چونکہ مورخ گزشتہ اڑھائی دہائیوں سے یورپی “ ششٹم “ کو نہایت قریب اور باریک بینی سے دیکھ رہا ہے اور ایام کالجیت سے ہوتے ہوئے اور گاہے بگاہے وطن یاترا دوران مادر وطن کے سسٹم کا مشاہدہ بھی رکھتا ہے تو آج قابلی پلاؤ کی ہنڈیا چولہے پر چڑھا کر ایک تقابلی جائزہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے چونکہ ہمارے ہاں چٹ الیکشن پٹ حکومت اور ہر کام عجلت میں ہوتا ہے لہزا سسٹم کا پٹھا عجلتی وجوہات بنیاد پر جلدی بیٹھ جاتا ہے جبکہ یورپی سسٹم کچھ اس طرح ہے کہ پولنگ کا عمل انتہائی سکون سے بھگتایا جاتا ہے جس میں امیدوار تھوڑی دیر صندوقچی کے آگے رقص کرتا ہے اور ساتھ ہی گنڈہ پوری شہد سے محظوظ ہوتا ہے پھر انتخابی نشان کو اچھی طرح چومتا اور چاٹتا ہے جس سے سسٹم کا انگ انگ کھڑا ہوجاتا ہے پھر بیلٹ پیپر کو آہستہ آہستہ کھولتا ہے اور اپنی مہر پیڈ پر ہلکے ہلکے رگڑتا ہے پھر جب سسٹم پوری طرح اتفاق فاونڈری کے گارڈر طرح سخت ہوجاتا ہے تب جاکے اپنا ووٹ صندوقچی تک پہنچاتا ہے اور اس عمل میں تیس چالیس منٹ لگاکر سسٹم کو مطمئن کرتا ہے جبکہ دوسرے پاسے ہمارے ہاں جگہ کے مسائل کسی کے آنے کا ڈر اور عجلت سے ہوئے کام سے نہ سسٹم مطمئن ہوتا ہے اور نہ ہی امیدوار اور ہمارے سسٹم کی خرابی کی جڑ لوہا پاڑ جیسے نیم حکیم ہیں جنہیں کنڈی صاحب نے ایوارڈ سے نوازا تھا اور عمیری جس نے سسٹم کی چولیں ہلا کر رکھ دیں تھیں اسے قید بول دی گئی اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا سسٹم ناکامی جانب بڑھ رہا ہے
بس یہی بنیادی وجہ ہے کہ آج یورپ کا سسٹم آگے ہے اور ہم دن بدن پشاں جارہے ہیں
کل تک پرائیویٹ سکول ماسٹر لیکن آج لندن کے مہنگے ترین علاقہ میں ولا کے اندر بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے اور کوئی یہ سوال پوچھنے والا نہیں کہ ادھاری نسوار لینے والا اور موٹرسائیکل کا پٹرول ختم ہونے پر لما ڈال کے پمپ تک لیجانے والا آج ارب پتی کیسے بن گیا
ہم گوگی پنکی کو روتے رہے
علیم خان صاحب کے پاس self respect نامی کوئ چیز ھے تو اس بیان کے ساتھ استعفیٰ دیں اور حکومت مخالف بینچوں پہ بیٹھنے کا اعلان کریں ۔ حوصلہ کریں ۔ صرف بیان نہ دیں ۔ راوی کنارے لوگ جنکو چونا لگا ھے وہ پچھلے سال سے رو رہے ھیں ۔ اسمبلی کا اجلاس آنے والا ھے۔ دیکھتے ھیں صرف بھڑکیں ھیں یا کوئ استعفی دے کر کشمیری بھائیوں کے ساتھ راوی کنارے رہنے والے متاثرین کے ساتھ بھی محبت اور یک جہتی کا اظہار کریں ۔ سیاست کبھی کبھی کوئ شرم کوئ حیا بھی مانگ لیتی ھے۔
Big day for Pakistan announcement of new provinces is a step in the right direction …. PTI, PPP and PMLn must agree to these reforms … new units are mandatory if we want to save federation…
🚨🚨🚨🚨
شاہزیب خانزادہ کا بلاول زرداری کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ 🖐️🖐️
میں بغیر حلف کہہ سکتا ہوں کہ ’’میں کچھ عرصہ پہلے لاہور گیا تھا، لاہور اور کراچی میں زمین آسمان کا فرق آگیا ہے، بطور کراچی کے شہری مجھے افسوس ہورہا تھا''
#دھاندلی_ماسٹر_پی_پی_پی
تصویر کا تیسرا رُخ یہ بھی ہے کہ اگر سسٹم واقعی ناکام ہوچکا ہے تو آپ پر یہ ذمہ واری پڑتی ہے کہ مستعفی ہوں اور گھر جائیں کیونکہ آپ بھی اسی “ ششٹم “ کا حصہ ہیں چونکہ آپکی گفتگو سے وہ بابا یاد آگیا جو ہال کی پہلی لائن میں نرگس کے مجرہ سے محظوظ ہوکر اگلی سویرے احتجاج میں پہلی لائن میں نعرہ لگا رہا ہوتا تھا “ کنجر خانہ بند کرو “
ڈسکلمیر یہ ذمہ واری اور ذمہ داری چوہدری نثار علی خان والی ہے
اسٹبلشمنٹ کے لئے ہال تالیوں سے گونج اٹھا
سہیل آفریدی نے فرمائش کی کہ تالیاں بجا کر بتایا جائے کہ عمران خان کو کتنا چاہتے ہو پھر ہال میں موجود سٹوڈنٹس نے بتا دیا۔۔۔۔ عمران خان ۔۔۔۔ختم شد
😂
ایکشن کمیٹی کے غنڈے ریاست کے باوردی ملازمین کے ساتھ یہ سلوک کررہے ہیں اور سٹریچر پر پڑے ایک پولیس اہلکار پر خنجروں سے حملے کررہے ہیں
یہ جنگلی جانور انسان کہلانے کے لائق بھی نہیں ہیں جبکہ عمرانی یوٹیوبر انہی درندوں کی حمایت میں مرے جارہے ہیں
مطیع اللہ جان نے رانا ثناءاللہ خان کو ایزی لے لیا تھا لیکن اسے نہیں پتا تھا کہ اس کی لکھی ہی رانا صاحب کے ہاتھوں ہے۔ انہوں نے یوٹوبر صحافی واپس اسی یوٹوب چینل میں واڑ دیا۔ 😂🤣
محمد عرفان وائرل ہوا اس کی سوچ نے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا پسے طبقات کی آواز بنا تو لوگوں نے اس کی مدد کرنا چاہی بہت لوگ اس کی پیسے سے مدد کرنا چاہتے تھے مگر محمد عرفان نے پیسے لینے سے صاف انکار کر دیا وہ کہتا اگر اس کی جیب میں پیسہ آیا تو وہ بدل جائے گا
محمد عرفان پڑھا لکھا نہی ہے کچی بستی کی جھونپڑی میں رہتا مگر اللہ پاک نے اسے سیاسی شعور دیا بات کرنے کا ڈھنگ دیا اس دھرنے میں سب سے وائرل ہو گیا آج انڈیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل نیٹ ورک Lallantop Top نے اسے اپنے سٹوڈیو بلایا مسکین آدمی ہے کہنے لگا چپل اتار دوں ؟ پہلی بار کسی اے سی والی جگہ گیا تو کہتا مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے اسے جیکٹ دی پہننے کو ساری ٹیم نے کھڑے ہو کر ایک منٹ اس کے لیے تالیاں بجائیں عرفان پڑھا لکھا نہی ہے ہندی تک نہی پڑھ سکتا اس نے سن سن کر سیکھا ہےاللہ جب کسی کو عزت دینا چاہے تو اسباب خود پیدا کر دیتا ہے
محمد عرفان کے گھر راہول گاندھی بھی گیا وہ آج پسماندہ طبقات کی آواز بن گیا ہے اس کی مکمل ویڈیو یوٹیوب پر ہے لازمی دیکھیں
گیس لیکیج کو روکنے کے لیے ریگولیٹر کا وال بند کیا جاتا ہے، لیکن اس خاتون نے خوف اور گھبراہٹ میں سلینڈر کو وہیں چھوڑا، اور اپنی جان بچانے کے لیے باہر بھاگ گئیں۔
چونکہ گھر کے دروازے اور کھڑکیاں مکمل کھلی ہوئی تھیں، جس کی وجہ سے سلینڈر سے نکلنے والی گیس اندر بند ہو کر جمع نہیں ہو سکی، اور یہی وجہ ہے کہ بعد میں ہونے والے دھماکے کی شدت بہت کم رہی اور ایک بڑا جانی نقصان ہونے سے بچ گیا۔
یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایسی ہنگامی صورتحال میں حواس قابو میں رکھنا کتنا ضروری ہے۔
دو دن سے بیس بار سے زیادہ یہ تقریر سن چکا ہوں یہ Neha Bora ہے انڈین نیشنل سٹوڈنٹ الائنس کی صدر اور بہت ہی کمال کا بولتی ہے آپ کے پاس تھوڑا وقت تو لازمی سنیں پھر سوچیں ہمارے ملک میں کونسا سیاسی لیڈر کونسا سٹوڈنٹ رہنما ایسی گفتگو کر سکتا ہے
کمال کمال کمال👏