جرنیلوں کے ڈرامے چیک کریں
پشاور اسمبلی کے سامنے سہیل آفریدی کے خلاف احتجاج کے لیے بیس پچیس لوگ اکٹھے کیے ان کو یہ بھی نہیں پتا کہ احتجاج صوبائی حکومت کے خلاف کرنا ہے یا حق میں
کچھ کہہ رہے ہیں صوبائی حکومت زندہ باد اور کچھ کہہ رہے ہیں مردہ باد
ایسے ڈرواموں سے کام نہیں چلے گا، اگر ہمت ہے تو لگاو ایمرجنسی لگاؤ گورنر راج
ان کا باپ بھی یہ نہیں کر سکے گا
مذاکرات کے دوران بتایا گیا کہ عمران خان کا بلڈ پریشر 4 سے 5 ہفتے قبل بہت بڑھ گیا تھا جس کے باعث لندن سے ڈاکٹر کو بلایا گیا جس کی ادویات سے بلڈ پریشر کنٹرول ہوا۔
سلمان اکرم راجہ
ذوالفقار علی بھٹو بہت بڑے لیڈر تھے مگر ان کے ساتھی برے تھے۔ جیسے ان کے دور میں پنجاب کے وزیراعلیٰ حنیف رامے نے صوبے کے 16 اضلاع میں سے 11 میں اپنی برداری "آرائیں" کے ڈی سی لگائے ہوئے تھے۔
لگتا ایسے ہے کہ مراد سعید نے سہیل آفریدی کے ذریعے جرنیلوں کی چال ناکام بنا دی۔
فوج نے آپریشن ویسے ہی کرنا تھا اور یہ پی ٹی آئی کی حکومت کے ہوتے ہوئے کرتے تو پی ٹی آئی کی مقبولیت میں شدید کمی آ جاتی۔ یہ ملک کے لئے تو نقصان دہ عمل ہوتا لیکن فیلڈ مارشل صاحب کے لئے وقتی طور پر نہایت اچھا شگون ہوتا۔
پھر یہ اپنی مرضی سے مردہ پی ٹی آئی کو توڑ مروڑ کے KP میں استعمال کرتے، اس ساری چال کو پی ٹی آئی کی جسمانی اور دماغی ضعیف لیڈرشپ یا تو سمجھی نہیں یا اس سوچ کو ہمت کی کمی کی وجہ سے دبا دیا۔ بالکل ایسے ہی جیسے ان کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو محسن نقوی نے ان لیڈروں کی تعریف کرنے کے بعد سیاسی گالیاں دیں اور اس کا دفاع کرنے کے لئے پی ٹی آئی میں کوئی سامنے نہیں آیا۔ اس میں بزدلی کا عنصر زیادہ ہے۔
ایک بات واضح ہے کہ یہ امیچور لڑکے نے ساری سویلین اور عسکری بابوں کو پریشان کر دیا ہے اور 26 نومبر کی سیاہ رات کے بعد پہلی بار فیلڈ مارشل کے پسینے نکال دیے، ساٹھ ہزار اہلکار 4 ہزار سے زیادہ کنٹینر، یہاں تک کہ مری ہوئی معیشت کو اربوں کا نقصان کھانے کو تیار ہو گئے۔
اس سب کو بھانپ کے مراد سعید نے پہلے ہی ماسٹر سٹروک کھیل دیا ہے اور لانگ مارچ کا اعلان کر کےاپنے آپ کو آپریشن سے علیحدہ کر دیا ہے،جس چال نے فیلڈ مارشل کو مورچوں سے باہر نکل کر کاروائیاں کرنے پر مجبور کر دیا، جس سے فیلڈ مارشل کے اثاثے بےدریغ استعمال ہو رہے ہیں مثلاً علی امین، علی محمد خان وغیرہ وغیرہ(اس ذمن میں یاد رہے کہ میجرجرنل فیصل نصیر والی لاٹ یتیمی کے دُکھ سے ابھی نہیں نکلی مثلاً حافظ فرحت ، فیصل واؤڈا وغیرہ وغیرہ)، KP انتظامیہ کا دفع144 لگانا بھی عام لوگوں کے دل و دماغ میں فوجی آپریشن سے PTI کو علیحدہ کرتا ہے۔اب اگر فیلڈ مارشل آپریشن کرے تو مسئلہ نہ کرے تو مسئلہ ،ابھی جب پریشر اور بڑھے گا تو باقی اثاثے بھی جھونکے جائیں گے۔کاغذوں میں فیلڈ مارشل نہایت مضبوط ہیں جس کی مثال ایسے ہی ہے کہ پاکستان میں میں 3/4 تین چوتھائی اکثریت سے بِل پاس کردیا جائے کہ ۱۰۰ فیصد آبادی کھانا کھا کے سوتی ہے۔زمینی حقائق ترمیموں اور بلوں سے تبدیل نہیں ہوتے۔
نوٹ: بین الاقوامی مسائل کی فہرست علیحدہ ہے
یہ دسمبر 2019 کی ویڈیوز ہیں
میاں صاب اور مریم نواز صاحبہ کیلئے compassion کی بات تب کی تھی،
پھر اُن کو عمران خان صاب کی حکومت سےریلیف بھی ملا۔
حالت یہ ہےکہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو لندن نہیں، شفا شفٹ کرنےکا کہا، تو موجودہ حکومت نے ناں کر دی۔
شرم کریں۔
مریم نواز! آپ کی پیرا فورس نے پنجاب میں کسی سفید پوش شہری کو نہیں چھوڑا، کسی کی عزتِ نفس محفوظ نہیں رہی، حتیٰ کہ سفید داڑھی والوں کی داڑھی کی حرمت تک پامال ہونے سے نہ بچ سکی۔
میں نکلیں گا میرے ساتھ میری بیٹیاں ہونگی، ہم کوئی جنگجو نہیں ہونگے، ہم ہاتھوں میں پھول لے کہ نکلیں گے، ہم اس ملک میں عزت کی بحالی کے لیے نکلیں گے، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ
@salmanAraja
“اسٹیبلشمنٹ کا کارندہ ٹی وی پر بیٹھ کر کہتا ہے کہ میں ناسمجھ ہوں، اگر اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ناسمجھی ہے تو میں یہ ناسمجھی بار بار کروں گا”۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا لانگ مارچ سے خطاب
حکومتی مذاکراتی ٹیم نے پی ٹی آئی ٹیم کے سامنے تسلیم کیا کہ عمران کا بلڈ پریشر کنٹرول سے باہر تھا اور لندن سے ہنگامی بنیادوں پر ڈاکٹرز بلائے گئے جب یہ خبر پی ٹی آئی مزکراتی ٹیم کو ملی تو اسی وقت کہرام بپا ہونا چاہیے تھا مگر پی ٹی آئی ٹیم خاموش رہی