What a pity!
غریب کو تو مر ہی جانا چاہیئے کیونکہ یہ ملک اب غریبوں کے لیئے بند کردیا گیا ہے۔
ہر طرف رنج اور غم ہے۔
ظلم میں ڈوبا ہر انسان بلک رہا ہے۔
گھناؤنی صورت حال سے دو چار ہے۔
یاللہ تو کب رحم کرے گا؟
اپنے فوجی جوانوں پر بھی مجھے ترس آتا ہے- میری سرحدوں کا دفاع کرتے کرتے ایک کھوکلے نظام کو بچانے پر لگا دیا گیا ہے۔ ملک و قوم کے ساتھ ظلم و بربریت کا طوفان برپا ہے۔
میرے مالک تو کب رحم کرے گا؟
اور وہ غریب پاکستانی بلوچ جس کا بچہ ایمبولینس میں سخت بیمار پڑا زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلاع ہے۔ باپ بے چارہ پکار پکار کر دل کو دہلانے والی آہ و گریا کر رہا ہے، بھیک مانگ رہا ہے کے صرف راستہ کھول دو ورنہ بچہ مر جائے گا۔ پھر کوس رہا ہے بد دعا دے رہا ہے۔
میرے معبود تو کب رحم کرے گا؟
ارباب اقتدار و ارباب اختیار ایک ہی راستہ پر گامزن ہیں
کہ بند کردیں لوگوں کے کان کہ لوگ سن نا سکیں،
نکال دیں آنکھیں کہ لوگ دیکھ نا سکیں،
کھینچ لیں اُنکی زبانیں کہ وہ بول نا سکیں۔
کیونکہ اخبار، ٹی وی، فیس بک، ٹوٹر، انسٹا گرام، سب کو قابو کرنے کے بعد بھی۔۔
حق کی آواز طوفان نوح بن کر اُٹھ رہی ہے۔
یا پھر یہ آتش نمرود ہے جو ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دے گی جس کو صرف ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہی ٹھنڈا کرسکتی ہے۔
اب ابراہیمء ہمیں کہاں ملیں گے؟ میرے خدا اِس خاکی کی توبہ ہی قبول کرلے۔ جو کیا ہے اسکی بھی معافی مانگتا ہوں جو نہیں کیا وہ بھی معاف کردے۔ بس اب حساب مت لے۔
قل اعوذ برب الفلق
اے آسمان کے خدا میں پناہ مانگتا ہوں
اُس شر سے جو دن اور رات کے اندھیرون میں پلتا ہے۔
میرا ملک غاسبوں چوروں اور لٹیروں سے آزادی مانگتا ہے جو پاکستان کو جلا کر راکھ کر رہیں ہیں۔ تیری قسم ہے میرے مولا۔۔۔ تیری مدد سے اِس ہی راکھ پر ہم جناح کا، اقبال کا اور عمران خان کا نیا پاکستان بنا کر دکھا دیں گے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جناب عامر فاروق اور چیف الیکشن کمشنر کو ملک کے مستقبل کی رتی برابر بھی پرواہ ہے تو انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے ۔ یہ ایک معاف کرنے والی قوم ہے بلکہ سر آنکھوں پر بٹھائے گی۔۔۔۔۔اور مالک کون و مکاں تو ہے ہے غفور و الرحیم۔
کبھی کبھی ٹیلیوژن دیکھتے ہوئے، بالخصوص آج کی ایک پریس کانفرنس کے بعد مشتاق احمد یوسفی صاحب مرحوم بہت یاد آئے۔ کچھ دوستوں کی وجہ سے اُن سے ایک نیازمندی تھی اور کراچی میں ہر چند ماہ بعد کھچڑی کی دعوت پر ضرور ملاقات ہوتی تھی۔
وہ اپنے ایک دوست مرزا سے کہتے تھے کہ:
"میاں تم باتیں تو آدمیوں جیسی کرتے ہو لیکن بخدا جذبات تمہارے گھوڑے جیسے ہیں"
اس میں عقل کا ذکر نہیں ہے ورنہ وہ کسی اور جانور سے بھی تشبیہ دے سکتے تھے۔ واللہ عالم بالصواب
میرا بھائی، مردِ مومن @OmarCheemaPTI!
“لوگوں ! ہیر رانجھے کا قصہ کتابوں میں پڑھا اور سنا ہے . لیلا مجنو کا قصہ سنا ہے مگر عشق دیکھنا ہے تو عمر سرفراز چیمہ کا پاکستان اور پاکستان کے سچے و پکے مجاہد عمران خان کے ساتھ دیکھو ! مردِ واحد نے پورے پنجاب کا سر فخر سے بلند کر دیاہے”
The Embassy of Russia in Islamabad is closely following the developments in Pakistan, including the political situation and court decisions. However, we believe that it is up to the Pakistani people to react to and comment on these developments.