خواجہ آصف صاحب بتانا پسند کریں گے کہ بحیثیت وزیرِ دفاع آپ اُنہیں واپس لانے کے لیے کیوں گئے تھے؟ طالبان سے مذاکرات کے لیے جو جرگہ بھیجا گیا تھا، اُن کی فہرست جاری کی جائے کہ اُن میں پاکستان تحریکِ انصاف سے کون کون شامل تھا اور انہیں کس کے کہنے پر طالبان سے مذاکرات اور دوبارہ بسانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟
میانوالی جیل میں قیدملک عادل خان بازئی کی حراست میں مزید 15 دن کی توسیع — قابلِ تشویش اور انسانی حقوق کے خلاف اقدام
ممبر قومی اسمبلی ملک عادل خان بازئی، ان کے بھائی ملک خوشدل خان بازئی اور ان کے ایک مہمان کو گزشتہ 15 دن سے میانوالی جیل میں عملاً نظر بند رکھا گیا ہے، اور اب ان کی حراست میں مزید 15 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف انتہائی تشویش ناک ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔
زیرِ حراست افراد کو مناسب خوراک، ضروری روزمرہ اشیاء اور بنیادی سہولیات تک مکمل رسائی نہیں دی جا رہی، جبکہ اہلِ خانہ اور وکلاء سے ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد ہے۔ اس طرزِ عمل سے شفافیت، قانونی تقاضوں اور انسانی وقار کے بنیادی اصولوں پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
#PTIofficial
پہلے تو کہ گیا تھا کے انویرومنٹ پر ایوارڈ ملے گا اب یہ پروجیکٹ اپنی چھت اپنا گھر تو عمران خان کی حکومت کا پروجیکٹ میرے خیال یہاں پر بھی دونبریان @AzmaBokhariPMLN
وزیر اعلی پنجاب نے نا صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے لئے اعزاز حاصل کیا ہے،37 سالوں سے چلنے والے ان ایوارڈز میں اس مرتبہ ۱۰۰ پراجیکٹس میں سے پہلے نمبر پر اپنی چھت اپنا گھر آیا ہے،جس کا اعلان بین الاقوامی طور پر کیا جارہا ہے
#ApnichatApnaGhar#UNHabitat
🚨🚨 نور الحق قادری تحریک انصاف کا سینیٹر...
بھتیجا عدنان قادری تحریک انصاف کا منسٹر....
دونوں سہیل افریدی کے ضلعے کے ہیں اور دونوں ہر احتجاج سے پہلے غائب ہو جاتے ہیں👇👇
🚨 پی ٹی آئی کے دیرینہ ساتھی سابقہ ٹکٹ ہولڈر چوہدری اسد ایاز گوندل کے دارے منڈی بہاءالدین میں سادہ لباس میں ملبوس افراد کے ہمراہ پولیس کی بھاری نفری کا ریڈ ملازموں کو حراساں کر کے سی سی ٹی وی کیمرے بند کروا کر توڑ پھوڑ کی گئ ان اوچھے ہتھکنڈوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں,
بھاگنے کی عادت تو پرانی ہے، ہر مشکل وقت میں اپنے کارکنوں کو آگے کر کے خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور یارک ٹول پلازہ سے واپس جاتے ہوئے کارکنوں کو کہہ رہے تھے کہ دفعہ 144 نافذ ہے، اب ضلعی انتظامیہ کا نوٹیفکیشن سب کے سامنے ہے۔ دفعہ 144 ڈی آئی خان کے مخصوص علاقوں میں مخصوص اوقات کے لیے نافذ تھی، یارک ٹول پلازہ پر نہیں.
بڑے افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی قیادت اپنے ہی کارکنوں کو بے وقوف بنانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو چلانے والا ہی بھگوڑا ہے, ہمیشہ کہتا ہوں کہ ناچنے والے گھوڑے میدان میں نہیں دوڑتے-
اس قدر ننگے جھوٹ پر آپکو عاصمہ شیرازی کو روکنا چاہیے تھا، اُنکی اصلاح کرنی چاہیے تھی۔
جولائی 2022 میں عمران خان کی حکومت نہیں تھی.
PDM نے طالبان سے مزاکرات اور واپسی کی اجازت دی جس کے وزیر اعظم شہباز شریف تھے۔
عاصمہ جی حسب عادت جھوٹ بولتی رہی اور آپ سُنتی رہی۔
میدان چھوڑ کر بھاگنا عمران خان سے اور اپنی عوام سے غداری ہے۔ پختونخواہ حکومت چھوڑنا یا اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
تحریک انصاف کی پختونخواہ حکومت کسی نے تحفہ میں نہیں دی کہ ہاتھ سے جانے دیں۔ بلکہ یہ مینڈیٹ وہاں کی عوام کی امانت اور عمران خان کا آخری مضبوط قلعہ ہے۔ اس کی حفاظت ہم پہ فرض ہے۔
عوام نے ہمیں استعفے دینے اور میدان سے بھاگنے کیلئے نہیں نظام کے اندر رہتے ہوئے جمہوری انداز میں مقابلہ کرنے اور عوام کی خدمت کرنے کیلئے ووٹ دیا ہے۔
پہلے بھی استعفے دینے اور اسمبلیوں کے توڑنے سے تحریک انصاف پہ اور اسکے کارکنان پہ مصیبتوں اور تکالیف کے پہاڑ ٹوٹے اور آج تک ہمارا لیڈر جیل میں ہے۔
تحریک انصاف کو پختونخواہ حکومت اور اسمبلیون سے باہر دیکھنے کا مخالفین کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دینگے ۔ آخری گیند تک مقابلہ کریں گے۔
تحریک انصاف کی پختونخواہ حکومت بھی برقرار رہے گی اور تحریک انصاف اسمبلیون میں بھی مضبوطی سے موجود رہے گی اور اس فارم 47 حکومت کا مقابلہ بھرپور انداز میں جاری رکھے گی۔ انشاء اللّٰہ
نصر من اللّٰہ و فتح قریب
ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر یہ گورنر راج/ایمرجنسی لگاتے ہے یا سہیل آفریدی کو نااہل کرتے ہے تو ہم تمام اسمبلیوں سے استعفے دے کر نظام سے نکلے گے۔ اسد قیصر
اس کا کیا مطلب ہے مطلب کچھ بھی کس کا اکاؤنٹ ہے یہ صوبے مین انارکی پہلا رہا ہے کیا یہ سچ ہے اگر سچ ہے شوائد کہا ہے روکیں اس کو @OfficialDGISPR@Markhorr313