I'm either a sister in faith or a friend in humanity . I don’t care to be liked or accepted. RT not endorsement.joined twitter for #ImranKhan#married#mom
کل ضلع کرم میں قیامت خیز دن تھا۔ کئی گھر اُجڑ گئے، چھوٹے بچوں اور خواتین تک کو نہیں بخشا گیا، لیکن پنجاب کے نیوز چینلز پر اس بارے میں ایک پوسٹ تک نہیں لگائی گئی۔ آج اس کے صرف ایک دن بعد آصف غفور کے کتے کی موت ہوئی تو ہیڈ لائن والی خبر بن گئی۔ یہی ہمارے پختونوں کی حیثیت ہے اس ملکِ خداداد میں۔
نیوی کا لیفٹیننٹ طہٰ عباسی جہاز اڑاتے ہوئے ماریجوانا اور نشے کی حالت میں تھا!
ذرائع بتاتے ہیں کہ طحہ منشیات کا عادی تھا، غیر اخلاقی زندگی گزارتا تھا اور اپنی بیوی ڈاکٹر مناہل کو سینئر افسران کے سامنے پیش کر کے مراعات حاصل کرتا تھا۔اس کے بدلے میں اسے ہارڈ ایریا الاؤنس ملتا رہا، یعنی وہ کبھی کسی خطرناک علاقے میں تعینات ہی نہیں ہوا۔ اس کی بیوی ڈاکٹر مناہل کو پنجاب ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں خصوصی سفارش پر مستقل نوکری دلائی گئی جبکہ ہزاروں ڈاکٹر اب بھی کنٹریکٹ پر تڑپ رہے ہیں۔
اور سب سے حیران کن بات...
طحہ کی موت کے بعد اس کی بیوی غمگین ہونے کی بجائے ریلیف محسوس کر رہی ھے! وہ اپنی دوستوں سے کہتی ھے:
"اب مجھے اس سے چھٹکارا مل گیا، میری عزت اور مستقبل محفوظ ہے۔"ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طحہ الکوحل اور ماریجوانا کے نشے میں جہاز اڑاتا تھا، اور یہی وجہ تھی کہ ایک بلکل ٹھیک طیارہ اچانک کریش ہو گیا۔
ایک طرف ملک کا پائلٹ...
دوسری طرف نشے کی لت، بیوی کی "پیشکش" اور مراعات کا کھیل! کیا یہ صرف ایک حادثہ تھا؟ یا کچھ اور بڑا سکینڈل؟
اداروں کو دیمک لگ چکی ھے
بلوچستان میں گھر جلا کر بچوں اور عورتوں کو دربدر کرنا پاکستان کی دہشت گرد فوج کے لیے معمول کا کام ہے
ان وردی والے خنزیروں کے مرنے پر رونا دھونا کرنا یا ان کو شہید کہنا حیوانیت ہے
بلوچستان میں گھر جلا کر بچوں اور عورتوں کو دربدر کرنا پاکستان کی دہشت گرد فوج کے لیے معمول کا کام ہے
ان وردی والے خنزیروں کے مرنے پر رونا دھونا کرنا یا ان کو شہید کہنا حیوانیت ہے
PTI کی لیڈرشپ نے کہا کہ تین سے چھے کر لیں تو ہم دس ہزار لوگ لے آئیں گے پھر انہوں نے کہا کہ تین سے سات کر لیں گرمی بھی گزر جاۓ گی ہم نے کہا ٹھیک ہے
علیمہ ہے
یہ پولیس کی وردیوں میں چھپے کوئی اور لوگ ہیں، ان کا راستہ روکو یہ پیدل نہیں چل سکیں گے کیونکہ یہ میدانی علاقوں کے جانور ہیں
اگر ایک دفعہ ان کا منہ دوسری طرف کر دیا تو یہ پنڈی جا کر ہی رکیں گے واپس نہیں آئیں گے انشاء اللہ
ایڈوکیٹ شمشیر
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
The Afghan refugees who once lived in Girdi Jungle, Chaghai, are gone.
Their homes are empty.
But the dogs they left behind still gather around every passing bus, waiting for food… and perhaps still waiting for the families that never came back.
Today, a bus cleaner shared his bread with them.
Sometimes the most heartbreaking victims of displacement have no voice at all. 💔
#Balochistan #GirdiJungle #AfghanRefugees
اب ہمارا یہ شاہین جنت میں پرواز کرے گا ❤️
جنت کی تمام وسعتوں کو تہہ کرے گا
شہادت بھی کیا دل پھینک شہ ہے ہمیشہ اپنے لیے ہیرا ہی چنتی ہے
یہ معصوم سا چہرہ آنکھوں سے اوجھل تو ہو گیا ہے
مگر جاتے جاتے اپنے دیدار کے آخری لمحات ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا ہے
اللہ تعالیٰ قربانی قبول کرے
🤲🏻
Pakistan saved Iran, Pakistan saved Lebanon, Pakistan saved the Gulf economy, Pakistan brought the oil and gas prices down globally!
GREATEST DAY FOR PAKISTAN🇵🇰
جنرل عاصم منیر کے کیریئر میں مسلسل یہ بات رپورٹ ہوتی رہی کہ وہ ذہنی مریض ہے مگر ان رپورٹوں کے باوجود وہ ترقی کے زینے چڑھتے گئے بطور DGISI یہ ذہنی مریض جب ایران گیا تو اس ذہنی مریض نے ایرانی حکومت کے بارے میں کوئی بکواس کی جس کی شکایت ایرانیوں نے کی تو عمران خان نے اس ذہنی مریض کو عہدے سے ہٹا دیا تھا ! احمد نورانی ۔
یہ ایک پشتون ماں کی لاش ہے، جسے اس قدر مسخ کر دیا گیا کہ اب اسے کفن میں لپیٹ کر بھی دنیا کے سامنے نہیں لایا جا سکتا ہے۔ کل کرم میں ہونے والے ڈرون حملے میں اپنے معصوم بچوں سمیت جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ،
اگر غیرت صرف نعروں، تقریروں اور قصوں کا نام ہے تو پھر اس کی حقیقت کیا ہے؟ اصل غیرت تو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے، حق کی بات کرنے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا نام ہے