بی ایل اے نے فوجی کیمپ پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا گاڑیاں جلا دیں بی ایل اے کے کچھ جنگجو بھی مرے لیکن پاک فوج کہہ رہی ہے وہاں کوئی تھا ہی نہیں وہ سارا کیمپ ہی خالی تھا۔ خالی تھا تو بی ایل اے کے لوگ بددعاؤں سے مرے؟
جب منہ کھولتے ہیں تب جھوٹ بولتے ہیں۔
جو سلوک ضیاء الحق نے آپکی پارٹی سے کیا اس سے بڑھ کر ظلم آج آپ ضیاءالحق کے قبیلے کیساتھ مل اپنے مخالفین پر کر رہے ہیں۔ تو پھر رونا کیسا؟ اپنی باری کا پھر سے انتظار کریں۔ کیونکہ
باری باری سب کی باری
سوات کا صحافی موسی خان خیل مجھے کہتا تھا مجھے مار دیں گے وہ نام بھی لیتا تھا فلاں کرنل فلاں میجر مجھے مار دے گا اسے 32 گولیاں ماری گئیں تھیں ! حامد میر ۔۔
پراڈو والے کو پولیس اہلکار نے پکڑ رکھا ہے اور پٹرول پمپ کا ملازم اسے تھپڑ مار رہا ہے۔ یہ انصاف نہیں وحشیوں کے معاشرے میں داد سمیٹی جارہی ہے۔ اچھے بھلے لوگ کہہ رہے ہیں سکوٹی والی لڑکی کو مارنے والے وکیل کا اردگرد کھڑے لوگوں کو منہ توڑ دینا چاہیے تھا۔ نہیں بھائی یہ اکیسویں صدی ہے اور یہ بھی انصاف نہیں ہے۔ ایک بزرگ سکول ٹیچر کو ہتھکڑیاں لگا کر کھڑا رکھا گیا ہے اور فوجی جرنیل کی خواہش پر وزیراعلی بننے والی خاتون اسکے منہ پر جوتے مارنے کی خواہش کا اظہار کررہی ہے۔
یہ سب پولیس مقابلے ، یہ جوتے مارنے کی خواہش یہ تھپڑ کے جواب میں تھپڑ ؟ یہ “ فوری انصاف “ یہ سب کیا ہے؟ یہ آپ اور ہم جیسے ذہنی بیماروں سے داد سیمٹی جارہی ہے۔ یہ اس یتیم یہو معاشرے کی حالت زار ہے جہاں انصاف ، قانون ، سسٹم اور ٹرائل کے نام پر یہی سب کچھ بچا ہے۔المیہ در المیہ کہ ہم سب جذبات کی رو میں بہہ کر کبھی نا کبھی ایسی سوچ کی داد دے بیٹھتے ہیں۔ اور چونکہ ہماری جو پست حالت معاشی ، سیاسی اور معاشرتی ہے وہی ذہنی بھی ہے۔
دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں ایسا “ فوری انصاف” نہیں ہوتا۔ لوگوں کو پولیس سے لیکر عدالت تک ہر چیز پر اعتماد ہے۔ کسی دوسرے کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ سزا الگ ہوگی چوٹ سے لیکر “ نفسیاتی ٹراما “ کا بھی ہرجانہ الگ دینا پڑے گا۔ یہ پولیس مقابلے ، یہ فوری انصاف یہ ذہنی مریضوں کے معاشرے میں ایسی واہ واہ صرف دنیا کے بدترین اور ناکام ترین معاشروں میں ہے۔
🇵🇰 Imran Khan’s sons haven’t spoken to their father in over six months... and now all three of his sisters are behind bars too
It used to be one phone call every three months, and now there’s nothing, with nobody laying eyes on him in two months.
Qasim Khan and Sulaiman Khan say even a Supreme Court order for a private hospital only got him a trip to a government one and straight back to his cell:
“Pakistan are now going against Supreme Court orders to keep him in isolation.”
If a former prime minister’s sisters can land in a cell, nobody in Pakistan is out of reach.
@Kasim_Khan_1999
تحریک انصاف اگر دہشتگردوں کی ہمدرد تھی تو دہشتگردوں نے اس پولیس افسر کو کیوں شہید کیا جس نے تحریک انصاف کے خلاف ظلم سے انکار کیا؟
فوج اگر دہشتگردوں کے خلاف ہے تو آرمی چیف پختونخواہ میں ہونے کے باوجود ڈی ایس پی کا جنازہ پڑھنے کیوں نہیں گیا؟
یہ عمران خان کو قتل کرنے جا رہے ہیں ہم اس وقت عمران خان کو ان کی جانب سے قتل کرنے کی کوششوں کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا امکان تھا تب ہمارے تک اطلاعات تھیں کہ یہ اس احتجاج کو عمران خان کو قتل کرنے کے لیے استعمال کریں گے، بلکل واضح ہے کہ عاصم منیر اب عمران خان کو مردہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ قاسم خان
جنیوا پریس کلب میں شہید ارشد شریف ہیومن رائیٹس ایوارڈ کا اعلان کر دیا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت۔
اگلے سال سے شہید ارشد شریف ہیومن رائیٹس ایوارڈ انسانی حقوق کے لیے خدمات سر انجام دینے والے پاکستانیوں کو ہر سال دیا جائے گا۔
نواز شریف کی منہ بولی بیٹی بھی اب دنیا کو انڈیپینڈینٹ صحافت سکھائیں گی۔ سوشل میڈیا نے ان کا لبادہ اتار دیا۔ انکے چہرے پر سے مکر فریب اتار دیا۔ اب یہ تڑپ رہیں ہیں۔ زخمی سانپ کی طرح۔ سمجھ نہیں آ رہی کسی کو کاٹیں۔ جس کو مرضی کاٹیں۔ آپ کا لبادہ اتر چکا۔ اب ساری دنیا آپ کو جان چکی
🇵🇰 Imran Khan’s sons say Pakistan’s government wants their father DEAD... and he fears ending up like Egypt’s Mohamed Morsi
Three years of pressure never broke him into a deal that would end his political career, so the plan now, as Qasim Khan and Sulaiman Khan see it, is to make him vanish from public life, and they haven’t forgotten the bullets fired at him before he was ever jailed:
“It’s very clear they want him dead.”
If Islamabad wants to put those fears to rest, the fastest way is opening that cell to his family and independent doctors.
@Kasim_Khan_1999
عجیب زندگی پائی ہے اس شخص نے میں نے جب سے اسے دیکھا ہے، ایک ہی اصول پر کھڑا پایا ہے،بھلا ہو عاصمہ شیرازی صاحبہ کا، جنہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ شخص تو مقبول بیانیے کے پیچھے کھڑا ہے
عجیب سرپھرا شخص ہے، راحیل شریف کو برا بھلا کہتا تھا، ظہیرالاسلام کو کوستا تھا، فیض حمید اور جنرل باجوہ پر سوال اٹھاتا تھا،جمیل فاروقی، ابراہیم سمیع، اوریا مقبول جان اور ہارون الرشید کی صحافت پر برستا تھا، ہمیں اس کی یہ باتیں بہت بری لگتی تھی ،ہم بھی تب عاصمہ شیرازی صاحبہ کی طرح اس کے مقبول بیانیے سے نفرت کرتے تھے، ہمیں بھی غیر مقبول بیانیہ بہت پسند تھا، فرق صرف اتنا تھا کہ اس وقت عاصمہ شیرازی صاحبہ شریف خاندان کے قدموں پر قدم رکھتے ہوئے اسی مقبول بیانیے سے عشق فرما رہی تھیں
پھر وقت بدلا، حالات بدلے، اقتدار کے چہرے بدلے اور بیانیوں کے رخ بھی بدل گئے، عاصمہ شیرازی صاحبہ نے بھی حالات کی نزاکت کو سمجھا اور عوام میں مقبول بیانیے کو چھوڑ کر اس بیانیے کا انتخاب کر لیا جس میں جرنیلوں پر تنقید گناہ اور ان کے سامنے سر جھکانا دانش مندی قرار پایا، ایسا بیانیہ جس سے چینل پر بیس تیس لاکھ کی نوکری بھی محفوظ رہتی ہے اور شریف خاندان کی نظروں میں وفاداری کا بھرم بھی قائم رہتا ہے
لیکن یہ سرپھرا آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں کل کھڑا تھا
آج بھی اسی بیانیے کا پرچار کرتا ہے جس سے طاقتور جرنیل ناراض ہوتے ہیں، جس کی قیمت حوالات کی صورت میں چکانی پڑ سکتی ہے، جس کے لیے چینل کی لاکھوں روپے کی نوکری قربان کرنا پڑتی ہے اور ملک کے سب سے طاقتور مافیا سے ٹکر مول لینی پڑتی ہے
اس ضدی شخص کو کوئی سمجھائے کہ اصول بھی کوئی چیز ہوتے ہیں جنہیں حالات، اقتدار اور شریف خاندان کی سیاسی ضرورتوں کے مطابق بدلنا پڑتا ہے
اسے کوئی بتائے کہ مشرف کی آمریت کو برا کہنا ہے لیکن عاصم منیر کے آمرانہ طرزِ عمل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے اسے کوئی سمجھائے کہ جنرل باجوہ اگر 2022 تک برا تھا تو اس کے بعد شریف خاندان نے بیانیے کی سمت بدل کر اسے اچھا قرار دے دیا، اب ہم کون ہوتے ہیں اسے برا کہنے والے؟
آخر کس جرنیل کو آمر کہنا ہے، کس کی آمریت کو وقت کی ضرورت قرار دینا ہے کس کے خلاف آواز اٹھانی ہے اور کس کے سامنے خاموشی اختیار کرنی ہے، یہ فیصلہ ہمارے اصول نہیں بلکہ شریف خاندان کی سیاسی ضرورتیں کریں گی
لیکن یہ سرپھرا شخص ہے کہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں، کل بھی آمریت کے خلاف تھا، آج بھی آمریت کے خلاف ہے کل بھی طاقتوروں سے سوال کرتا تھا، آج بھی طاقتوروں سے سوال کرتا ہے
اسے کوئی سمجھائے کہ ہمارے ہاں اصولوں پر قائم رہنے والے کو صحافی نہیں، مقبول بیانیے کا پیروکار کہا جاتا ہے اور شریف خاندان کی خواہشوں کے ساتھ اصول بدلنے والے کو غیر جانب دار صحافت کا علمبردار
کیونکہ یہاں مسئلہ آمریت سے نہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ شریف خاندان آمر کے خلاف کھڑا ہے یا حق میں
قاسم خان کا BBC پر انکشاف 🚨
ہمیں دو بار خبر ملی تھی کہ آپ کے والد جیل میں وفات پا چکے ہیں، اس وقت میرے والد کی زندگی کو خطرہ ہے اور ہم اس سے بہت پریشان ہیں
#FreeImranKhanAndFamily
Excellent storytelling by Shaun Pollock on team meetings and how it doesn't always help... Perhaps why MS Dhoni didn't believe much in them and at max had a minute or so before games!
Also, notice the quality of commentary here compared to what Indians are fed with! 🙏@abcsport