Frontend, backend, and everything in between • Life • Building projects in public
Learning AI, Web Dev & AI development
Sharing code, lessons & experiments
ہماری بیٹیوں کی اصل پہچان ان کا ہنر، اعلیٰ تعلیم اور کامیابیاں ہونی چاہییں۔ سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے انہیں اپنے خواب پورے کرنے کے مواقع دیں تاکہ آنے والی نسلیں باوقار اور خود مختار زندگی گزار سکیں۔
اخترمینگل کو وزیر اعظم عمران خان اور پی ڈی ایم حکومت سے اربوں کے فنڈز ملے ہیں،وہ فنڈز کہاں ہیں؟وڈھ کی قسمت تو آج بھی نہیں بدلی،وڈھ میں آج بھی نوجوان بیروزگار ہیں۔
سڑکیں تباہ ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے چیلنج کیا ہے کہ بیکر اور وڈھ کا موازنہ کرلیں،اخترمینگل بھی وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور اِن کے والد بھی وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔
کیا اخترمینگل اربوں کے سرکاری فنڈز کا حساب دیں گے؟ کیا سرفراز بگٹی کا چیلنج قبول کیا جائے گا؟
بلوچ خواتین کا پیغام؛ اپنے بچوں کو احتجاج اور دھرنوں کا حصہ بنانے کے بجائے تعلیم دیں، ان کے خوابوں کو پورا کرنے کا موقع دیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ہماری بیٹیاں پہچانی جائیں تو اپنی تعلیم، ہنر اور کامیابی سے، اور آنے والی نسل کا مستقبل علم، شعور اور خوشحالی سے روشن ہو۔
نشہ کی لت،پیسے یا کسی اور بہکاوے میں آکر پہاڑوں پر جاکر ہتھیار اٹھانے والوں کی زندگی بدترین ہوجاتی ہے۔
کیوں کہ بی ایل اے واپسی کا راستہ نہیں چھوڑتی اور والدین،ماں،بہن بھائی سب لاتعلق ہوجاتے ہیں۔
یہ خضدار کا وہ علاقہ ہے جہاں آج بھی اگر کوئی بیمار ہوجائے تو اس کو ہسپتال تک لے جانے کے لیے ایک ایمبولینس نہیں ملے گی، لیکن نواب اور سردار صاحب کے پروٹوکول کے لیے کروڑوں مالیت کی گاڑیاں موجود ہیں۔
یہی طبقاتی نظام ہے
یہی سرداری نظام ہے
یہ نوشکی کے کلی قاضی آباد کی ایک گلی ہے،جسے مقامی نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سجایا ہے،سنوارا ہے۔
بلوچ نوجوانوں میں احساس ذاری بڑھ رہا ہے،وہ پیغام دے رہے ہیں کہ بی ایل اے نہیں ہمارا مستقبل سنوارے گا۔
اس گلی سے گزرنے والا ہر شخص چند لمحوں کے لیے ٹھہر کر یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی یہ نوشکی کا کلی قاضی آباد ہے؟
بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقے منجھو شوریٰ میں بی ایل اے کے کارندوں نے مبینہ طور پر بجلی کے ٹرانسمیشن ٹاور کو نقصان پہنچا کر قریبی علاقوں کی بجلی کی فراہمی متاثر کر دی ہے۔
سوال یہ ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر بنیادی سہولیات کو تباہ کرنا کون سی جدوجہد ہے؟ جن علاقوں میں شہریوں کو پہلے ہی بجلی، پانی اور گیس جیسی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے، وہاں موجود انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا عوام کے حقوق کی جنگ نہیں بلکہ انہی حقوق پر ڈاکا ہے۔
22 سالہ تھلیسیمیا مریض کی چیف منسٹر بلوچستان سے گزارش!
تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے کوئٹہ میں قائم تھیلیسیمیا سٹی سینٹر امید اور زندگی کی نئی کرن بن رہا ہے. یہاں مریضوں کو کون سی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومتِ بلوچستان نے صحت کے شعبے میں کیا اقدامات کیے ہیں؟
جانیئے وائس آف بلوچستان کی خصوصی ویڈیو میں ۔
یہ حقوق کی جنگ ہرگز نہیں ہے، یہ بی ایل اے کے پیٹ کی جنگ ہے،جن کے پاس 20 ہزار نہیں ہوتے تھے آج بیس بیس لاکھ ان کی جیب میں ہوتے ہیں،اِس میں بی ایل اے کے سہولت کار بھی ہیں اور وہ لوگ بھی جنہیں پیسے کی لت لگ چکی ہے۔
آج بی ایل اے کی بھاری فنڈنگ ختم ہو،دوسرے دن بی ایل اے کہیں نظر نہیں آئے گی
سردار کہتا ہے کہ معدنیات پر ہمارا حق ہے جبکہ ریاست کا موقف ہے کہ معدنیات پر صرف بلوچ عوام کا حق ہے۔
مری قبیلے کے سربراہ نواب مہراللہ نے یہی معدنیات انگریز افسر سنڈیمن کو پانچ سو ماہانہ الاؤنس کےعوض معدنیات لکھ کر دیدی تھیں۔
جو کل تک صوبے کی معدنیات چند سکوں کے عوض انگریزوں کو بیچتے رہے وہ آج کس منہ سے معدنیات کے وارث بنے بیٹھے ہیں؟