I wonder why Netanyahu is so worried about the Turkish presence in Syria?
Why was he not worried about the Iranian presence for 30 years?
Any thoughts?
عموماً تحریکی شخصیات یا سٹیج کے خطیب کتاب اور درسگاہ سے اس قدر قریب نہیں ہوتے، اور ان کی علمی استعداد و مطالعہ بھی ہمیشہ اُس معیار کا نہیں ہوتا جو ایک عالمِ دین سے مطلوب ہوتا ہے
لیکن علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ اس عمومی تاثر سے بالکل مختلف شخصیت تھے وہ بلا کے ذہین، وسیع المطالعہ اور گہری علمی بصیرت رکھنے والے عالمِ دین تھے۔
ان کی ذہانت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب جیل گئے تو چند ہی ماہ میں مکمل قرآنِ مجید حفظ کرلیا کہیں سے بھی قرآنِ مجید کھول کر آیت تلاوت فرماتے، پھر اسی آیت سے اپنے موقف اور اپنے مشن پر استدلال کرتے، قرآن کو سمجھنے، برتنے اور اس سے استدلال کرنے کا ایک منفرد ملکہ حضرت کو حاصل تھا۔
مجھے خود درسگاہ میں ان کے سامنے زانوئے تلمذ ہونے کا موقع ملا وہاں اندازہ ہوا کہ علوم و فنون پر ان کی گرفت کس کمال درجے کی تھی الحمدللہ! ہم اس نسل سے ہیں جس نے حضرت حیدری شہیدؒ کو جلسوں کے اسٹیج پر بھی سنا اور درسگاہ میں ان سے سبق بھی پڑھا
ایک بار ناگن چورنگی پروگرام میں نعرہ لگانے کھڑا ہوا تو سیدھا مخاطب ہوکر منع فرمایا کہ مسجد میں یہ نعرے نہیں اس پروگرام میں استثناء کی بحث عام مجمع کو بھی ایسی سمجھائ کہ پورا مجمع نحو میر و ہدایہ النحو کا سبق سمجھ کر اٹھا
مجھے لگتاہے کہ ان کے ہم عصر علماء میں بہت کم شخصیات ایسی تھیں جو ان کے علمی مرتبے تک پہنچتی ہوں
بخاری، مسلم یا ترمذی کہیں سے بھی کھول دینا، عبارت کو اسی وقت حل کرنا، اس کے دقائق و نکات واضح کرنا اور پھر پورا سبق طلبہ کے ذہنوں میں اس طرح اتار دینا کہ محسوس ہو جیسے علم گھول کر پلایا جا رہا ہو، یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے جس نے علوم و فنون کو صرف پڑھا نہ ہو بلکہ ان میں کمال درجے کی مہارت بھی حاصل کی ہو
سترہ اگست حضرت علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ کا یومِ شہادت ہے۔ ایک ایسی علمی، تحریکی اور فکری شخصیت، جسے اگر بٹھا کر علمی میدان میں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو بعید نہیں کہ وہ اپنے عہد کے مجددین میں شمار ہوتے، افسوس کہ تنگ نظری، کم ظرفی اور اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدل دینے والے عناصر نے ایسی نابغۂ روزگار شخصیت ہم سے چھین لی۔
شہید چلے گئے، مگر ان کا علم، ان کا اندازِ استدلال، ان کی خطابت اور ان کی یاد بلکہ سب سے بڑھکر انکی پیشن گوئیاں آج بھی زندہ ہیں
اللہ تعالیٰ ہمیں زندہ اہلِ علم کی قدر کرنے، ان کے علم سے فائدہ اٹھانے اور اپنے شہداء کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور حضرت علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ کے درجات بلند فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
آفتاب نذیر
آج محسن نقوی صاحب کے پریس کانفرنس کے بعد
میں مولانا فضل الرحمن صاحب کا یہ کلپ ڈھونڈ رہا تھا بالآخر مل ہی گیا
اب مولانا صاحب کے 15 سیکنڈ کے کلپ کو سنیں
ویسے ہم مولانا صاحب کو سیاست کی یونیورسٹی نہیں کہتے جو کچھ کہا تھا وہی ہورہا ہے ❤️
خطے میں جو صف بندیاں ہورہی ہیں، جو اتحاد بن رہے ہیں اور جو محاذ تشکیل پا رہے ہیں، وہ کسی بھی صاحبِ شعور سے پوشیدہ نہیں رہے، ارض حرمین کے محاصرے کے بعد بڑے پیمانے پر حملے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور محافظ حرمین بھی اپنی دفاعی پوزیشنیں بحر و بر میں سنبھال چکے ہیں
لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ
آخر اس پورے کھیل کا اصل فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
کون ہے جو صیہونی عزائم کے لیے راستے ہموار کر رہا ہے؟
کون ہے جو اپنے اقدامات سے اس پورے خطے کو ایک ایسی آگ کی طرف دھکیل رہا ہے جس کی لپیٹ میں آخرکار مسلم ممالک ہی آئیں گے؟
میری رائے میں اگر ایک فریق کھل کر اپنے شیطانی صیہونی منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے تو دوسرا چیلہ بھی اپنے طرزِ عمل اور حرکتوں سے اسی ماحول کو تقویت دے رہا ہے
میں کل بھی یہی کہتا تھا، آج بھی پورے یقین کے ساتھ اپنی اسی رائے اور نظریے پر قائم ہوں کہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں
ایک کشیدگی پیدا کرتا ہے، دوسرا اس کشیدگی کو جواز بنا کر آگے بڑھتا ہے
ایک ماحول بناتا ہے، دوسرا اس ماحول سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
اور نتیجہ؟
نقصان مسلمانوں کا، تباہی مسلم ممالک کی، اور عدم استحکام پوری امت میں
ان دونوں کا مشترکہ دشمن اور ہدف صرف مسلمان ممالک ہیں اور دونوں کی مثال ان میاں بیوی کی سی ہے کہ جنکی ظاہری لڑائ اور شور کی آوازیں تو آئے دن محلے والے سنتے پر بلا ناغہ ہر سال انکی گود بھی ہری بھری رہتی
جو قوم اپنے محسنوں کو بھی نا بخشے ان سے وفاداری کی امید رکھنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔
قطر، عمان اور سعودی عرب نے کیا کچھ نہیں کیا ؟ اسکے علاوہ ریجن میں رونما ہونے والے دیگر کئی واقعات ہمارے سامنے ہیں
بہت کچھ لکھنے کو دل چاہتا ہے، بہت کچھ چیخ کر اپنی قوم کو بتانے کو جی چاہتا ہے،مگر مجبور ہوں نہیں بتاسکتا ہاں پر اتنا ضرور کہوں گا…
خدارا! اپنی نظریں اصل خطرات پر رکھیں
بلوچستان سے وزیرستان تک جو کچھ ہورہا ہے، اسے محض الگ الگ واقعات سمجھ کر نظر انداز نہ کیجیے، اگر یہ سب ایک بڑی جیوپولیٹیکل کشمکش کا حصہ ہے
پاکستان امتِ مسلمہ کی واحد ایٹمی طاقت ہے اس لیے اس کے خلاف ہر محاذ پر دباؤ، عدم استحکام اور تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے
نا توہمیں گریٹر اسرائیل قبول ہے،نا ہی گریٹر فارس۔
رہی بات "لر و بر" یا "گریٹر بلوچستان" کے خوابوں کی...
یہ داستانیں میں بچپن سے سنتا آرہا ہوں ہر چند سال بعد کوئی نیا نقشہ، کوئی نیا نعرہ اور کوئی نیا چورن بیچنے والا پیدا ہوجاتا ہے
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا، وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ایک بات شاید انہیں ابھی تک سمجھ نہیں آئی...
اس پورے خطے میں اگر کوئی واقعی "گریٹر" ہے تو وہ صرف پاکستان ہے
ہماری پہچان بھی پاکستان ہے، ہماری وفاداری بھی پاکستان ہے، اور ہماری ترجیح بھی صرف پاکستان، پاکستان اور پاکستان ہے
ہاں، اتنا ضرور ہے کہ ہم جیسوں کو اپنی حب الوطنی کا امتحان بار بار دینا پڑتا ہے، اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بھی اکثر وہ لوگ بانٹتے ہیں جنہیں ہمیشہ وقت گزرنے کے بعداحساس ہوتا ہے کہ ہم غلط تھے ...
ہم انہیں دشمن نہیں، زیادہ سے زیادہ نادان سمجھتے ہیں کیونکہ وطن سے محبت نعروں سے نہیں، وقت آنے پر درست سمت میں کھڑے ہونے سے ثابت ہوتی ہے
یہ بیچارے تو آتے جاتے رہتے ہیں جبکہ ہم یہیں تھے یہیں ہیں اور یہیں رہیں گے ان شاءاللہ
آفتاب نذیر
And the same terrorist Tehran Turi
In front of Army Brigade office in Parachinar in recent Muharam
Wanted by the government of Pakistan in numerous killings in Kurram Agency roaming freely tells you about the Govt writ in #Kurram
Another Lebanon in the making
#Parachinar
مسلمانوں میری ایک بات یاد رکھنا نام کے ساتھ چاہیے مفتی لکھا ہو حافظ مولانا شیخ الحدیث یا کچھ اور اگر اصحاب رسول اور امہات المومنین پر بھونکتا ہے تو سمجھ جاؤ کہ رافضی زندیق ہے اور رافضی زندیق ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہوگا دیکھو یہ رافضی کیسے قادیانیوں کی شکست پر بلبلا اٹھا
Israel kidnapped and tortured a one-year-old child in front of his father for 10 hours, burning cigarettes and inserting nails into his legs, in an attempt to extract a false confession under duress.
Israel kidnapped and tortured a baby!
یہ رہی دوسری ویڈیو پاراچنار کی جہاں شیعہ پاک آرمی کے کینٹ ایریا میں بکری اور دفاتر کو جلا رہے ہے
ویڈیو خود زینبیون والو نے شیئر کی ہے
کبھی پاکستان کے mainstream میڈیا پے دیکھی ہے شیعہ کی یہ وارداتیں
پاکستان کا پورا میڈیا ایرانی لوبی کے کنٹرول میں ہے
پاکستانیوں جاگنے کا وقت ہے
الحمدللہ جتنے ایکسپوز یہ آج ہورہے تاریخ میں نا ہوئے
ہمارے بڑے انکا مکروہ اور گھناؤنا چہرہ دکھانے کے چکر میں اپنی جانیں دے گئے۔۔۔۔۔
یااللہ تیرا شکر ہیکہ ہم انہیں ننگا ہوتا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے
تقریبا تمام طبقات کے لوگ حیرت کا اظہار کررہے کہ کتنے دوغلے ہیں یہ "ایران نواز" کہ انہیں اپنے ملک اپنے لوگوں اور اپنی قوم تک کی فکر نہیں؟
آج کئ ڈاکٹرز وکلاء اور دانشوروں کو انہیں لتاڑتا دیکھ کر ایک ایک شہید آنکھوں کے سامنے آگیا۔۔۔۔
اس حقیقت تک پہنچنے کے لئیے شہداء اور اسیروں کی ایک طویل فہرست اور سفر ہے
اللہ کی قسم یہ پوسٹ لکھتے ہوئے بھی آنسو جاری ہیں
آج سب یاد آرہے، بہت یاد آرہے
یااللہ ہمیں اپنی آنکھوں سے مسجد اقصی کی آزادی دکھا اور ارض پاک ملک پاکستان میں شہداء کی برکت سے وہ بہاریں دکھا جسکے لئیے ہمارے جوان بوڑھے بچے اپنی جانیں دے گئے
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
آفتاب نذیر
سجدے میں شکر کیججے پاکستان آزاد ہے انڈین مسلمانوں میں چالیس فیصد اہل تشیع بہت بڑی تعداد ہے مگر چیک کریں جب وہاں چینل پر کہا ہر گھر سے خامنہ ای نکلے گا تو اینکر نے کیسا منہ توڑا آگے سے چسکے نہی
کہاں ہیں وہاں کے راجہ ناصر عباس ، شعیہ علما یزید بھول گیا ؟
🔴 ایران شام کی گولان کی پہاڑیوں پر حملہ کیوں نہیں کرتا
سب سے قریب تر تو شام کی گولان کی پہاڑیاں ہیں جہاں اسرائیلی فوج قابض ہے۔۔۔۔!!
کیونکہ وہاں اسرائیل نے سنی مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا ہے ایران و اسرائیل کا مفاد مشترکہ یے
ایران کی سرگرمیاں مشکوک ہیں اسرائیل دشمن ہے تو گولان کی پہاڑیوں پر قابض اسرائیلی فوج ٹارگٹ کیوں نہیں بن رہی
پوری گلف ممالک کو نشانہ بنا لیا ہے لیکن اسرائیلی فوج پر میزائل نہیں برسانا ۔۔۔۔؟؟
حکومت کو چاہیئے سب سے پہلے ان تمام ذاکرین و علماء سے سیکیورٹی واپس لے، انکا پروٹوکول ختم کرکے انکے وی آئ پی پاسز کینسل کئیے جائیں
گورنر وزیراعظم اور پریزیڈنٹ ہاؤس کی میٹنگز میں جتنے فالتو کے نام ہیں انہیں نکالا جائے
بھرم بازیاں یہ ریاستی پروٹوکول پر کرتے اور گالی بھی ریاست کو؟؟؟
Enough is enough
آفتاب نذیر
طاقت میں اندھے اور امریکی آشیرباد سے درندے بن جانے والے بد بختوں کے ہاتھوں سینکڑوں افغان مسلمانوں کی شہادت کی قیمت پاکستان کی نسلیں دہائیوں تک ادا کرتی رہیں گی۔
افغانستان پر بمباری ہی ایک غلط فیصلہ تھا لیکن اس کو فوجی ٹھکانوں کے بجائے سولین نشانوں تک لے جاناایک ایسا ظالمانہ اقدام ہے جس پر اس لئے چپ رہنا ہے یہ پاکستان کررہا ہے محب الوطنی نہیں بلکہ آئین پاکستان سے غداری اور ایمانی حمیت کے خلاف ہے
عملی طور پر ایسا نہیں ہے بڑے بھائی۔۔۔ امریکہ آج بھی طاقت کا سرچشمہ ہے، امریکہ اور اسرائیل کے پاس آج بھی بہترین فوج ہے، امریکہ قطعی گیدڑ بھبکیاں نہیں لگا رہا بلکہ بہترین جنگی ٹیکنالوجی کی وجہ سے جہاں اس کا ٹارگٹ سیٹ ہوتا ہے، وہ اپنا ٹارگٹ اچیو کر ر رہا ہے، مثال کے طور پر کل کا امریکہ کا ایران کے سب سے بڑے تیل کے ذخیرے پر حملہ ہے۔۔۔ کیا بگاڑ لیا ایران اور اسکے حامیوں نے آج کے دن تک امریکہ کا؟ آج کے دن تک ایران نے ایران ہی کے اندرا جعلی انقلاب کے بعد لا کر بسائے گئے کتنے یہودیوں کو نقصان پہنچایا ہے؟ آج تک ایران نے بھارت، افغانستان میں موجود کتنے امریکی، اسرائیلی، بھارتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے؟
یہ امریکہ اور اسرائیل کے خفیہ تعاون سے وجود میں آنے والی خامنائی خاندان کی حکومت تب تک امریکہ اور اسرائیل کیخلاف گیدڑ بھبکیاں مارتی رہے گی جب تک امریکہ اور اسرائیل ایران کو مکمل تباہ نہیں کر دیتے اور اسرائیل کو ایران میں ایٹمی پاکستان کے سر پر لا کر بٹھا نہیں دیتے۔
جیسے ہی امریکہ اور اسرائیل کو یقین ہو گیا کہ ایٹمی پاکستان پر اب حملہ کرنے کے لوازمات پورے ہوگئے ہیں، تب پراجیکٹ خامنائی کو close کرنے کے اقدامات شروع ہو جائیں گے۔
یہ خامنائی وامنائی اپنی پیدائش لیکر آج تک سے صرف اور صرف یہودی ممالک کے مفادات کے تحفظ اور مسلم ممالک کے مفادات کیخلاف کام کرتے آ رہے ہیں۔
ایران کا کوئی ہمسایہ مسلم ملک بتا دیں جہاں خامنائی کی حکومت نے فسادات نہ کروائے ہوں، فسادات کو سپورٹ نہ کیا ہو۔۔۔۔
لوکیشن ، گولڑہ موڑ ٹو جی تیرہ ۔
اسلام آباد کے شہریوں کی زندگی کنٹینروں کی ذلت سہتے سہتے گزر جائے گی
عجیب کت خانہ لگا رکھا ہے ان ذلیلوں نے۔ کوئی پتا نہیں ہوتا کہ کب کہاں پہ کنٹینر کھڑا کر دیا جائے گا۔
ایک شہر کو تم جتھوں سے آزاد نہیں بنا سکتے۔ جس نے عبادت کرنی ہے چاردیواری میں کرے ، عوام کو ذلیل کرنے کی کیا تک بنتی ہے۔