میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں ”یا موت یا آزادی“ جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں! عمران خان
#pakistan@ImranKhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
Imran Khan is the unifying figure - with popular support from Karachi to Kashmir, from Bahawalpur to Bannu, and from Gawadar to Gilgit - that Pakistan needs at this time when division and hatred is being sown by those who seek to strengthen their hold on power.
#ImranKhanForPakistan
بلوچوں، پشتونوں، بنگالیوں اور افغانیوں کے بعد اب کشمیریوں سے نفرت کا وقت شروع ہے۔ ان پر گھناؤنے الزامات لگانے میں بدقسمتی سے پنجاب کے دانشور ایک بار پھر پیش پیش ہیں۔
ہم پاکستان کیلئے درد رکھنے والے لوگ ہیں ہم ان لوگوں کی طرح نہیں ہے جو مشکل وقت میں جٹ طیارہ پکڑ کر پاکستان سے بھاگ جاتے ہیں
شوکت خانم کی اولاد واقعی عظیم ہیں ❤️
Asim Munir has committed so many killings and atrocities he has shut the door of going back to a normal survival. His options are more of the same fascist life or a sudden exemplary death. Chances of both options are almost same. Pakistan will stay in this tortured state of existence until the sacred hidden hand of the Almighty moves !!!!!
عاصم منیر کے ہاتھوں، عوام پر بربریت اور خون ریزی کا سلسلہ جاری ہے اور شرمناک بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ اب آزاد کشمیر تک جا پہنچا ہے۔
ایک طرف خون بہا، دوسری طرف پورے ملک میں مینڈیٹ پر ڈاکہ
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو#ذہنی_مریض
یہ غدار حکومت جب آئین کے خلاف جائے گی اور انسانی حقوق کو پامال کرے گی تو پھر احتجاج اور مزاحمت کی اجازت تو ہمارا آئین ہمیں دیتا ہے، ہم مزاحمت کرتے رہیں گے،
علیمہ خان
تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو GB میں اپنے مینڈیٹ کو بچانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئیے۔
کے پی حکومت اور لیڈرشپ کو کردار ادا کرنا چاہئیے۔ جیتی ہو نئی نشستیں چپ چاپ بیٹھ کر کھو دینا عوام اور عمران خان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
عوام نے ووٹ دیا۔ اب لیڈرشپ کا کام ہے توانا آواز اٹھائے
کشمیریوں نے وحشت کا پہلا جھٹکا برداشت کرلیا اور ہر شہر سے ہزاروں کی تعداد میں نکل آئے ہیں۔ اب عاصم منیر کی پسپائی پتھر پر لکیر ہے۔ آمریت کی کُل وقعت بس اتنی ہی ہوتی ہے۔ ابھی آپ کچھ معجزے ہوتے دیکھیں گے۔ عسکری اکاونٹس کشمیریوں کو بھارتی ایجنٹ ٹھہرانے کا سلسلہ روک دیں گے۔ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی “خفیہ آڈیوز” کا سلسلہ رک جائے گا۔ خفیہ عسکری اثاثے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیں گے۔ کچھ عسکری کٹھ پتلی سیاستدان میڈیا پر بڑے مثبت بیانات شروع ہوجائیں گے۔ عین ممکن ہے ایک آدھ مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی جائے۔
لیکن عاصم منیر کے لیے ایک بری خبر ہے۔ اب کشمیری مذاکرات کا والا دانہ نہیں چگنے والے۔ انکے مطالبات کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنا پڑے گا۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے، لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی۔ اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر ”حقیقی آزادی“کے لیے کھڑا ہونا ہے! عمران خان
#pakistan @ImranKhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
غلطیاں اور غلط فہمیاں
ماہرنگ بلوچ کو گرفتار کیا گیا تو غلط فہمی ہوگئی کہ عالمی تنظیموں اور حکومتوں کا دباؤ فوج کو انہیں رہا کرنے پر مجبور کردے گا۔ یہی غلط فہمی ایمان مزاری کی گرفتاری کے وقت بھی ہوگئی، کہ ان کے روابط اور ان کا اثر جس سوسائٹی میں ہے وہ ان کے لیے کوئی نا کوئی رستہ نکال لے گی۔ ایسا نہیں ہوسکا۔ اس غلط فہمی پر افسوس ہے۔
یہ سب غلط فہمیاں بے سبب بھی نہیں ہیں۔ جانے پہچانے وکیل افضال عظیم پاہٹ کی سزا معطل ہوگئی ، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کی سزا معطل نہیں ہوسکی۔ کیونکہ انکی وکلاء برادری نے ان کے لیے کوئی نا کوئی رستہ نکال لیا اور عدالتیں بھی ایک متحرک وکیل رہنما کے لیے ڈھیلی پڑ گئیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ذاتی طور پر اس چیز سے کوئی اختلاف ہے۔ جسے جو گنجائش ملتی ہے لینی چاہیے۔ ہم لوگ جنگجو نہیں ہیں جو ماریں کھاتے رہیں۔
غلط فہمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ غلط فہمی بھی ہم میں سے کئیوں کو ہوگئی تھی کہ جس طرح کی حمایت جوبائیڈن کی جانب سے فوج کو میسر ہے شاید شاید شاید ٹرمپ کے آنے سے وہ میسر نہ رہے گی۔ کیونکہ امریکی الیکشن مہم میں ٹرمپ نے بار بار نہی جنگیں شروع نہ کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ نے خطے میں جنگ نہ لڑنی ہو تو امریکہ کو پاکستانی فوج کی کوئی ضرورت نہیں اور امریکی حمایت نہ ہو تو فوج پاکستان پر آدھا گھنٹہ بھی قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتی۔
غلط فہمیوں کے سلسلے دراز تھے ، دوطرفہ تھے ۔ ابتدائی دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے فوج کو اور عاصم منیر کو خوفزدہ کرنے کے لیے عمران خان کی رہائی کے مطالبوں پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹس بھی کیں۔ یہاں ٹرمپ کو غلط فہمی تھی کہ شاید انہیں ڈرانے کے لیے کوئی بہت زیادہ دباؤ ڈالنا پڑے گا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ وہ دروازہ ہے جہاں کنڈی نا کھڑکا سوہنیا سدھا اندر آ والا حساب ہے۔
اب اسی طرح فوج غلط فہمیوں کا ٹرک لادے عمران خان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ ملک ٹھیک کردیں والی غلط فہمی نکل گئی، سرمایہ کاری لے آئیں گے والی غلط فہمی نکل گئی ، ریڈ لائن والی غلط فہمی اڑ گئی ، عوام ہمارے ساتھ ہیں والی غلط فہمی جاتی رہی ، الیکشن مینج کرنے والی غلط فہمی جاتی رہی۔ ہم مقبول ہیں والی غلط فہمی نکل گئی۔ اب ایک خبط عظمت بچا ہے۔ وہ نہیں جاتا۔ سطحی لوگوں کا تو بالکل بھی نہیں جاتا۔ لیکن ایک دن ایک آخری غلط فہمی ہے وہ ضرور جاتی رہے گی۔
غلط فہمیوں کا یہ سلسلہ صرف ہمارے اور فوج تک محدود نہیں تھا۔ بڑے بڑے سقراط ، بقراط ، دانشور ، تبصرہ پاڑ ایسے ننگے ہوئے کہ ہمیں شرم آنے لگی ، انہیں نہیں آئی۔ جب انہیں مزید برہنہ دیکھا تو گھن آنے لگی۔ جو فوج کے بندے بتائے جاتے رہے وہ جلاوطن ہیں ، وہ اذیتیں بھگت رہے ہیں ، ان پر ہر طرح کی سختیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ جو فوج کے مخالف اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بتائے جاتے رہے وہ فوج کی بغلوں سے چپکی ہوئی میل ثابت ہورہے ہیں۔
تھوڑا سا فرق ہے ، ہماری غلط فہمیاں نکلتی جارہی ہیں لیکن ہم انکی غلط فہمیاں نکالے جارہے ہیں۔
#PTIFoundationDay - Memorable moments of journey
During 2013 Election Campaign, I had co-produced a documentary titled “Once Upon a Time in Pakistan”; its hightlighting the overwhelming love, respect & admiration for Imran Khan. Check it out here, hope you like it!