بقول مشتاق احمد یوسفی ایک صاحب کہنے لگے
"یار ساری عمر ڈرتے ڈرتے ہی گزر گئی ہے۔ پہلے والدین سے، پھر اساتذہ سے، پھر افسران سے، پھر موت سے اور پھر موت کے بعد والے حساب کتاب سے"۔
میں نے پوچھا ،
"آپ نے بیوی کا ذکر نہیں کیا؟“
کہنے لگے، "ڈر کے مارے نہیں کیا🤪
وہ انتہائے عشق تھی کہ نور ﷺبے حساب تھا
میں قید و بندِ وقت سے آزاد اُس صدی میں تھا
وہ دورِ مصطفٰیﷺ تھا ، میں مدینہِ نبیﷺ میں تھا
آنے والے دور کا ہے امتی گناہگار
ہند سے یہ ہے حضورﷺ، ہے مگر سیاہ کار
مسکرا کہ آپﷺ نے کہا کہ روکنا نہیں
امتی ہے اور وہ بھی آنے والے دور کا
طے ہوا عصر کے بعد ہوگی میری حاضری
روبرو نبیﷺ کے پاس ،ہوگی میری حاضری
تصورِ عدالت نبیﷺ کیا، تو ڈر گیا
کہ جاکے کیا کہوں گا میں تو سوچ کہ ہی مرگیا
صحابی رسول ﷺنے کہا کہ بیٹھ جا یہاں
محفلِ حضورﷺ کے اصول سیکھ لے ذرا
بیٹھنا سکھا رہے تھے مجھکو وہ کہ اس طرح
چل کہ بھی دکھا رہے تھے مجھکو وہ کہ اس طرح
یہ بھی کہہ رہے تھے خوامخواہ سے منہ نہ کھولنا
بول کے بتا رہے تھے ، اس طرح سے بولنا
وہ خوش نصیب لوگ تھے جو دورِ مصطفٰیﷺ میں تھے
فضا بھی خوش نصیب تھی زمیں بھی خوش نصیب تھی
نیا نیا، کِھلا کِھلا سا نیلا آسمان تھا
پرانی طرز پر بنے نئے نئے مکان تھے
کئی گھروں میں اونٹ تھے کئی گھروں میں بکریاں
پک رہا تھا کچھ جہاں پہ جل رہی تھیں لکڑیاں
اتنے میں اذاں ہوئی تو رونگٹے کھڑے ہوئے
دل کہ جیسے کُھل گئے ہوں تالے سب پڑے ہوئے
وہ آسماں کا راگ تھا وہ دعوتِ بلال تھی
میرے لیے تو دعوت وصالی جمال تھی
دھو لیا نہا کہ میں نے وضو بھی بنا لیا
نسبتِ حضورﷺ میں نے عود بھی لگا لیا
گھر سے ہم نکل پڑے صحابیِ رسولﷺ کے
جارہے تھے سب ہی سمت مسجدِ رسولﷺ کے
وہ دھڑکنیں عجیب تھیں وہ کپکپی کمال تھی
کہ آنکھ اشکبار تھی سراپأ ملال تھی
روح تھی کہ دید کی تڑپ تڑپ تڑپ تڑپ
دل میرا دھڑک دھڑک دھڑک دھڑک دھڑک دھڑک
ہر قدم پہ گھٹ رہا تھا فاصلہ حضورﷺ سے
ہر قدم پہ گھٹ رہا تھا فاصلہ حضورﷺ سے۔
حبیب جالبؔ ¹⁹⁹³-¹⁹²⁸
دُنیا ہے کتنی ظالم ہنستی ہے دِل دُکھا کے
پھر بھی نہیں بُجھائے ہم نے دِیئے وفا کے
ہم نے سلوکِ یاراں دیکھا جو دُشمنوں سا
بھر آیا دِل ہمارا ، روئے ہیں منہ چُھپا کے
کیونکر نہ ہم بٹھائیں پلکوں پہ اِن غموں کو
شام و سحر یہی تو مِلتے ہیں ،،، مُسکرا کے
تاعُمر اِس ہنر سے اپنی نہ جان چُھوٹی
کھاتے رہیں ہیں پتّھر ہم آئینہ دِکھا کے
اُس زلفِ خم بہ خم کا سر سے گیا نہ سودا
دُنیا نے ہم کو دیکھا ،،، سو بار آزما کے
”جالبؔ“ ہُوا قفس میں یہ راز آشکارا
اہلِ جُنوں کے بھی تھے کیا حوصلے بلا کے
.......
خوشیوں کے لیے کل کا انتظار نہ کریں، آج بھی زندگی آپ کو مسکرانے کا موقع دے رہی ہے،
وقت لوٹ کر نہیں آتا، اس لیے جو کہنا ہے آج کہیں، جو جینا ہے آج جئیں،
زندگی چند لمحوں کی مہمان ہے، اسے خواہشوں میں نہیں، محبتوں میں گزاریں۔ ♥️
خوشیوں کے لیے کل کا انتظار نہ کریں، آج بھی زندگی آپ کو مسکرانے کا موقع دے رہی ہے،
وقت لوٹ کر نہیں آتا، اس لیے جو کہنا ہے آج کہیں، جو جینا ہے آج جئیں،
زندگی چند لمحوں کی مہمان ہے، اسے خواہشوں میں نہیں، محبتوں میں گزاریں۔ ♥️
@UrduVirsa ایک میں رخصت کی کسک ہے، تو دوسرے میں روک لینے کی التجا—دونوں غزلیں دل کو چھو جاتی ہیں۔ ❤️
انشاء جی اور قتیل شفائی نے جدائی کو لفظوں میں ایسا امر کیا کہ یہ مکالمہ اردو ادب کا یادگار باب بن گیا۔
ابن انشاء اور قتیل شفائی...
ابن انشاء کا کلام“انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو“
ان کی وفات کے بعد قتیل شفائی نے غزل لکھی “یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی“، دونوں غزلیں اپنے اعتبار سے اردو ادب ميں ایک اچھا اضافہ ہيں۔
ہاں، یہ اور بات ہے کہ قتیل صاحب کی غزل زیادہ افسردہ کر جاتی ہے.
اردو ادب میں یہ دونوں غزلیں ایک خوبصورت شعری مکالمہ ہیں ایک میں انشاء جی کی رخصت ہے، تو دوسری میں قتیل شفائی کی محبت بھری پکار۔
ایک طرف کوچ کی اداسی ہے، دوسری طرف روک لینے کی التجا.....
دو عظیم شاعروں نے جدائی کو یادگار بنا دیا۔ ❤️
آپ کے لیے دونوں غزلیں ہیں.. آپ کو کونسی غزل زیادہ پسند آئی ضرور بتائیے گا۔۔
انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جی کو لگانا کيا
وحشی کو سکوں سےکيا مطلب، جوگی کا نگر ميں ٹھکانا کيا
اس دل کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا
شب بيتی ، چاند بھی ڈوب چلا ، زنجير پڑی دروازے میں
کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانا کيا
پھر ہجر کی لمبی رات مياں، سنجوگ کی تو يہی ايک گھڑی
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا
اس روز جو اُن کو دیکھا ہے، اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو ان سے بات ہوئی، وہ بات بھی تھی افسانہ کیا
اس حُسن کے سچے موتی کو ہم ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں
جسے ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا
اس کو بھی جلا دُکھتے ہوئے مَن، اک شُعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا؟ یوں ماٹی میں مل جانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بن ميں نہ جا بسرام کرے
ديوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا...
ابنِ انشاء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی
جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا اِن سے بھی منہہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی
کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا جی
تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جی
بکھراتے ہو سونا حرفوں کا، تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر اِن میں اپنے زخموں کا، مت زہر ملاؤ انشا جی
اِک رات تو کیا وہ حشر تلک، رکھے گی کھُلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جی
نہیں صرف “قتیل“ کی بات یہاں، کہیں “ساحر“ ہے کہیں “عالی“ ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جی....!!
قتیل شفائی
@UrduVirsa نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی، انسان جس کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اُس کے لیے کہیں نہ کہیں آسانی پیدا فرما دیتا ہے۔
اصل خوش نصیبی مال جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں دوسروں کا حق پہچاننے میں ہے۔