چہروں پہ حیرانیاں سی ہوتی تھیں
گئے دنوں میں بھی مصروف تھے سبھی لیکن
محبتوں کی فراوانیاں سے ہوتی تھیں
ہمارے عہد کے بچوں سے چھین لِیں کس نے
جو ہم سے بچپن میں نادانیاں سی ہوتی تھیں
بنا کہے ہی سمجھتے تھے ایک دوجے کو
مزاج یار میں قربانیاں سی ہوتی تھیں
ہر ایک لڑکی کا زیور تھا مفت گھرداری
ہر اک محلے میں استانیاں سی ہوتی تھیں
وہ میرا گھر بھی مری راجدھانی جیسا تھا
بغیر تاج کے سلطانیاں سی ہوتی تھیں
ہمارے دوستوں کے پاس وقت ہوتا تھا
ہر ایک بات میں طولانیاں سی ہوتی تھیں
بڑوں کا ٹوکنا وہ جا بجا جھڑک دینا
نعیم ہم پہ مہربانیاں سی ہوتی تھیں
نعیم ضرار