یہ ویڈیو محفوظ کر لیں اور اپنے تمام جاننے والوں کو بھیج دیں۔ یہ بہت ضروری ہے۔ اگر یاد رہے تو صرف فائدہ ہی فائدہ ہے۔ واٹس ایپ میں اوپر تین نقطے ہوتے ہیں، وہاں جا کر اس پیغام کو PIN کر دیں۔ یہ بہت ہی ضروری پیغام ہے۔
#موناسکندر
اب یہ سمجھو کہ نبوت اگرچہ اعلٰی منصب ہے، مگر اسکی اتھارٹی صرف اللہ تعالی کے پاس ہے۔ جسکو وہ چاہے نبی بنادیتاہے۔۔ اب آپ لوگوں نے اپنا جعلی نبی بنایا ہے تو اس لئے آپ لوگ اللہ پاک کے نزدیک مجرم ہیں۔۔۔*
اس تحریر کی ہر صاحبِ ایمان، زیادہ سے زیادہ تشہیرکرے ۔۔۔ یہ محمد صلى الله عليه واله وسلم سے محبت کا ادنٰی سا اظہار ھوگا۔
۔۔۔۔ جزاك الله خیرا کثیرا۔
شجر کاری کریں
کم از کم اپنے حصے کی آکسیجن کا اہتمام کر لیں۔
گرمی آلو بخارے کا شربت پینے یا ٹِنڈ کروانے سے نہیں جائے گی بلکہ درخت لگانے سے جائے گی۔ ۔ آپ بھی اپنے حصے کا ایک ایک درخت لگائیں۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کو شکار ہو رہا ہے۔ درجہ حرارت شدید بڑھ چکا ہے۔ اس موسم گرما میں ایک ایک درخت ضرور لگائیں۔
🌲 🌴 ☘️
#شجر_کاری
#درخت_لگائیں
زیتون کی کاشت
.زیتون کا باغ لگائیں
.ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ پاکستان میں ایک مرتبہ زیتون
کا باغ #olivegarden لگا لیں تو وہ کم از کم ایک ہزار سال تک پھل دیتا رہے گا.
زیتون کن کن اضلاع میں لگایا جاسکتا ہے؟ زیتون کے باغات پنجاب سمیت پاکستان کے تمام علاقوں میں کامیابی سے لگائے جا سکتے ہیں. خیبر پختونخوا سے گلگت بلتستان سے لیکر سندھ ۔ سندھ سے لیکر بلوچستان حتی کہ چولستان میں بھی زیتون کی کاشت ہو سکتی ہے..
نوٹ جن علاقوں میں جنگلی زیتون۔ کہو۔ سینزلہ۔ عتمہ۔ تنگ برگہ۔ گونیر۔ خونہ۔ کاؤ ۔ خت ۔خن۔ سرسینگ۔ شیجور۔ سینجور۔ شون ۔۔ پایا جاتا ہے اس سے آٹھ سے دس پرسنٹ تیل نکالا جا سکتا ہے جو کھانے پینے میں قابل استعمال ہے پاکستان میں نو کڑوڑ جنگلی زیتون کے درخت پائے جاتے ہیں
نوٹ
گندم کی کاشت کے علاقوں میں کھیتوں کی بجائے کھیتوں کے کناروں رکھوں ڈیروں سکول کالجز مسجد مدرسوں پارکوں میں زیتون کے پودے لگائیں
زیتون کس طرح کی زمین میں لگایا جاسکتا ہے؟
زیتون کا پودا ہر طرح کی زمینوں مثلاََ ریتلی، کچی، پکی، پتھریلی، صحرائی زمینوں میں کامیابی سے لگایا جا سکتا ہے. صرف کلر والی زمین یا ایسی زمینیں جہاں پانی کھڑا رہے، زیتون کے لئے موزوں نہیں ہیں.
زیتون کو کتنے پانی کی ضرورت ہے؟
زیتون کے پودے کو شروع شروع میں تقریبا دس دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے. یا بلحاظ موسم پانی کی ترتیب اپ بڑھا گھٹا سکتے ہیں یعنی جبھ پودے کو پانی کی ضرورت ہو تبھ لگائیں تاکہ پھل اچھا آئے جیسے جیسے پودا بڑا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی پانی کی ضرورت بھی کم ہوتی جاتی ہے. دو سال کے بعد زیتون کے پودے کو 20 سے 25 دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے.
زیتون کے پودے کب لگائے جا سکتے ہیں؟
زیتون کے پودے موسمِ بہار یعنی فروری، مارچ , اپریل یا پھر مون سون کے موسم یعنی اگست، ستمبر ، اکتوبر میں لگائے جا سکتے ہیں. زیتون کے پودے لگانے کا طریقہ کار کیا ہے؟ زیتون کا باغ لگاتے ہوئے پودوں کا درمیانی فاصلہ کم از کم 18*18 فٹ ہونا ضروری ہے. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریبا 150 پودے لگائے جا سکتے ہیں. یہ بھی دھیان رہے کہ زیتون کے پودے باغ کی بیرونی حدود سے تقریباََ 8 تا 10 فٹ کھیت کے اندر ہونے چاہیئں
.
پودے کیسے لگانے چاہئیں؟؟
پودے لگانے کے لئے دو فٹ گہرا اور دو فٹ ہی چوڑا گڑھا کھودیں. تین لئرز میں گڑھے کے چاروں کونوں پر فینائل کی گولیاں رکھیں تاکہ پودے دیمک سے محفوظ رہیں یا بائر جرمنی کی دیمک کش دوائ استعمال کریں اس کے بعد زرخیز مٹی اور بھل سے گڑھوں کی بھرائی کر دیں. پہلے مرحلے میں اپکے گھڑے میں پانی اچھی طرح ہونا چاہئے تاکہ پودے کی نمی ارد گرد کی مٹی چوس نا لے یا پودا لگانے سے ایک ہفتہ پہلے تیار شدہ گھڑوں کو اچھی طرح پانی لگائیں اب زیتون کا پودا لگانے کے لئے آپ کی زمین تیار ہے. پودے کو احتیاط سے شاپر سے نکالیں یا صرف شاپر کا نچلا حصہ کاٹ کر گاچی کو مٹی میں دبائیں تاکہ گاچی ٹوٹ کر جڑوں کو ہوا نا لگے . گڑھے کی مٹی کھود کر پودا لگائیں اور اس کے بعد پودے کے چاروں طرف مٹی کو پاؤں کی مدد سے دبا دیں تاکہ پودا مستحکم ہو جائے. چھوٹے پودے کا تنا ذرا نازک ہوتا ہے اس لئے پودے کو پلاسٹک کے پائپ سے سہارا دے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے. سہارے کے لئے لکڑی کا استعمال نہ کریں کیونکہ لکڑی کو دیمک لگ سکتی ہے جو بعد میں پودے پر بھی حملہ آور ہو سکتی ہے
.
زیتون کی کون کون سی اقسام کاشت کی جا سکتی ہیں؟
نمبر 1. لسینو نمبر 2. گیملک نمبر 3. پینڈولینو نمبر 4. نبالی نمبر 5. آربو سانا نمبر 6. کورونیکی نمبر 7. آربیقوینہ
پنجاب اور سندھ کے گرم علاقوں سمیت دیگر گرم علاقوں کے لئے درج ذیل اقسام کاشت کرنی چاہئیں. نمبر 1. آربو سانا نمبر 2. کورونیکی نمبر 3. آربیقوینہ
بلوچستان کے لیے منظور شدہ اقسام
1.,Frantouo
2.Arbiquina
3.Arbasona
4.,Koronoki
5.Leceno
6.Hamdi
7.Ojabalanka
8.,Otobartica
9.Coratina
10.Jerboi.
یاد رکھیں زیتون کا باغ لگاتے وقت کم از کم دو یا دو سے زائد اقسام لگانی چاہئیں اس طرح بہتر بارآوری کی بدولت پیداوار اچھی ہوتی ہے.
زیتون کے باغ کو کھادیں کتنی اور کون کونسی ڈالنی چاہئیں؟ کھاد دوسرے سال کے پودے کو ڈالیں. دوسرے سال کے پودے کے لئے: گوبر کی کھاد . . . . 5 کلوگرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 5 کلو گرام کا اضافہ کریں نائٹروجن کھاد . . . . 200 گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 100 گرام کا اضافہ کریں فاسفورس کھاد . . . . 100گرام فی پودا ڈالیں . . . .
بقیہ
کمنٹس میں
جامن۔۔ِ۔۔۔
اسے بنگالی میں کالا جام اور سندھی میں جموں کہا جاتا ہے۔مشہور عام درخت ہے۔ گرمیوں کے موسم میں پھل لگتا ہے۔ اس کا رنگ اودا سیاہ ہے۔ ذائقہ قدرے شیریں ہے اور مزاج سرد خشک ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بہت مفید ہے۔ جامن کی گٹھلیاں پیس کر سادہ پانی کے ہمراہ ہر روز تین ماشہ کھاتے رہیں۔ ذیابیطس کا خاتمہ ہو جائے گا۔یہ خون اور گرمی کے نقائص دور کرتا ہے۔ بھوک لگاتا ہے کھانے کو ہضم کرتا ہے۔ قدرے قابض ہے۔ تلی‘ جگر اور معدہ کو طاقت دیتا ہے۔ خصوصاً گرم طبیعت والوں کے بالوں کو گرنے سے بچاتا ہے۔ پیشاب میں شکر آنے کو روکتا ہے۔ جامن بڑھی ہوئی تلی کے لئے بہت مفید ہے۔ اسے ویسے بھی کھایا جا سکتا ہے اور اس کو شربت بنا کر بھی پینا مفید رہتا ہے۔ جامن کی چھال کا جوشاندہ پرانے اسہال اور پیچش میں مفید رہا ہے۔ گلے آنے اور پھولے ہوئے مسوڑھوں میں اس کی کلیاں اور غرارے حد درجہ نفع بخش ہیں۔جب جامن کا موسم ہو تو ذیابیطس (پیشاب میں شکر آنے) والے مریض روٹی کھانا کم اور زیادہ سے زیادہ جامن کا استعمال کریں اس طرح ان کے پیشاب میں شکر آنا بند ہو جائے گی۔ لوگ جامن کھاتے اور گٹھلیاں بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں حالانکہ جامن کی گٹھلیاںبے کار چیز نہیں‘ یہ گٹھلی کتنی کام کی چیز ہے ان سطور سے آپ پر بخوبی واضح ہو جائے گا۔
جامن کی گٹھلی کو سایہ میں خشک کر کے اس کا سفوف بنا لیں۔ تین ماشہ یہ سفوف دہی کے ساتھ دن میں تین بار استعمال کرنے سے ہر قسم کی پیچس دور ہو جاتی ہے۔آنکھوں سے پانی آتا ہو یا موتیا اتر رہا ہو تو جامن کی گٹھلی خشک کر کے باریک پیس کر تین تین ماشہ صبح و شام پانی کے ساتھ کھلائیں اور جامن کی گٹھلی برابر وزن شہد میں پیس کر سرمچو سے صبح و شام آنکھوں میں ڈالا کریں۔ لوگ کہتے ہیں کہ جب موتیا اترنا شروع ہوتا ہے تو پھر رکتا نہیں۔ یہ آسان سی دوائی لوگوں کے اس خیال کو غلط ثابت کر دے گی۔ جامن کی گٹھلیوں کو خشک کر کے باریک پیس کر شہد ملا کر بڑی بڑی گولیاں یا بتیاں بنا کر رکھیں۔ بوقت ضرورت شہد میں ملا کر لگائیں۔ ایک بار بنا کر سال بھر کام میں لا سکتے ہیں۔جامن کی گٹھلیوں کو شہد ملا کر گولیاں منہ میں رکھ کر چوسنے سے بیٹھا ہوا گلا ٹھیک ہو جاتا ہے اور آواز کا بھاری پن ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر دیر تک استعمال کی جائے تو دیر سے بگڑی ہوئی آواز بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ زیادہ بولنے اور گانے والوں کے لئے یہ عجیب چیز ہے۔ جامنوں کی گٹھلیاں نکال کر ان کا ایک سیر گودا لیجئے۔ پہاڑی نمک ایک تولہ‘ سیاہ نمک ایک تولہ‘ دانے دارچینی حسب ذائقہ‘ زیرہ سیاہ حسب ضرورت پانی مناسب۔جامنوں کے گودے میں نمک حل کر دیں۔ یہ یاد رہے کہ نمک سمندری استعمال نہ کریں۔ اس سے ذائقہ خراب ہو جائے گا۔ نمک پہاڑی استعمال کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی سیاہ نمک بھی حل کر دیں۔ جب کسی کو پلانا ہو تو اس نمکین گودے میں سے ایک تولہ لیجئے اور اس میں چینی کا باریک سفوف نصف چھٹانک ملا دیجئے اور 1/16 تولہ زیرہ سیاہ بریاں کا سفوف ملا دیجئے اور پانی میں گھول کر چھان لیجئے اور برف ڈال کر استعمال کیجئے۔ یہ سردائی نہایت لذیذ بنتی ہے۔ اس کے استعمال سے بدہضمی‘ بھوک کا نہ لگنا‘ معدہ کی کمزوری اور انتڑیوں کی شکایت دور ہوتی ہے۔ جگر کی گرمی بھی اس سے دور ہوتی ہے۔ خون جسم کے کسی حصے سے خارج ہوتا ہو یہ اسے روکنے میں مدد دے گی۔گٹھلی کا مغز‘ آم کی گٹھلی کا مغز‘ ہلیلہ سیاہ (جنگ ہرڑ) ہم وزن لے کر سفوف بنا لیں۔ تین چار ماشے پانی کے ساتھ پھانکنے سے دست بند ہو جاتے ہیں۔ سایہ میں خشک کی ہوئی چھال باریک پیس کر چھ چھ ماشہ صبح‘ دوپہر اور شام کے وقت تازہ پانی کے ساتھ کھلانا ذیابیطس کے مریض کے لئے بے حد مفید ہے۔ جامن کی گٹھلیوں کاسفوف پانچ رتی صبح و شام پانی کے ساتھ استعمال کرنے سے پیشاب کے ساتھ شکر آنے کو فائدہ کرتا ہے۔جامن کی چھال کو سایہ میں خشک کر کے باریک پیس کر کپڑے سے چھان لیں اور دونوں وقت صبح و شام اسے بطور منجن دانت‘ مسوڑھوں پر مل کر منہ کو پانی سے صاف کر دیا کریں۔ اس سے دانتوں اور مسوڑھوں کے تمام امراض دور ہو جاتے ہیں‘ ہلتے دانت بھی ٹھیک ہو جاتےموسم گرما کا اہم پھل،
جامن کے تیس فوائد
موسم گرما میں آنے والا پھل جامن صحت کے حوالے سے ا نتہائی مفید اور اہم پھل ہے اوردیگر پھلوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مہنگا بھی نہیں ہے۔ جامن کے ساتھ ساتھ جامن کی گھٹلیاں اورپتے بھی بہت ساری بیماریوں کے علاج میں استعمال کیے جاتے ہیں۔عموماً جامن کھا کر گھٹلیاں پھینک دی جاتی ہیں حالانکہ جامن کی گھٹلیاں مجموعی امراض میں بے انتہا فائدہ پہنچاتی ہیں۔ آپ ان گھٹلیوں کو سکھا کر رکھ سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر استعمال کریں۔ جامن کینسر،دل کی بیماریوں،ذیابیطس،دمہ،معدہ اور جلد کے مختلف مسائل کے حل کیلئے نہایت مفید پھل ہے۔
بقیہ
کمنٹس میں