گھر کے باہر سے 32 گھنٹوں پہلے اغوا ہونے والے ڈھائی سالہ اذان کو موٹر سائیکل سوار بیٹھا کر لے گیا، والدہ نے سخی حسن تک جاکر خود سی سی ٹی وی نکلوائی اور پولیس کو فراہم کی۔ والدہ نے وزرائے اعلی چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل کی جبکہ سماجی رہنما ظفر عباس نے اعلان کیا ہے کہ بچے کو تلاش کرنے والے کو 20 لاکھ روپے انعام دیں گے
کویت میں یہ سب امریکی اڈوں کی وجہ سے ہو رہا ہے اب کویت میں بھی عوامی مطالبات اٹھ رہے ہیں کہ امریکی اڈوں کو ہٹایا جائے جنہوں نے پورے خطے کو تباہی اور بربادی سے دوچار کیا۔ایران نے اپنی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے مشرق وسطٰی کی عوام کو اپنی حکومتوں کے خلاف اُٹھنے پر مجبور کر دیا ہے
ماں کے انتقال کے بعد نویں جماعت کی طالبہ ننھے بھائی کو گود میں لیے سو گئی، جذباتی مناظر
اللہ پاک اسکی ماں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین
ریفری کی وسل بجتی ہے اور اعلان ہوتا ہے کہ اسپین فٹبال کا عالمی چیمپئن بن گیا۔
پورا اسٹیڈیم جشن میں ڈوب جاتا ہے، اسپین کے کھلاڑی خوشی سے جھوم رہے تھے...
مگر اسی شور میں ایک منظر ایسا تھا جس نے دل جیت لیا کیونکہ کیمرے اُسی کھلاڑی کو تو ڈھونڈ رہے تھے۔
لامین یمال گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے، سر جھکا کر اپنے رب کا شکر ادا کرنے لگے۔
یہی ایک سچے مسلمان کی پہچان ہے کہ کامیابی کا پہلا سہرا اپنے رب کے سر باندھتا ہے،
ورلڈ کپ جیتنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے، لیکن اس خواب کی تعبیر ملنے کے بعد بھی اگر زبان پر شکر اور دل میں اللہ کی یاد ہو، تو یہی اصل کامیابی ہے۔
یہ بنگلہ دیشی خاتون کیڈٹ ہیں جو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں زیر تربیت ہیں۔ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر کہتی ہیں۔
پی ایم اے میں، ہر کوئی بہت دوستانہ، مددگار اور متاثر کن ہے، وہ بیان کرتی ہے۔
🇵🇰 ❤️ 🇧🇩
🌹 اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ 🌹
🇵🇰 صبح بخیر ہم سب کا پیارا پاکستان 🇵🇰
🌴 *اللہ تعالی ہمیں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور دونوں جہانوں میں کامیاب فرماۓ*
🌴 *اللہ کریم ہمیں زندگی وہ عطا فرماۓ جو ہمارے لیے بہتر ہو اور ہمیں اپنی ناراضگی سے محفوظ فرمائے*
🌴 *رب ذوالجلال ہم سب کو سکون قلب عطا فرمائے گناہوں سے بیزاری اور عبادات میں دلجوئی عطاء فرمائے*
🌴 *رب کریم ہمیں شیاطین کی شر، حاسدین کی حسد ،منافقین کی منافقت اور مکر و فریب کرنے والوں سے محفوظ فرمائے*
🌴 *اللہ کریم ہمارے والدین سمیت تمام عزیز اقارب اور جملہ مسلمین جو دنیا سے رخصت فرما گئے ان سب کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے*
*🤲آمين یا رب العالمین🤲*
گزشتہ 100 گھنٹے میں سیاسی منظر نامے میں غیر متوقع اور تیز ترین تبدیلی کا پہلا اثر پرائم منسٹر ہاوس پر پڑے گا
اب شاید نہ پہلے کی طرح ڈکٹیشن آئے گی اور نہ ہی آنکھیں بند کرکے اسے قبول کیا جائے گا
کابینہ میں تبدیلی سے گیج اور ٹیمپو کا اندازہ ہو جائے گا!
لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری کی شخصیت میں وقار، متانت اور پیشہ ورانہ سنجیدگی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ خاموش مزاج مگر پُرعزم قیادت ہی بڑے سپہ سالاروں کی پہچان ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں وطنِ عزیز کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ 🇵🇰
سبحان اللہ💞
لاہور کی 10 سالہ ننھی حافظہ فشفا نے اپنی محنت، لگن اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے صرف 4 ماہ میں قرآنِ کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کر لی۔
فشفا روزانہ رات 10 بجے سوتی اور صبح 4 بجے بیدار ہو کر تہجد ادا کرنے کے بعد حفظِ قرآن کا آغاز کرتی تھی۔ اس کی سب سے بڑی ترغیب اس کی بڑی بہن تھی، جس نے 7 ماہ میں قرآنِ کریم حفظ کیا تھا۔ فشفا نے عزم کیا کہ وہ اس سے بھی کم وقت میں یہ منزل حاصل کرے گی، اور اللہ کے کرم سے اپنے ارادے میں کامیاب رہی۔
فشفا نہ صرف حافظۂ قرآن ہے بلکہ تہجد کی بھی پابند ہے۔ اس سے قبل اس کے ایک بھائی اور ایک بہن بھی حافظِ قرآن بن چکے ہیں، جبکہ خاندان کے چوتھے بچے کی حفظِ قرآن کی تعلیم بھی جاری ہے۔
ان کی والدہ خود قرآنِ کریم کی معلمہ ہیں اور ایک مدرسہ بھی چلا رہی ہیں۔ گھر کا دینی ماحول، بہترین تربیت اور مسلسل محنت ہی بچوں کی اس شاندار کامیابی کی بنیاد ہے۔ تمام بہن بھائی ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں اور پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرتے ہیں۔
قرآنِ کریم حفظ کرنے والی یہ باہمت بچی مستقبل میں جج بن کر اپنے ملک کی خدمت کرنے کا خواب رکھتی ہے۔
ضلع صوابی کے رہنے والے ریسکیو 1122 کے میڈیکل ٹیکنیشن کامران خان جب اپنے گاؤں جا رہے تھے، تو انہوں نے راستے میں ایک نہر کے پاس دل دہلا دینے والا منظر دیکھا۔ ایک تین سال کا معصوم بچہ نہر میں ڈوب گیا تھا اور اس کے گھر والے اسے مرا ہوا سمجھ کر رو رہے تھے۔
ایسے میں کامران نے فوراً اپنی ڈیوٹی کا فرض نبھایا اور بچے کو مصنوعی سانس (سی پی آر) دینا شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر کی کوشش کے بعد بچے کی سانسیں واپس آ گئیں اور اس کی جان بچ گئی
شیخوپورہ میں گلستان تھیٹر میں دوران ڈرامہ اداکارہ کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم راجہ زین کو گرفتار کرلیا گیا ہے،اس واقعے کی تفتیش جاری ہے،ملزم کے خلاف کاروائی قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے گی،تھیٹرز میں اداکاروں کو سیکیورٹی فراہم کرنا تحفظ دینا تھیٹر مالکان کی ذمہ داری ہے۔ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں۔کسی کو خواتین کی تضحیک کرنے اور بدسلوکی کی اجازت نہیں دی جائے گی،ملزم نے ضمانت قبل از گرفتاری کروالی ہے۔ملزم راجہ زین کی ضمانت منسوخی کے لیے قانونی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
اسما بنت ابوبکر
زیر نظر تصویر اسما بنت ابو بکر کی قبر مبارک کی ہے - یہ ہستی کون ہیں - ہم کیوں انہیں بھول چکے ہیں - ہم گو کہ انہیں بھول چکے ہیں لیکن اگر انکی یادوں کو تازہ کریں تو یقینا'' ہماری آنکھوں سے چند قطرے ضرور گر جائیں گے اور ہم سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ ہم مکّہ مکرمہ جانے کے باوجود کیوں ان کی قبر کی زیارت سے محروم رہتے ہیں یا زیارت کی جستجو ہی نہیں کرتے - ہم نے انہیں کیوں فراموش کر دیا ہے -
صحیح بخاری 5 جلد کے مطابق،" زات النطاقین " حضرت اسما جو سیدنا ابو بکر صدیق کی بیٹی تھیں ، کا لقب تھا - ہجرت نبی صلی الله علیہ وسلم کے موقع پر آپ نے کھانا تیار کیا تھا اور اس موقع پر اپ نے رازداری سے کھانا نبی پاک صلی الله علیہ وسلم اور اپنے والد سیدنا ابو بکر صدیق تک پہنچانے کے لیے ایک خاص طریقہ اختیار کیا جس کو دیکھ کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم اتنے خوش ہوے کہ آپ نے انھیں " زات النطاقین " کا لقب دیا یعنی دو بیلٹوں ( دو پٹوں ) والی -
انھوں نے جو طریقہ اختیار کیا وہ یہ تھا کہ انھوں اپنی کمر کی بیلٹ کو دو حصوں میں منقسم کردیا اور کھانے کے ڈبوں یا برتنوں کو اس سے باندھ کر رازداری سے کھانا نبی پاک صلی الله علیہ وسلم اور اپنے والد سیدنا ابو بکر صدیق تک پہنچایا - " زات النطاقین " کے معنی ہیں
"دو بیلٹوں کے مالکہ
سیدہ اسما (ر - ض) بہت نیک خاتون تھیں. ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھیں - اپ دین اسلام کے اٹھارویں ہستی تھیں جنھوں نے اسلام کو گلے لگایا - آپکی والدہ مسلمان نہ ہوئیں لیکن آپ نے اپنے والد کا ساتھ دیا اور مشرف بہ اسلام ہوئیں - آپ امان سیدہ عائشہ ( ر ض ) کے بڑی بہن تھیں -
آپکے والد سیدنا ابو بکر صدیق ( ر ض ) اور آپکے خاوند سیدنا زبیر بن عوام دونوں عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں - یہ اعزاز کسی اور کو حاصل نہیں
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہجرت کے بعد آپ بھی مدینہ ہجرت کر گیئں - سو سال کے عمر پائی -آخری ایام میں مکّہ آگیئں - اس زمانے میں بہت دلگداز واقعیات کا سامنا کیا -
عبداللہ بن زبیر آپ ہی کے صاحبزادے تھے۔ جنہوں نے یزید کی بیعت سے انکار کرکے سات برس تک اپنی حکومت قائم رکھی۔ عبدالملک کے زمانے میں جب حجاج بن یوسف نے مکہ کامحاصرہ کر لیا اور تنگ آکر بہت سے لوگ بھی حضرت زیبر کا ساتھ چھوڑ گئے تو آپ نے اپنی والدہ حضرت اسما سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے؟
انھوں نے فرمایا کہ بیٹا اگر تجھے یقین ہے کہ تو حق پر ہے تو میں خوش ہوں گی کہ تو راہ حق میں لڑتا ہوا شہید ہو جائے۔ لیکن اگر دنیاوی جاہ طلبی کے لیے لڑ رہا ہے تو تجھ سے برا کوئی نہیں۔ ماں کی یہ بات سن کر ابن زبیر مردانہ وار لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ حجاج نے تین دن تک ان کی لاش کو سول پر لٹکائے رکھا۔ تیسرے دن حضرت اسماء اس طرف سے گزریں اور سولی پر بیٹے کی لٹکتی ہوئی لاش دیکھ کر فرمایا (ابھی اس شہسوار کے اترنے کا وقت نہیں آیا۔) بیٹے کی موت کے تھوڑے دنوں بعد تقریباً سو سال کی عمر میں جمادی الاول 73 ہجری میں انتقال ہوا۔ ان سے ساٹھ کے قریب حدیثیں مروی ہیں۔ مکّہ کے مقدس قبرستان جنت المعلیٰ میں مدفون ہیں - زیر نظر تصویر ان ہی قبر مبارک ہے -
نہ جانے کیوں ہم آج کے مسلمان اس عظیم ہستی کو فراموش کر بیٹھے ہیں .
کل رات میں شاہ رسال روڈ بیرون حرم گیٹ کے ایک تندور سے روٹیاں لینے گیا . شدید گرمی اور حبس کے موسم میں تندور پر ایک نو دس سال کی دبلی پتلی اور پُر اعتماد سی لڑکی سر پر دوپٹہ اوڑھے آٹا گوندھنے میں مصروف تھی ۔ اس کے بعد اسی لڑکی نے پیڑے بھی بنانا شروع کیے۔ میں نے تندور کے مالک سے (جو روٹیاں لگا رہا تھا ) کہا، آپ کے پاس پہلے ایک آدمی یہ کام کرتا تھا اب آپ نے یہ لڑکی کھڑی کر دی ہے ۔ یہ بھلا بہت چھوٹی نہیں ہے اور یہ تو اس کی پڑھنے کی عمر ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ آدمی اسے بہت مہنگا پڑتا تھا ۔ میں اس کی دیہاڑی برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔ اور وہ ویسے بھی دل سے کام کرتا ہی نہیں تھا اور وہ آٹا بھی بہت سارا ضائع کر دیتا تھا ۔
اب یہ میری بیٹی ہے اور اسے ان دنوں اسکول سے گرمیوں کی چھٹیاں ہیں۔ یہ بہت دل سے کام کرتی ہے ۔ اسے میرا احساس گھر کی چار دیواری سے یہاں کھینچ لایا ہے۔ یہ اپنے باپ کی یعنی میری دیوانی ہے۔ میرے منع کرنے کے باوجود یہ روزانہ زبردستی یہاں چلی آتی ہے ۔ اس لیے اس کے بے حد اصرار پر اسے کام پر لگا دیا ہے ۔ یہ پہلے والے آدمی سے زیادہ اچھے انداز میں کام کرتی ہے ۔ آٹا بھی ضائع نہیں کرتی اور مجھے کسی کام کے لیے بار بار اسے کہنا نہیں پڑتا۔ میرے اشاروں کو سمجھتی اور اسی کے مطابق کام کرتی ہے ۔ ویسے بھی یہ میری لاڈلی بیٹی ہے اور میرا بہت زیادہ احساس بھی کرتی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ باپ کا سب سے زیادہ احساس بیٹیوں کو ہی ہوتا ہے ۔ اور بیٹیاں خدا وند قدوس پیدا ہی ماں باپ کی خوشی اور سکون کے لیے کرتا ہے۔۔
#آفاق_سومرو
2018 سے قبل سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید نے براہِ راست رابطہ کرکے میرے والد کو مسلم لیگ (ن) چھوڑنے، فارورڈ بلاک بنانے اور وزارتِ اعلیٰ کی پیشکش کی تھی۔ لیکن میرے والد نے نواز شریف سے وفاداری برقرار رکھتے ہوئے یہ پیشکش مسترد کر دی، جس کے نتیجے میں انہیں 2018 کے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
رکنِ قومی اسمبلی مسلم لیگ (ن)، اسامہ اشفاق سرور
گاما پہلوان کے 6 بیٹے تھے، لیکن سب کے سب بچپن میں ہی انتقال کر گئے۔ چھٹا بیٹا جلال 14 سال کی عمر میں وفات پا گیا۔ اس وقت گاما پہلوان کی عمر تقریباً 65 سال تھی، اور کہا جاتا ہے کہ اس صدمے نے انہیں اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ اس کے علاوہ گاما پہلوان کی 4 بیٹیاں تھیں۔ ان میں سے ہی ایک کی بیٹی یعنی گاما پہلوان کی نواسی محترمہ کلثوم نواز تھیں، جو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی اہلیہ تھیں۔
@RH_views آپ داستاں گوئی اچھی کر لیتے ہیں
شاہد خاقان عباسی کو فون کرکےتصدیق کر لیں کہ 2018 کے جنرل الیکشن میں جنرل ظہیر الاسلام مسلم لیگی امیدواروں کی الیکشن مہم میں چار یونین کونسلز مٹور، بیور ، نارہ اور لہڑی کا انچارج تھا پورا دن کیری ڈبے لوگوں کو اٹھا اٹھا کر جنرل صاحب کے پاس لاتے تھے