نہیں ہے جس کے مقدر میں تیری ذات کا عشق
اسے پتہ نہیں کیا ہے عجائبات کا عشق
مرے حسین سے دارین عشق کرتے ہیں
حسین ہی ہے حقیقت میں شش جہات کا عشق
اسی حسین سے مجھ کو بھی عشق ہے عبدل
وہی حسین جو ہے ربِ کائنات کا عشق
رانا عبدالرب
پیکرِ مہر و وفا روحِ غزل یعنی توٗ
مِل گیا عشق کو اِک حُسن محل یعنی توٗ
شہرِ خوباں میں کہاں سہل تھا دل پر قابوٗ
مضطرب دل کو ملا صبر کا پھل یعنی توٗ
افتخار راغب
جب کھونے کی عادت سی پڑ جائے نا تو پھر چیزوں کے کھو جانے ، یادوں کے مٹ جانے اور لوگوں کے چلے جانے سے اتنی تکلیف نہیں ہوتی ، پھر دستبردار ہونا اتنا مشکل نہیں ہوتا....