𝐀 𝐛𝐚𝐝 𝐝𝐚𝐲, 𝐭𝐡𝐞 𝐰𝐡𝐨𝐥𝐞 𝐣𝐨𝐮𝐫𝐧𝐞𝐲 𝐝𝐨𝐞𝐬 𝐧𝐨𝐭 𝐞𝐧𝐝۔
1. During his thousands of miles of migration, Caribou does not abandon his entire journey due to a severe stormy day.
2. You consider a bad day, a failed attempt the end of the whole story,
3. Storms come and pass, the journey continues, if you do not stop,
4. Stoppers on a bad day leave the journey unfinished, walkers reach their destination.
#KeepMoving
#NeverGiveUp
#Resilience
#Perseverance
#KeepWalking
The smell that comes from a favorite person is not actually perfume. It's the smell of their presence, their words, and their essence.
There is a hidden sense of smell in the heart—and that specific fragrance? It never comes from anyone else. Never. ❤️✨
#Connection#Soulmate #LoveQuotes #Presence #DeepThoughts #HeartToHeart
The coffin of Iran’s late Supreme Leader, Ayatollah Ali Khamenei, has arrived at Tehran’s Grand Mosalla, where it will lie in state ahead of the multi-day public funeral processions.
"A cigarette is a pinch of tobacco rolled in a piece of paper with fire at one end and a fool at the other." 🚬👋
— Robert Mugabe
#Quotes#RobertMugabe#Wisdom#ThoughtOfTheDay
𝗧𝗥𝗔𝗚𝗘𝗗𝗬 𝗜𝗡 𝗕𝗔𝗟𝗢𝗖𝗛𝗜𝗦𝗧𝗔𝗡
At least 24 people have been killed and multiple others injured after a speeding passenger bus traveling from Quetta to Peshawar plunged into a deep ravine in the Danasar area of Sherani district, near the Zhob highway border.
According to rescue officials and Sherani Deputy Commissioner Hazrat Wali Kakar, the driver lost control at a sharp mountainous turn. Women and children are among the victims. A joint rescue operation by Rescue 1122 and security forces is underway, and an emergency has been declared in nearby hospitals.
#Balochistan #Zhob #BusAccident #Quetta #Peshawar #BreakingNews #Pakistan
𝗦𝗽𝗲𝗰𝗶𝗮𝗹 𝗗𝗶𝗽𝗹𝗼𝗺𝗮𝘁𝗶𝗰 𝗨𝗽𝗱𝗮𝘁𝗲:
𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻 𝘁𝗼 𝗛𝗼𝘀𝘁 𝗡𝗲𝘅𝘁 𝗥𝗼𝘂𝗻𝗱 𝗼𝗳 𝗨.𝗦.-𝗜𝗿𝗮𝗻 𝗣𝗲𝗮𝗰𝗲 𝗧𝗮𝗹𝗸𝘀
Pakistan is set to host the next crucial phase of indirect, co-mediated peace negotiations between the United States and Iran.
The high-stakes sessions, which follow recent structural progress made in Doha, are tentatively projected to resume around 𝐉𝐮𝐥𝐲 𝟏𝟖, 𝟐𝟎𝟐𝟔, following the conclusion of the state funeral and national mourning ceremonies for Iran’s late Supreme Leader, Ayatollah Ali Khamenei.
𝐒𝐞𝐜𝐮𝐫𝐢𝐭𝐲 𝐂𝐨𝐧𝐜𝐞𝐫𝐧𝐬: The upcoming venue shift to Pakistan comes amid credible operational intelligence indicating active threats and assassination risks directed against top members of the Iranian delegation, including chief negotiator Mohammad Bagher Ghalibaf.
𝐄𝐧𝐡𝐚𝐧𝐜𝐞𝐝 𝐏𝐫𝐨𝐭𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧: To completely neutralize external interception risks, Pakistan has instituted maximum-tier security protocols. This includes deploying multi-layered defense assets and utilizing Pakistani fighter jets to provide secure, armed air escorts for the incoming Iranian delegation.
#USIranTalks #IslamabadMoU #PakistanDiplomacy
On the sidelines of the official ceremonies in Tehran, Pakistan’s Chief of Army Staff, Field Marshal Syed Asim Munir, held a high-level meeting with Iranian Foreign Minister Seyed Abbas Araghchi, offering his profound condolences and paying tribute to the legacy of the late Supreme Leader.
𝗨𝗔𝗘 𝗧𝗵𝘄𝗮𝗿𝘁𝘀 𝗦𝗼𝗽𝗵𝗶𝘀𝘁𝗶𝗰𝗮𝘁𝗲𝗱 𝗖𝘆𝗯𝗲𝗿𝗮𝘁𝘁𝗮𝗰𝗸𝘀 𝗧𝗮𝗿𝗴𝗲𝘁𝗶𝗻𝗴 𝗙𝗶𝗻𝗮𝗻𝗰𝗶𝗮𝗹 𝗦𝗲𝗰𝘁𝗼𝗿
The UAE Cyber Security Council has successfully blocked a series of advanced cyber attacks aimed at the country’s financial institutions and digital infrastructure. Officials revealed that the coordinated attacks involved sophisticated phishing campaigns and AI-driven malware. Thanks to the nation’s strict national response protocols, the threat was swiftly neutralized with zero disruption to banking services or financial transactions.
#UAE #CyberSecurity #Fintech
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کا شیڈولِ تشییع: نمازِ جنازہ، تدفین اور آخری رسومات کی مکمل تفصیلات
اسرائیل کے میزائل حملے میں جاں بحق ہونے والے ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا، ان کی شہادت کے چار ماہ بعد، تہران کے سب سے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ میں باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس موقع پر ہزاروں سوگواروں کی سنگین لہر اور جمِ غفیر کی موجودگی میں مرحوم کا تابوت مرکز میں لایا گیا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی یہ کثیر المرحلاتی تقریبات 9 جولائی تک جاری رہیں گی، جس کے لیے منتظمین اور ان کے اہل خانہ نے ایران اور عراق میں متعدد پروگراموں کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ ان سات روزہ تقریبات کے پرامن اور باوقار انعقاد کے لیے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی، سکیورٹی فورسز اور دیگر تمام سرکاری اداروں کو ہائی الرٹ پر متحرک کر دیا گیا ہے، جبکہ آخری رسومات میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے غیر ملکی وفود اور مقتدر شخصیات کی تہران آمد کا سلسلہ بھی تیزی سے جاری ہے۔
انتظامی تیاریاں اور تاریخی ہجوم کا تخمینہ
صدرِ ایران مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژهای سمیت اعلیٰ ترین ایرانی حکام نے مشترکہ طور پر عوام سے ان تعزیتی تقریبات میں بھرپور اور تاریخی شرکت کی اپیل کی ہے۔ تہران میں تمام تر انتظامات کی نگرانی کرنے والے پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ کے مطابق، آخری رسومات کے دوران دارالحکومت میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ یہ تعداد دو کروڑ کے ہندسے کو بھی چھو سکتی ہے۔
اس بے پناہ اجتماع کے پیشِ نظر حکام نے زائرین کی سہولت اور مہمان نوازی کے لیے قائم ہزاروں موکب (خدمت مراکز) اور استقبالیہ کیمپوں کی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے، جبکہ 10 لاکھ سے زائد بیرونی زائرین کی عارضی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔ مزید برآں، تہران کے مرکزی حصوں میں انسانی سیلاب کو منظم رکھنے اور آمد و رفت بحال رکھنے کے لیے ایک خصوصی ’اربن کوریڈور‘ (شہری راہداری) پلان بھی نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔ تہران میں ان تمام عملی انتظامات کی کلیدی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب کی ’سپاہِ محمد رسول اللہ‘ ونگ کے سپرد کی گئی ہے، جسے حکومت اور دیگر تمام ریاستی اداروں کی مکمل معاونت حاصل ہے۔ انتظامی کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ان تقریبات کی وسعت، غیر معمولی لاجسٹکس اور سکیورٹی تیاریوں کا پیمانہ اس نوعیت کا ہے کہ ماضی کی کسی بھی تاریخی تقریب سے اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
جانشینی کا سوال اور امامتِ جنازہ کا علامتی ابہام
حالیہ سکیورٹی حالات کے تناظر میں، تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران کے اگلے ممکنہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں ذاتی طور پر شرکت کریں گے یا نہیں۔ اسی طرح، علی خامنہ ای کے دیگر صاحبزادوں اور اہل خانہ کی ان تعزیتی تقریبات میں موجودگی کے حوالے سے بھی ابھی تک صورتحال کافی مبہم ہے۔ سفارتی اور عسکری ذرائع کے مطابق، اگر مجتبیٰ خامنہ ای ان تقریبات میں شرکت کا فیصلہ کرتے ہیں، تو اس حوالے سے میڈیا یا عوام کو معلومات کسی عام ذریعے سے فراہم نہیں کی جائیں گی، بلکہ اس کا باقاعدہ اعلان صرف رہبرِ انقلاب کے سرکاری دفتر (بیتِ رہبری) یا پھر مسلح افواج کی اعلیٰ کمان کی جانب سے ہی جاری کیا جائے گا۔
یہ تمام تر ابہامات ایک ایسے ہولناک اور حساس پس منظر میں جنم لے رہے ہیں جہاں چند ماہ قبل ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملے میں نہ صرف ایرانی رہبرِ اعلیٰ نشانہ بنے، بلکہ ان کے خاندان کے کئی قریبی افراد بھی جان کی بازی ہار گئے تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں علی خامنہ ای کے داماد، ایک پوتا، ایک صاحبزادی اور خود مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔
دوسری جانب یہ امر بھی تاحال پردۂ خفا میں ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا۔ شیعہ مذہبی روایات، بالخصوص مراجعِ تقلید کے حلقوں میں، نمازِ میت پڑھانے والی شخصیت کا انتخاب محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ گہری علامتی اور سیاسی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای طویل روپوشی یا غیر حاضری کے بعد اچانک عوامی منظرنامے پر ابھرتے ہیں اور جنازے کی امامت کرتے ہیں، تو اس کے بڑے سیاسی معانی اخذ کیے جائیں گے جو مستقبل کی قیادت کا واضح اشارہ ہوں گے۔ تاہم، علی خامنہ ای کی وصیت کے مندرجات سرکاری طور پر سامنے نہ آنے کے باعث فی الحال اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
1
ندگی صرف ایک ہی بار ملتی ہے۔
اس لیے وہی کام کرو جو تمہارے دل کو خوشی دے،
اور اُن لوگوں کا ساتھ اختیار کرو
جن کی موجودگی تمہارے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دے۔