🔥 دوہرا معیار اور منافقت عوام کو ہرگز قبول نہیں!
نورین نیازی کو تو فوراً نوٹس بھیج دیا گیا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی قانون اور معیار نواز شریف پر بھی لاگو ہوگا؟ کیا نواز شریف کے بیانات اور اقدامات پر غداری کا مقدمہ بنے گا؟
حقائق کیا ہیں؟
نورین نیازی: ان کا انٹرویو 3 ماہ پرانا ہے، اور انہوں نے اسے شائع یا پبلش کرنے سے واضح طور پر منع کیا تھا، اس کے باوجود اس معاملے پر نوٹس جاری کر دیا گیا۔
نواز شریف: دوسری طرف نواز شریف کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں، لیکن وہاں قانون کی زبان بدل جاتی ہے۔
ایک ہی ملک میں دو الگ قوانین نہیں چل سکتے۔ انصاف کا یکطرفہ استعمال اور یہ کھلا دوہرا معیار عوام کی طرف سے مکمل طور پر ریجیکٹڈ (Rejected) ہے!
اگر آپکو لگتا ہے کہ فضل الرحمان صاحب کی بغاوت اصلی بغاوت ہے اور اس کے پیچھے جنرلز نہیں ہیں تو پھر بد قسمتی سے آپ stunted growth کا شکار ہیں۔ اللہ آپ پر رحم کرے۔
یہ بس ایک نیا جرنیلی پراجیکٹ ہے۔ اور کچھ نہیں۔
نورین نیازی کو نوٹس بھیج دیا ، اب کیا نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ بنے گا؟ یہ دوہرا معیار ہمیشہ نامنظور رہے گا۔ یہ منافقت ریجیکٹڈ ہے عوام کی طرف سے۔
"آج کا دور جنرل مشرف دور سے کہیں زیادہ برا ہے۔
جنرل مشرف دور میں ایسی لاقانونیت کبھی نہیں تھی جیسی آج ہے۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نواز شریف اتنا کرپٹ آدمی نکلے گا" -
سابق ن لیگی سینیٹر ظفر علی شاہ
پاکستان ڈیفالٹ کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کا اصل مجرم یہ شخص ہے جس نے پاکستان پر چوروں کو حکمران بنا کر بٹھایا ہوا ہے اور معیشت ہر پہلو سے تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہے-
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
عمران خان پر جھوٹے الزامات لگانے ہوں تو زبان جتنی منہ سے باہر آ سکتی ہو لے آتے ہیں اور جب علی ڈار کا نام لینا تھا تو آگے پیچھے لفظ خدانخواستہ لگایا ، بیشرم انسان ، گھٹیا ٹاؤٹ
جس کے سر پر نیلے پاسپورٹ والا کھانچہ لگایا اگر اس کیلئے بھی کچھ کر لیتے تو شاید معاف کر دیتے
یہ بلیو پاسپورٹ تو چھوڑیں ایک بلیو ٹک پر بھی بک جانے والے لوگ تھے
پاکستان کی تاریخ کی مقبول ترین سیاسی، سماجی اور کھیلوں کی سب سے بڑی عالمی شخصیت، عمران خان کو اس وقت اڈیالہ جیل کی ایک تنگ اور تاریک 'چکی نما' کال کوٹھڑی میں شدید ترین نامساعد حالات کا سامنا ہے
۔
جیل حکام کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عروج پر ہیں:
بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی: سخت گرمی میں نہ تو اے سی (AC) کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی ٹھنڈے پانی کا کوئی انتظام۔
طبی غفلت: آنکھوں کی بینائی شدید متاثر ہونے کے باوجود مناسب طبی معائنے اور علاج کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مذہبی آزادی پر قدغن: وضو کے لیے صاف پانی کی عدم دستیابی سمیت جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر بھی پابندی عائد ہے۔
جس شخص نے اپنی زندگی ملک کی خدمت، شوکت خانم جیسے اداروں اور عالمی اعزازات کے نام کر دی، وہ اس نوعیت کے انتقامی سلوک کا حقدار ہرگز نہیں تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے کسی سیاسی قیدی کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک نہیں کیا گیا۔
بہت سے صحافی اس وقت ریپ کا شکار ہوئی خواتین کی تصاویر شہیر کر رہے ہیں۔۔ مگر ان لوگوں کی تصویر کوئی نہیں دیکھا رہا جو اس کام میں ملوث تھے۔۔ تو یہ لیں رضا ڈار و دیگر!
عوامی سوال
حلف کا انحراف کرنے والوں کو سزا کب ملے گی؟
نازک دور صرف عوام پر ہی کیوں آتا ہے؟
عوام اور ملک کے خیرخواہ رہنماؤں کو غدار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟
عوام کا ووٹ چوری کرنے کا حق کس نے دیا؟
#عوامی_سوال
عمران خان، وہ نام جو 1992 میں پاکستان کے ہر دل کی دھڑکن بن گیا تھا۔ وہ ہیرو جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور ہمیں وہ ورلڈ کپ جیت کر دیا جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ان کی قیادت، ان کا جذبہ، اور ان کی محنت آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے۔
لیکن آج... وہی چہرہ، وہی ہیرو، حکومت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے چھپایا جا رہا ہے۔ ایک ایسا لیڈر جس نے ملک کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا، اسے آج ایک قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے۔
کیا یہ انصاف ہے؟ کیا ہم اپنے ہیروز کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں؟
یورپ میں گرمی کی لہر آئی تو گورے مرنے شروع ہوگئے۔ صرف سپین میں دو سو سے زائد لوگ مرے ہیں۔ لوگ گھر چھوڑ کر مہنگے ہوٹلوں میں پناہ لے رہے ہیں۔
اور یہ گرمی ویسی نہيں ہے جیسی پاکستان میں ہے۔ پاکستان میں ان مہینوں میں سورج آگ برساتا یے۔ جب آسمان دے آگ برس رہی ہے اور زمین کوئلے کی طرح دھک رہی ہے تو یہ بےگناہ انسان، پاکستان کا سابق وزیراعظم، قومی ہیرو، دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان، ایک تندور نما کوٹھڑی میں قید ہے۔ یہ تیسری گرمیاں ہیں جو اس نے یہاں گذاری ہیں۔
جس ملک میں اتنا ظلم ہو۔ ایسا جبر ہو۔ کبھی اس ملک میں برکت آسکتی ہے؟
دعا کریں ہم پر آللہ کا قہر نازل نہ ہو۔ ہم نے جبر کے سامنے کمزوری اور بزدلی کی انتہا کر دی ہے۔ خاص کر ہماری پڑھے لکھے طبقے نے۔ 😢
عمران خان کی سب سے بڑی طاقت تو اللہ پہ ایمان کے بعد عوامی سپورٹ ہے لیکن ایک طاقت اور بھی ہے اور وہ ہے جرنیلوں کی نا اہلی عمران خان جانتے ہیں کہ جو 78 سال بھرپور اور اندھی عوامی سپورٹ کے باوجود ملک نہیں چلاسکے ان حالات میں تو ناممکن ہے ملک چلاسکیں اسلئے اڈیالہ والے کے بغیر آگے بڑھنا ناممکن ہے