🔴افغانستان کی اسلامی امارت کے اعلیٰ عہدیدار خالد زردان نے کہا کہ پاکستان کا وزیرستان کا علاقہ افغانستان کا حصہ ہے۔
"وزیرستان افغانستان کا ایک حصہ ہے۔ وہاں رہنے والے لوگ بھی ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ ایک زمانے میں ہمارے درمیان زبردستی خاردار تاریں کھینچ دی گئی تھیں۔"
د کافرې پښتونخوا، پښتون کافر دے
قتل عام يې دے روا، پښتون کافر دے
دہشتگرد ہو یا ریاست، پختونوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ایک طرف گڈ اور بیڈ دہشتگرد پختونوں کا خون بیدردی سے بہاتے ہیں تو دوسری جانب جب عوام اسکے خلاف پرامن جدوجہد کا راستہ اپناتے ہیں تو ریاست جلاد بن کر یہی عمل دہراتی ہے۔ پختونوں کو اس پر بھی تقسیم کرلیا جاتا ہے کہ صوبہ وفاق پر اسکی ذمہ داری ڈالتا ہے تو وفاق صوبے کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ خیبر میں پولیس اور ایف سی کی جانب سے نہتے عوام پر گولیاں برسانا شرمناک اور افسوسناک ہے۔ پختونوں کو دیوار سے لگا کر انکو خطرناک ردعمل پر مجبور کیا جارہا ہے۔ آج خیبر میں تین پختون نوجوانوں کو ناحق قتل کیا گیا ہے اور ان کے قتل میں صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت دونوں برابر کی شریک ہے۔ پختونوں کیلئے مسلم لیگ کا قیوم خان ہو یا پی پی آئی کا گنڈا پور دونوں کے رویئے ایک جیسے ہیں۔ اے این پی جرگہ منتظمین سے اظہار یکجہتی کرتی ہے۔
جب تم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہو تو تمہیں ہر زمانے میں غلاموں کی دو اقسام نظر آئیں گی: ایک وہ جو مجبور ہو کر غلام بنے اور شکست خوردہ تھے، اور دوسرے وہ جنہوں نے غلامی سے محبت کی۔ مثال کے طور پر، امریکہ میں غلامی کے دور میں غلام دو قسموں میں تقسیم تھے:
1. گھر کے غلام: یہ غلام اپنے آپ کو اعلیٰ تصور کرتے تھے کیونکہ انہیں گھر میں رہنے کی سہولت ملتی تھی، وہ اپنے آقاؤں کے بچا ہوا کھانا کھاتے اور ان کے پرانے کپڑے پہنتے تھے۔
2. میدان کے غلام: یہ غلام کھیتوں میں دن رات سخت مشقت کرتے تھے اور ظلم و ستم کا شکار ہوتے تھے۔
جب بھی میدان کے غلام آزادی کے لیے بغاوت کرنے کی کوشش کرتے تو گھر کے غلام، جو اپنے آقاؤں کے فائدے میں ہوتے تھے، ان کے خلاف کھڑے ہو جاتے۔ یہ گھر کے غلام اپنے آقاؤں کو بغاوت کی خبریں پہنچاتے اور اس کے نتیجے میں آقاؤں کو موقع ملتا کہ وہ بغاوت کو کچل سکیں اور میدان کے غلاموں کو سخت سزائیں دیں۔
یہ سب کچھ گھر کے غلام اس لیے کرتے تھے کیونکہ ان کے لیے بچا ہوا کھانا اور پرانے کپڑے آزادی سے زیادہ قیمتی تھے۔ یہی لوگ ہر دور میں آزادی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔
British rulers created 3 circular arrangements to deal with Pashtuns: Durand Line; the then N-W.F.P & Tribal Areas;& the merger of S.Pakhtunkhwa in British Balochistan to keep them divided.The same formula was adopted by Pakistan.Use of religion further cemented it.@husainhaqqani
I'd like to express my gratitude to District Mardan's outstanding Social Media Team who produced this excellent video, which showcases our unwavering commitment to serving our nation from 2008 to 2013. Rest assured, if our people place their trust in us again, we will strengthen these services even more in order to re-empower our dear nation.
Introduce a little anarchy upset the established order everything become chaos ..... I am an agent of chaos ooh you know about chaos ... Its fair 😉
(A dialogue from English film joker)
#imrankhanagent_of_chaos
خدائی خدمتگار آرگنائزیشن کی جانب سے آج نوشہرہ کے مختلف سکولز میں مقیم سیلاب زدگان میں امدادی پیکجز تقسیم کئے گئے جس میں خوراکی سامان، بستریں،کپڑے اور بچوں کے خوراک کا سامان شامل تھا۔
#KKO | #FloodsInPakistan