زندگی کے آخری سانس تک تحفظ ختم نبوتﷺ تحفظ ناموس صحابہؓ کی جنگ لڑتے رہیں گے
ان شاءاللہ
میری تو نوکری لگ گئی الحمدللہ
کام دفاع ختم نبوت
تنخواہ شفاعت نبوی ﷺ
دنیا میں فرعون سے بھی بدتر حکومت نون لیگ کی موجودہ شہباز شریف والی حکومت ہے جب سستا کرنا ہوتا ایک دو روپے مر مر کر کرتے جب مہنگا کرنا ہوتا تو بارہ پندرہ روپے کرتے ہیں پیٹرول 310 روپے لیٹر کر دیا ہے ابھی عالمی منڈی میں مہنگا نہی ہوا اور ایک دن میں یہ مہنگا کر بھی چکے تین ہفتے سستا پیٹرول تھا وہ مہنگا بیچتے رہے
ان پر روز ویسے لعنت بھیجیں جیسے شیطان پر بھیجتے ہیں
پھول نگر جلسہ گاہ کی مقام سے سترا پنجاب والی گاڑی مولانا فضل الرحمان صاحب کے بینر اتار رہا ہے
ہم وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر یہ آپ کے حکم سے نہیں کر رہے تو ان کے خلاف پوری ایکشن لیا جائے اور یہ بینر دبارہ اپنی جگہ لگا دیا جائے
اور اگر آپ کے حکم سے ہو رہا ہے تو یاد رکھو جمعیت علمائے اسلام کے اس طوفان کے سامنے تمہارے یہ تنکے رکاوٹ نہیں بن سکتے
اس پر زیادہ سے زیادہ شور ڈالیں ورنہ یہ بہت بڑی واردات ہے چھ مہینے والی سزا تو پہلے نون لیگ نے مقرر کی تھی اب تو یوں سمجھ آ رہا کہ ایک دفعہ 201یونٹ استعمال کرنے پر ہمیشہ آپ کا بل زیادہ آئے گا
اس کی وضاحت آنا بہت لازم ورنہ غریب مکمل تباہ ہے
جتنا چاہے رو لیں، جتنی چاہے ایک دوسرے پر تنقید کر لیں جب تک ہم ان حالات میں اپنے درمیان وحدت اتفاق اور اتحاد پیدا نہیں کریں گے۔
تب تک ہمارے علاقے اسی طرح تباہ ہوتے رہیں گے۔
امیر جےیوآئی بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع صاحب
#JusticeForBalochistan
پیٹرول کے ایک لیٹر پر 118روپے ٹیکس ہے ، بجلی کے بل پر چودہ قسم کے ٹیکس ہیں فکسڈ ٹیکس فاضل ٹیکس مزید ٹیکس سیلز ٹیکس ویلتھ ٹیکس اور جانے کیا کیا مدور لکھے ہوتے ہیں اس کے بعد سلیب کا ظالمانہ ترین نظام چھ مہینے کی کڑکی ہے گیس کے بل پر فکسڈ ٹیکس بجلی بل سے زیادہ ہے ان طریقوں سے حکومت عوام کا پیسہ لوٹ رہی ہے
دوسری طرف ایف بی آر ٹیکس کا ہدف دو دفعہ بدلنے کے باوجود حاصل نہی کر سکا ہے نون لیگ نے سوائے عوام کو بیلن میں دینے کے کوئی اور معاشی کارنامہ ابھی تک نہی کیا ہے
بے شرمی کی انتہا ھے،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ھورھی ھیں اور یہاں ایل ڈالر فی بیرل بھی بڑھنے پر فوری اضافہ کردیا جاتا ھے لیکن کم ھونے پر ریلیف دینے کا کوئی رواج نہیں۔
جب پیٹرول کی قیمت میں پچھلے ہفتے کمی کی تب کہا تھا کہ یہ ابھی بھی چالیس روپے لیٹر زیادہ ہے ان کی اتنی تعریفیں مت کریں ورنہ تیل سستا نہی ہو گا تب راتب خوروں نے بہت گالیاں دیں
اب پچھلے ہفتے کے دوران سات فیصد تیل مزید سستا ہوا مگر شہباز شریف نے عوام کو رلیف دینے سے صاف انکار کر دیا جبکہ راتب خور کہتے تھے کہ پیٹرول کی دوران جنگ بڑھی قیمت عارضی ہے
کیا کسی نے چیک کیا ہے متنازعہ ٹیلی کام قانون بنانے والی آئی ٹی کی وزیر محترمہ شزا فاطمہ کے شوہر کس سیکٹر اور فیلڈ میں کام کرتے ہیں ؟
وزیراعظم صاحب آپ کو تو پتہ یہ کونسے وزیر کے گروپ کا حصہ اور کیسے کس کی کہنے پر وزیر بنائی گئی ہیں ( وہ وزیر خواجہ آصف نہی ایک اور چہیتے اور نکمے ترین وزیر ہیں )
آئئ ٹی سیکٹر ایک بہت بڑا اور حساس سیکٹر ہے وزیر اعظم صاحب اسے غیر منتحب مخصوص سیٹوں والوں کے حوالے مت کریں
شہباز شریف کے ایران جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی مارکیٹ کریش کر گئی ہے پاکستان نے ناممکن کو ممکن کیا ہے اس وقت تیل کی قیمت وہی جو ایران جنگ شروع ہونے کے وقت تھی پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت اب جنگ سے پہلے والی کرنی چاہیے سب مہنگائی کا تعلق پیٹرول کی قیمت سے ہوتا ہے
غریب کی زندگی مشکل، حکومت معاشی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی۔
چھ ماہ میں معیشت ٹھیک نہ کی تو میرا نام شہباز شریف نہیں، دعوے!
آج کے حالات میں عام آدمی معمولی تنخواہ پر کیسے گزارا کرے:
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان
پنجاب کا ترقیاتی بجٹ سات سو ارب کاٹ کر پاکستان پیپلرز پارٹی کو سندھ میں پنجاب جتنے ترقیاتی بجٹ کے علاوہ ساڑھے آٹھ سو ارب بینظیر انکم سپورٹ کی سیاسی رشوت بھی دے دی ہے
چاچو کا اقتدار قوم کو بہت مہنگا پڑ گیا ہے
اس وقت راتب خوروں فائدے لینے والے درباریوں کی ڈبل ڈیوٹی لگی کہ بار بار لکھیں بجٹ میں تنخواہ داروں کو بہت بڑا رکیف مل گیا ہے یہ ایک چاٹ ہے جس میں کس تنخواہ پر کتنی چھوڑ دی گئ وہ درج ہے جتنی زیادہ تنخواہ اتنا رکیف مگر ڈھائی لاکھ تک کوئی رلیف نہی ہے مطلب نوے فیصد سرکاری ملازمین کو کوئی فائدہ نہی ہے
نون لیگ کی حکومت الیٹ کے لئے رحمت ہے اب بجٹ میں ٹیکس چھوٹ دیکھ لیجئے
جن کی ماہانہ تنخواہ ڈھائی لاکھ ان کو ٹیکس پر 3 فیصد چھوٹ دی ہے مگر جن کی تنخواہ ساڑھے تین لاکھ ان کو 5 فیصد ٹیکس کی چھوٹ دی ہے
جن ساڑھے چار لاکھ تنخواہ ہے ں کس 6فیصد ٹیکس کی چھوٹ دی ہے
اگر تنخواہ چھ لاکھ سے اوپر ہے تو ان پر دس فیصد سرچارج ختم کر دیا ہے
وزیروں ججوں کے لئے یہ خصوصی پیکج ہے
وزیروں کی تنخواہ نو سو فیصد بڑھاتے ہیں اور سرکاری ملازمین کی سات فیصد اور پھر رو رو کر تقریر کرتے کہ عوام کی مشکلات کا بہت احساس ہے
ابھی راتب خور سات فیصد کے قصیدے لکھیں گے
نواز شریف جیسے بڑے لیڈر کو گلگت کمپین پر لے جانے والے اب جواب دیں کیا بلاول نواز شریف سے زیادہ مقبول ہیں ؟
پنجاب کی ترقی کا ماڈل الیکشن کا سلوگن بنانے والے اب جواب دیں کیا سندھ کا ترقی کا ماڈل جیت گیا ؟
سوشل میڈیا کمپین راتب خوروں کے حوالے کرنے کے یہی نتائج نکلتے ہیں اب راتب خور کہہ رہے کہ نون نے قربانی دے دی تو جناب قربانی ہی دینی تھی تو کمپین بھی ویسی ڈیزائن کرتے تاکہ یہ بہانہ تو رہتا کہ ہم نے اسے سیریس ہی نہی لیا
نوازشریف کا ماڈل ترقی ، خوشحالی اور عوام کے لیے سہولت تھا وہ اسی پر حکومت کرتا اسی پر ووٹ مانگتا تھا مگر شہباز شریف کا ماڈل الیٹ کو نوازنا طاقت ور کے آگے جھکنا اور غریب کو لوٹنا اور بے رحمی سے غریب کی کمر توڑنا ہے
نواز شریف نے تو اپنے ماڈل کے مطابق کمپین کی مگر لوگوں کے سامنے شئباز شریف کے چار سال تھے