مولانا فضل الرحمان کا دوبارہ بڑا بیان جاری 🛑
میں کیوں لشکر بناؤں، میری صوبائی حکومت جب یہ کہتی ہے کہ ہم پولیس کو استعمال کرکے یہ جنگ لڑ سکتے ہیں فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور عام آدمی کو کہتے ہو لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی آفر تو قبول کرو۔ دہشتگردوں نے بنوں پر تھانوں پر قبضے کیے اور بالآخر پولیس نے اعلان کردیا کہ ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے، لہذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ لکی مروت میں پولیس نے کہا ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے خود لڑیں گے کوئی فوج کا سہارا نہیں لیں گے۔ ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی بلایا اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے اور کوئی ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان
آج سے 30 سال پہلے یہ انٹرویو سنیں!!
پاکستان کے نس نس میں ISI کے interference کا زہر ملا ہؤا ہے!!
بھٹو سے لیں کر نواز شریف تک جرنیلوں نے پاکستان پر مسلّط کرکے استعمال کرکے پھینکا ہے پھر بوقتِ ضرورت دوبارہ مسلّط کیا ہے!!
کہانی آج بھی وہی ہے, بس اس بار عوام انکے ساتھ نہیں!
ذہنی مریض کی تشخیص ہونے کے بعد سے اس نے صرف ایک کام میں بھرپور کامیابی حاصل کی ہے۔
اس مرض کو داخلی اور بین الاقوامی طور پر ثابت کرنا۔
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
سر ضمیر نہیں مانتا کہ اس بندے کو چھوڑ دیا جائے یا اس کے ساتھ بے وفائی کی جائے
سر اس نے اس پاکستان سے کچھ نہیں کمایا کوئی ایون فیلڈ نہیں کمایا
اس کے پاس جو کچھ تھا اس پاکستان میں لگایا وہ باہر سے پاکستان لے کر آیا
عمران خان کو زبردست خراج تحسین