Your chance to win one of 30 free Umrah trips in the Nusuk Challenge 🕋!
Use the code to support me, sign up via the link, and start the challenge — your next journey to Umrah could be yours.
#NusukApp
https://t.co/MrFax693K4
Your chance to win one of 30 free Umrah trips in the Nusuk Challenge 🕋!
Use the code to support me, sign up via the link, and start the challenge — your next journey to Umrah could be yours.
#NusukApp
https://t.co/MrFax693K4
@ashirazeemgill اس لڑکی نے دوپٹہ لیا ہوا تھا، غلطی سے سرک کر اتر گیا تھا، وہ لڑکی وزیراعلی کے رعب کی وجہ سے پوری توجہ اپنی گفتگو پر مرکوز کیے ہوئے تھی، اس حال میں مریم نواز کا دوپٹہ سر پر اوڑھانا نہایت احسن عمل ہے۔
@AtharSaleem01 استغفراللہ، اختلاف میں اس قدر نہ گریے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لیے ایسے حقیر الفاظ استعمال کر رہے ہیں، کچھ شرم کریں اور توبہ کریں، اقرار الحسن جیسا بھی ہے وہ اس کا ذاتی فعل ہے، خاندان پر کیوں بات کر رہے ہیں۔
1970 ء کے انتخابات میں جمعیۃ علماء اسلام
کے ٹکٹ پر پورے ملک سے مختلف محاذوں
پر مصروف علماء کرام نے جمعیت کے پلیٹ فارم
سے انتخابی دنگل میں اترے
جن میں خطابت کے میدان سے
مولانا عبدالشکور دینپوری ملتان سے ،مولانا محمد ضیاء القاسمی فیصل آباد،، مولانا محمد لقمان علی پوری مظفرگڑھ، مولانا محمد اجمل خان لاہور
اور فن مناظرہ و مباحثہ کے
مولانا عبد الستار تونسوی ڈیرہ غازی خان سے ، مولانا دوست محمد قریشی جتوئی
خانقاہی میدان سے مولانا عبداللہ درخواستی رحیم یار خان ، مولانا عبیداللہ انور لاہور سے
لیکن محکمۂ زراعت کی کاروائی کے پیشِ نظر سوائے دوچند کے یہ تمام اکابر علمی شخصیات ہر حلقے سے مؤقر ووٹ بینک کے باوجود کامیاب نہ ہوسکے ۔
اس موقع پر مفکر اسلام مولانا مفتی محمود رحمہ اللّٰہ نے ایک تاریخی جملہ کہا کہ
" مجھے اندیشہ اس چیز کا ہے کہ میں نے تمام دینی فنون کی ماہر شخصیات کو عوام کے سامنے پیش کیا ہے ۔عوام نے انہیں مسترد کیا ۔کہیں انکا یہ عمل اللّٰہ کے عذاب و غضب کو دعوت نہ دے دے “
مفتی صاحب کا یہ جملہ بالکل درست ثابت ہوا ۔ٹھیک دو سال بعد ملک دو لخت ہوا اور اسکے بعد ملک سیاسی ،معاشی ،معاشرتی ،مذہبی اور امن و امان کے حوالے سے جس زوال اور عدم استحکام کا شکار ہوا ۔آج تک اسکی تلافی یا قضاء ممکن نہ ہوسکی آج جس انداز میں عوام، عدلیہ اور کمپنی نے دینی و مذہبی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر ایک فتنے کو پروموٹ و پروجیکٹ کیا یہ قوم کے بدترین مستقبل کی نوید لگتا ہے
یہ تحریک انصاف کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ بغیر کسی معاشی ترقی، بعیر کوئ میگا پروجیکٹ بنانے بلکہ ملک کو ڈیفالٹ دہانے پر پہنچانے کے باوجود نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد کو محض پراپیگینڈوں اور الف لیلوی داستانوں کے زیراثر اپنے ساتھ ملائے کھڑی ہے۔ پراپیگنڈہ وار میں عمران گوئبل کے ریکارڈ توڑ چکا ہے۔
صرف بیرسٹر گوہر کی میڈیا پر یہ گفتگو سن لیں، آپ کو مکمل اندازہ ہوجائے گا کہ یہ لوگ کتنے بڑے جھوٹے ہیں۔
پہلے میڈیا پر 150 سیٹس کا دعوی کرکے بولتے رہے کہ ہمارے پاس فارم 45 موجود ہے۔
جب اینکر نے سوال کیا کہ فارم 45 آپ کے پاس واقعی موجود ہے تو صاف صاف مکر گئے کہ نتائج آ رہے ہیں
ماشاءاللہ ہر پارٹی کی طرف سے الیکشن کی بھر پور کیمپین چلائی گئی، لیکن اس بار نہ کسی نے کسی کی عزت نفس مجروح کی، نہ کسی کی کردار کشی کی، باوجود اس کے کہ خان صاحب کو عدالت نے قومی خزانے کا ڈاکو (توشہ خانہ سے اربوں کا فراڈ کرنے پر)، غدار وطن (وطن عزیز کی انتہائی خفیہ دستاویزات کو*
سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر) اور زانی(نعوذبااللہ عدت میں نکاح کرنے پر) ڈیکلیئر کیا، خان صاحب کے سیاسی مخالفین میں سے کسی نے بھی اپنے جلسوں میں یا اپنی تقریروں میں خان صاحب پر جملے نہیں کسے اور نہ ہی ان کے کردار پر کیچڑ اچھالا۔
نوٹ: اگر عدالتیں اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر*
@OryaMaqboolJan بھائی صاحب جس دن شوکت خانم کو ملنے والے ان چوبیس ارب سالانہ کا احتساب ہو گیا نا تو دنیا نے اسے روپے بھی نہیں دینا، اسی لیے تو ہم کہتے ہیں کہ شوکت خانم ہسپتال کا آڈٹ کیا جائے۔
@OryaMaqboolJan بغض علماء حق میں آپ نے ہر آیت کی ہر حدیث کی تشریح اپنی مرضی سے کرنی شروع کر دی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کرتے سے متعلق سوال اس لیے کیا گیا تھا کہ وہ مال غنیمت میں سے تھا، مولانا کے پاس اگر کوئی ایسی چیز دیکھ کر کوئی سوال کرے کہاں سے آئی تو مولانا جوابدہ ہیں!