@Khurram_zakir قتل کرنے کے ب��د بھی مولوی نے مزہب کارڈ کا استعمال خوب کیا اخے میت کو جلدی دفناتے ہیں تاکہ مولبی کے کرتوت نہ کھل جائیں ۔ مسجدوں میں ریپ پر توہین مذہب نہیں لگتی کیا ؟؟ وہاں ریپ جائز ہے ؟ یا وہ مذہبی عبادت گاہ نہیں جس کی بے حرمتی ہوتی ؟؟
@SalehMughal@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@FIA_Agency سادہ الفاظ : آپ ، آپ کے بچے اور آپ کی فیملی کوئی بھی محفوظ نہیں نہ لٹیروں سے ، نہ ڈاکوؤں سے نہ محافظوں سے
نہ آپ محفوظ نہ آپ کی سیلف رسپیکٹ محفوظ ۔
اچھے وقتوں میں شہری آزاد ہوا کرتے تھے
@jazz_worldpk جاز والوں سے گزارش ہے کہ کسٹمرز کو کال کرکے پریشان نہ کیا کریں کبھی جاز EFU کبھی لائف انشورنس ، کبھی ہیلتھ انشورنس اور کبھی کسی پیکج کے لیے کالز کرنا شروع ہوجاتے ہیں بھئی پلیز ہماری ان کالز سے جان چھڑائیں ہم تنگ ہیں آپ لوگوں کی ان کالز سے ہمیں کوئی انٹرسٹ نہیں
@Khurram_zakir ایسے لوگوں کی وجہ سے انسان زندگی میں لوگوں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتا ہے پھر نقصان اصل حقدار کا ہوتا ہے جو مجبور بھی ہوگا تو ایسے لوگوں کی وجہ سے کوئی یقین ہی نہیں کرتا ۔ میرے ساتھ بھی ایک بار ایسا ہوا تھا پھر دوبارہ کسی پر اعتماد نہ کرسکا
@Khurram_zakir آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی اس گھٹن زدہ معاشرے میں جہاں زومبیز کی کثرت ہے وہیں انسانیت پر یقین اب بھی قائم ہے اور سلامت رہیں آباد رہیں اور ہمیشہ ایسے ہی ان پسے ہوئے لوگوں کی دعائیں لیتے رہیں
ابھی تہجد کے وقت اچانک نیند سے چاگ گیا پہلے لگا شائید قدرت نے نماز کے لیے اچانک جاگایا ہے پھر موبائل پر ایک مسیج پر نظر پڑی تو یاد آیا کہ ایک بہن نے کل صبح سے ایک مسیج کیا ہوا تھا دن بھر کے کام کاج میں یاد نہ رہا
اب ��چانک آنکھ کھلی تو سمجھ آئی کہ قدرت نے اس کام کے لئے اچانک نیند سے بیدار کیا ہے
اس وقت ہمارے ساتھی انسانوں کو ہماری بہت ضرورت ہے جو جسکا کر سکیں ضرور کر دیں آپ کا تھوڑا سا مجبور انسان کے لئے بہت ہوتا ہے
زندگی لمبے چوڑے فلسفوں کا نام نہہں ہے جس ملک میں ہم ہیں یہاں انسان تکلیف میں ہیں تو جتنی آپ کسی انسان کی تکلیف کم کر سکیں بس کر دیں
ورنہ زندگی گزر رہی ہے گزر تو جاے گی لیکن زندگی کا مزہ یہی ہے کہ اردگرد انسانوں کے ساتھ جڑے رہیں اور انکا خیال رکھیں یہی عبادت ہے
@MujahidNaama اس سب دھندے کے دو مرکزی کردار ہیں بے روزگار وکیل اور بھوکے مولبی ۔ انہوں نے پھر بھوک کے مارے سائبر کرائم کے کچھ کارندے ساتھ ملا لیے ۔ تو یہ تکون نیکسس کا جال بنا گیا اور اپنا پیٹ پالنا شروع ہوا ۔ اس بزنس سے پہلے یہ سب بھوکے تھے پھر دولت کی ریل پیل ہوگئی ایک بھی گاہک کروڑوں کا
@SalehMughal 1 کروڑ 50 لاکھ ادا کرکے سیدھے قانونی طریقے سے بھی بھیج سکتے تھے ۔ اتنا خرچہ کرکے انہیں غیر قانونی اور جعلی طریقہ کیوں اپنانا پڑا ، عجیب سی بات ہے
@AsjadBukhari1 پاکستان میں آپ اگلے دن زندہ سلا��ت ہوں گے یا نہیں، آپ کے یا آپ کے بچے کے ساتھ کیا ہوچکا ہوگا اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی ۔ آپ کسی جتھے یا گینگ کے ہتھے چڑھ چکے ہوں گے کچھ پتہ نہیں ۔
یہ مہذب معاشروں میں جو زندگی ہے یہ تو عام پاکستانی شاید سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایسے ممالک بھی ہیں