جب کبھی مجھ کو غمِ دہر نے ناشاد کیا
اے غمِ دوست تجھے میں نے بہت یاد کیا
قید رکھا مجھے صیاد نے کہہ کہہ کے یہی
ابھی آزاد کیا، بس ابھی آزاد کیا
ہائے وہ دل مجھے اُس دل پہ ترس آتا ہے
تُو نے برباد کیا جس کو نہ آباد کیا
خمار بارہ بنکوی
وضو کریندیاں گِٹے گوڈے گل گئے
پر اندر وضو نہ ہویا
میں میں دے وِچ میں مَری تے
میں دا تُوں نہ ہویا
ھُو ھُو کردیاں عمر گزر گئی
پَر مَن وِچ ھُو نہ ہویا
ساڑاں کُلی میں والی
جے میں وِچ تُوں نہ ہویا۔
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
داغ دہلوی