پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان صاحب اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلی سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ جنید اکبر صاحب خیبر پختونخواہ میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ انکا تقرر عمران خان صاحب نے خود کیا ہے۔ انکی غیر موجودگی میں صوبے کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان صاحب قائم مقام صدر ہیں۔ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں انکے شر سے۔
پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان صاحب اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلی سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ جنید اکبر صاحب خیبر پختونخواہ میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ انکا تقرر عمران خان صاحب نے خود کیا ہے۔ انکی غیر موجودگی میں صوبے کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان صاحب قائم مقام صدر ہیں۔ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں انکے شر سے۔
Dil bara udas hai bai es ka ander se aur ese lag raha hai yeh pehle se hi boht roo chuki hai
!aik "Inshallah" per lag raha hai kh rone wali Bullian banne lagin thin..
Dil jeet lia Mayra Khan tu ne
میں جب جب مائرہ خان کا یہ کلپ دیکھتی ہوں میں آنکھیں بھر آتی ہیں جس میں وہ شوکت خانم ہسپتال پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 29 دسمبر سے پہلے خان ہمارے درمیان ہونگے🥹
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف سازشیں کر کے ان کی حکومت گرانے والا لالچی گروپ مکمل کھل کے سامنے ا گیا ہے
بے شک اللّٰہ الحق ہے
جو آدمی ہاؤس اریسٹ
جس نے اپنے وزیر اعلیٰ کو ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی
اس نے خود کو نیا وزیر اعلیٰ کے لیے نامزد کر دیا
مائنس عمران خان گروپ نامنظور
An elected Chief Minister representing 45 million people is being detained incommunicado. No one knows in what condition he is...💔
Where is CM @SohailAfridiISF ?
@nimi_mir
Nimi
اگر آپ سے کوئی گانے کے بارے میں بات کرے نا، تو کہنا کہ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک ہی شخص میں دو خوبیاں ہوں: ایک یہ کہ وہ پیاری بھی ہو اور دوسری یہ کہ گانا بھی اچھا گاتی ہو۔ مثالیں بھی دے دینا، جیسے شریا گھوشال، لتا منگیشکر، سنیدھی چوہان، آشا بھوسلے وغیرہ وغیرہ۔
اور یہ کہنا کہ جو پیاری ہوتی ہیں نا، انہیں بس گانے کا شوق ہوتا ہے، تو وہ بس Coke Studio تک ہی گانے گا کر اپنا شوق پورا کر لیتی ہیں۔😄
ہر محلے میں ایک آدھ ایسی دائی ٹائپ آنٹی ضرور ہوتی ہیں جن کی نظر خواتین کے چہروں سے زیادہ اُن کے پیٹ پر ہوتی ہے۔ کس کی شادی ہوئی، کس کے ہاں خوش خبری آنے والی ہے، کس کے ہاں کیوں نہیں آ رہی… سب کی خبر رکھنا اپنا فرض سمجھتی ہیں۔ بس چلے تو میاں بیوی کے ذاتی معاملات کی تاریخ اور وقت بھی لکھ کر رکھ لیں! 😂
پاکستان میں ہمارے محلے میں بھی ایک ایسی ہی خاتون تھیں۔ اکثر ہمارے گھر آتی تھیں اور امّی کچھ پیسے دے کر اُن کی مدد کر دیا کرتی تھیں۔
ایک دن امّی گھر پر نہیں تھیں۔ دروازے کی گھنٹی بجی تو میں نے جا کر گیٹ کھولا۔ باہر تقریباً دس سال کا ایک بچہ مٹھائی لیے کھڑا تھا۔ کہنے لگا:
’’عشرت باجی کا بیٹا ہوا ہے!‘‘
میں نے مٹھائی لی اور فریج میں رکھ دی۔
کچھ دیر بعد امّی گھر آئیں۔ فریج میں مٹھائی دیکھی تو پوچھا:
’’یہ کہاں سے آئی؟‘‘
میں نے آرام سے کہا، ’’ایک بچہ دے کر گیا ہے، کہہ رہا تھا عشرت باجی کا بیٹا ہوا ہے۔‘‘
امّی نے حیران ہو کر دوبارہ پوچھا، ’’کس کا بیٹا؟‘‘
’’عشرت باجی کا!‘‘
ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ اتفاق سے وہی دائی آنٹی بھی آ گئیں۔ امّی نے اُن کے آگے مٹھائی رکھی اور بتایا:
’’لیں، منہ میٹھا کریں، عشرت کا بیٹا ہوا ہے!‘‘
بس جی… یہ سننا تھا کہ آنٹی کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ مٹھائی وہیں رہ گئی اور تفتیش شروع! 😂
’’ہائیں؟ عشرت کا بیٹا ہو گیا؟ کیسے ہو گیا؟ اور مجھے پتا بھی نہیں چلا؟‘‘
اُن کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ بچہ پیدا ہونے کے لیے پہلے اُنہیں اطلاع دینا ضروری تھا! 😭😂
کبھی اُٹھ کر اِدھر جاتیں، کبھی اُدھر۔ ساتھ مسلسل بڑبڑاہٹ:
’’عشرت کا بیٹا کیسے ہو گیا؟ مجھے تو کچھ پتا ہی نہیں چلا!‘‘
اصل میں عشرت باجی کی شادی کو دس سال ہو چکے تھے اور اُن کے ہاں اولاد نہیں تھی۔ دائی آنٹی نے بھی اپنے تجربے کی بنیاد پر ذہن میں یہ بات بٹھا لی تھی کہ اب اُن کے ہاں اولاد نہیں ہونی۔
اب اچانک بیٹے کی خبر آ گئی تھی، تو اُنہیں یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے اُن کی برسوں کی دائی گیری کو چیلنج کر دیا ہو! 😂
آواز آہستہ آہستہ اتنی اونچی ہو گئی کہ میں نے امّی سے کہا:
’’امّی، اِنہیں ذرا چپ کروائیں، آواز باہر جا رہی ہو گی!‘‘
مگر آنٹی کو چین کہاں! اُن کی سوئی بس ایک ہی بات پر اٹکی ہوئی تھی:
’’عشرت کا بیٹا ہو گیا اور مجھے خبر تک نہیں ہوئی؟‘‘
خیر، شام کو عشرت باجی کا فون آیا تو سارا معاملہ سمجھ میں آ گیا…
اُنہوں نے ایک بچہ اڈاپٹ کیا تھا! ❤️
یہ سنتے ہی میری ہنسی چھوٹ گئی۔ میں نے امّی سے کہا:
’’امّی! دائی تو واقعی بڑی پہنچی ہوئی ہیں… ہم نے تو مٹھائی کھلا کر اُن کے پورے کیریئر پر سوال اٹھا دیا تھا!‘‘ 😂😂😂