فلسطین بے نقاب کرتا ہے؟
23 ماہ یعنی 700 دن تک حوثیوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ کا شور ڈالے رکھا۔ یہاں تک کہ دنیا والے ا��ہیں غزہ کے تنہا ممد و معاون سمجھنے لگے۔ مگر فلسطین کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ نقاب اتار کر حقیقت سامنے لاتا ہے۔
ذرا غور سے دیکھیے۔
اکتوبر 2023ء سے اکتوبر 2025ء تک حوثیوں نے تقریباً 23 ماہ کے دوران مسلسل اسرائیل کی طرف میزائل اور ڈرون داغے۔
لیکن ان حملوں کے نتائج کیا نکلے؟!
جولائی 2024ء میں حوثیوں کے ایک ڈرون نے تل ابیب میں ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔ بس یہی واحد اکلوتی ہلاکت ہے حوثی حملوں میں۔ اسی سال دسمبر میں ایک میزائل رہائشی علاقے میں گرا، جس سے 16 افراد زخمی ہوئے۔ پھر مئی 2025ء میں ایک میزائل بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب پہنچا، جس کے نتیجے میں ایک معلق پل پر لوگ زخمی ہوئے۔ اسی سال ستمبر میں ایک ڈرون نے ایلات کے ایک علاقے کو نشانہ بنایا، جس سے 22 افراد زخمی ہوئے۔
یوں 23 ماہ، یعنی تقریباً 700 دن کے دوران، ٹوٹل ایک اسرائیلی ہلاک اور کل ملا کر 38 افراد زخمی ہوئے۔
اب سعودی عرب کی صورتحال دیکھیے۔
اعداد و شمار کے م��ابق، صرف گزشتہ پانچ چھ دنوں میں، یعنی 6 سے 11 اکتوبر کے دوران، حوثیوں کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور 350 سے زیادہ زخمی ہوئے!
سعودی ہوائی اڈوں کو بار بار نشانہ بنایا گیا، طیاروں کو نقصان پہنچا اور صرف ایک دن، یعنی 8 اکتوبر کو�� ریاض آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی طے شدہ 747 پروازوں میں سے 293 پروازیں متاثر ہوئیں۔ یہ طے شدہ پروازوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً 39 فیصد بنتا ہے!
اس کے علاوہ جازان میں تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، شاہ فہد ایئر بیس پر موجود ایک اطالوی یوروفائٹر لڑاکا طیارے کو نقصان پہنچا اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اس تضاد پر غور کیجیے۔
حوثی جو تقریباً دو سال تک اسرائیل پر حملے کرنے کے دعوے کرتے رہے، انہوں نے سعودیہ کو 6 دن میں جتنا جانی نقصان پہنچایا، وہ اسرائیل کو 23 ماہ کے دوران ہونے والے نقصان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے!
اصل اور بڑا سوال یہ ہے
ات��ا بڑا فرق کیوں ہے؟! کیا اسرائیل وہی ’’چھوٹا شیطان‘‘ نہیں، جس کے خلاف حوثی ’’موت بر اسرائیل ‘‘کا نعرہ لگاتے ہیں؟!
بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلسطین حقیقت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ ہاں، یہی فلسطین ہے جو حقیقت سامنے لا رہا ہے۔ حوثی غزہ کو اپنے مفادات کے لیے ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے رہے، تاکہ عرب عوام کو دھوکا دے سکیں اور عوامی حمایت کی بنیاد پر اپنے لیے جواز حاصل کر سکیں۔
اسی لیے ہر غیرت مند مسلمان کو چاہیے کہ وہ یہ اعداد و شمار پھیلائے اور اس حقیقت کو بے نقاب کرے۔ ہاں، یہ بات حوثیوں اور ان کے پیروکاروں کے لیے تکلیف دہ ہے، لیکن اسے ہر شخص تک پہنچنا چاہیے، تاکہ صورتحال واضح ہو اور لوگوں کی آنکھوں سے پردہ ہٹ جائے!
حوثی اسرائیل کے ساتھ کھیل کھیل رہے تھے اور اسے نقصان پہنچانا نہیں چاہتے تھے۔ اسی لیے اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ مثلاً ’’اسرائیلی دم چھلا‘‘ کہلانے والا ماہر شرف الدین حوثیوں کی زبان بول رہا ہے۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ سب ایک ہی چشمے سے سیراب ہو رہے ہیں، ایک ہی جدِ امجد کی نسل ہیں اور انہیں بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ اس امت میں داخل کیا گیا ہے۔
(مستفاد: عبداللہ السحیم السرحان)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
میری امت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والوں میں وہ لوگ (بھی) ہیں جو میرے بعد ہوں گے ، ان میں سے (ہر) ایک یہ چاہتا ہوگا کہ کاش! اپنے اہل وعیال اور مال کی قربانی دے کرمجھے دیکھ لے۔
(مسلم، ۷۱۴۵)
@Shehnazbano1214 حق اللہ پاک کا حکم ہے اور اللہ پاک کے حکم کے سب تابع ہیں چاہے وہ انبیاء کرام علیہم السلام واتسلیم ہوں یا خلفاء راشدین ہوں یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہوں یا باقی امت ہو۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ چوتھے خلیفہ راشد ہیں ان کا نمبر چوتھا ہے وہ بھی اللہ پاک کے حکم کے تابع ہی
@DrSabirplf لعنت تیرے ان خیالات پر اور تیرے جیسو، پر
اور لعنت ہوں ان حوثیوں اور ان کے آقاؤں پر دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی
ان شاءاللہ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بربادی تمہارا مقدر ہے مجوسیوں
@iamHaiderZaidi بلکل صحیح کہاں تم نے اہلیت والے واقعی جنتی ہیں
بس ذرہ شکل دیکھ کر ہی پتا چل جاتا ہے کون اہلییت کا دیوانہ اور کون ان کا دشمن ہے
لعنت ہو ان کے دشمنوں پر
ذرہ اپنی شکل دیکھ لینا شیشے میں
@AminShaheedi او لعنتی انسان اس وقت کہاں مر گئے تھے تم جب یمن شام عراق میں سنیوں کو لاکھوں کی تعداد میں شہید کیا جا رہا تھا
لعنت ہو تم پر اور تم جیسے بچیوں ہر اللہ پاک کی اور ساری کائنات کی