اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں جو ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے ، اور خاص اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرما ۔ بیشک تیری ، اور صرف تیری ذات وہ ہے جو بے انتہا بخشش کی خوگر ہے۔
﴿سورۃ آل عمران،۸﴾
قسم ہے انجیر اور زیتون کی،اور صحرائے سینا کے پہاڑ طور کی،اور اس امن و امان والے شہر کی،کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے،
﴿سورۃ التین ، ۱-۴﴾
اور بیشک تمہارے لئے مویشیوں میں بھی سوچنے سمجھنے کا بڑا سامان ہے۔ اُن کے پیٹ میں جو گوبر اور خون ہے، اُس کے بیچ میں سے ہم تمہیں ایسا صاف ستھرا دُودھ پینے کو دیتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہوتا ہے۔
﴿سورۃ النحل، ۶۶﴾
ایک وقت آئے گا جب یہ کافر لوگ بڑی تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔
(اے پیغمبرﷺ!) انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو کہ یہ خوب کھالیں، مزے اُڑالیں، اور خیالی اُمیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، کیونکہ عنقریب اُنہیں پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیا تھی ۔
﴿سورۃ الحجر، ۲-۳﴾
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر وہ تمہاری روح قبض کرتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو عمر کے سب سے ناکارہ حصے تک پہنچا دیا جاتا ہے، جس میں پہنچ کر وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتا۔ بیشک اللہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے۔
(سورۃالنحل ، ۷۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔
(جامع ترمذی، ۹۶۵)
یہ وہ لوگ ہیں جو اِیمان لائے ہیں، اور جن کے دِل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو کہ صرف اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دِلوں کو اِطمینان نصیب ہوتا ہے۔
﴿سورۃ الرعد، ۲۸﴾
اے ایمان والو ! جب جمعہ کےدن نماز کےلیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارےلیےبہتر ہے،اگر تم سمجھو۔
پھر جب نماز پوری ہوجائےتو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کافضل تلاش کرو،اور اللہ کو کثرت سےیاد کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔
﴿الجمعہ۔۹،۱۰﴾
جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دِین اختیار کرنا چاہے گا، تو اس سے وہ دِین قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جو سخت نقصان اُٹھانے والے ہیں۔
﴿سورۃ آل عمران، ۸۵﴾
لہٰذا اللہ کی تسبیح کرو اُس وقت بھی جب تمہارے پاس شام آتی ہے، اور اُس وقت بھی جب تم پر صبح طلوع ہوتی ہے اور اُسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اُس کی تسبیح کرو) اور اُس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔
﴿سورۃ الروم،۱۷-۱۸﴾
یقینا اللہ ان مؤمنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کررہے تھے، اور ان کے دِلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا، اس لئے اُس نے اُن پر سکینت اُتار دی، اور اُن کو اِنعام میں ایک قریبی فتح عطا فرمادی۔
﴿سورۃ الفتح، ۱۸﴾
اے ایمان والو !
اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مومن ہو تو سود کا جو حصہ بھی ( کسی کے ذمے ) باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو ۔پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی طرف سے اعلان جنگ سن لو ۔
﴿سورۃ البقرۃ،۲۷۸-۲۷۹﴾
(اے پیغمبرﷺ!) اگر تمہیں یہ حرص ہے کہ یہ لوگ ہدایت پر آجائیں، تو حقیقت یہ ہے کہ اللہ جن کو (اُن کے عناد کی وجہ سے) گمراہ کردیتا ہے، اُن کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا، اور ایسے لوگوں کو کسی قسم کے مددگار بھی میسر نہیں آتے۔
﴿سورۃ النحل، ۳۷﴾
ایک وقت آئے گا جب یہ کافر لوگ بڑی تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔
(اے پیغمبرﷺ!) انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو کہ یہ خوب کھالیں، مزے اُڑالیں، اور خیالی اُمیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، کیونکہ عنقریب اُنہیں پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیا تھی ۔
﴿سورۃ الحجر، ۲-۳﴾
﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾
اور بیشک تمہارے لئے مویشیوں میں بھی سوچنے سمجھنے کا بڑا سامان ہے۔ اُن کے پیٹ میں جو گوبر اور خون ہے، اُس کے بیچ میں سے ہم تمہیں ایسا صاف ستھرا دُودھ پینے کو دیتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہوتا ہے۔
﴿سورۃ النحل، ۶۶﴾