گزشتہ دن توتک میں واقع میرے گھر پر چھاپہ مارا گیا، دروازے توڑے گئے، ملازمین پر تشدد کیا گیا اور موبائل فون، لائسنس یافتہ اسلحہ سمیت دیگر سامان تحویل میں لے لیا گیا۔ توتک سے مظفر قلندرانی جبکہ عبدالقادر قلندرانی کو چند روز قبل خضدار سے اغوا کیا گیا یہ تمام واقعات ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں.
ہم دونوں مغویان کی فوری اور باحفاظت رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں مخالفین کی ایما پر چادر اور چار دیواری کی پامالی ایک سنگین اور ناقابلِ قبول عمل ہے، جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ایسے اقدامات ہمیں اپنے اصولی مؤقف سے دستبردار نہیں کر سکتے.
اسماء جتک نے آج صبح قران پاک ہاتھوں میں لئے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے فریاد کیا تھا کہ سرکار اور سردار ملے ہوئے ہیں اور مجرموں کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں ہورہی۔
چند گھنٹوں بعد اسکے والد کو قتل کردیا گیا ہے۔
یے ہے بلوچ کہ لئے ریاست جو بضد ہے کہ مجھے ماں کہو۔
یہ منصف بھی تو قیدی ہیں
ہمیں انصاف کیا دیں گے۔
لکھا ہےان کے چہروں پر
جو ہم کو فیصلہ دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے۔
یہ منصف بھی تو قیدی ہیں
ہمیں انصاف کیا دیں گے۔
لکھا ہےان کے چہروں پر
جو ہم کو فیصلہ دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے۔
قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
تمہارے ساتھ ہے کون، اس پاس تو دیکھو
سو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو، سو غیرت کو راہ میں رکھ دو۔
#ReleaseYousafQalandrani
الحمدللہ میر یوسف جان کا نام ہمیشہ کی طرح سرخروئی کی علامت ٹہرا، میر یوسف علی کی بازیابی اس امر کا اعلان ہے کہ حق کی راہ میں چلنے والا آخرکار عزت اور وقار سے سرفراز ہوتا ہے
After more than two months of disappearance, my brother Mir Yousaf Qalandrani was finally surfaced on 23 October only to be detained under 3-MPO, without any valid reason or allegation. And the painful truth is that here in Balochistan, even an unjust detention becomes something a family holds onto with gratitude, because at least it means he is alive and no longer erased.
This is what our reality has been reduced to: we are grateful not for justice, not for freedom, not for truth but for the mere confirmation of existence. We thank the state for custody, because the alternative is silence and a grave we are not even allowed to see.
We are thankful to every voice that helped bring him back to light, and now we pray for the next miracle that he comes home, not as a “detainee,” but as a son and a brother who belongs with his family.
میر یوسف قلندرانی کو منظرِ عام پر لا کر تھری ایم پی کے تحت گرفتار کر کے سینٹرل جیل خضدار منتقل کیا گیا ہے۔
میر یوسف قلندرانی 17 اگست 2025 کو کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تھے۔
#yousafaliqalandrani#missingperons